انوکھا ملک

دنیا بھر میں عموماً خواتین ایسے جسم کو خوبصورت مانتی ہیں جو موٹاپے سے پاک ہو، وہ اپنے آپ کو سمارٹ یا ”اوور سمارٹ“ رکھنے کے لئے ڈائٹنگ بھی کرتی ہیں تاہم مغربی افریقہ کے ملک موریطانیہ میں معاملہ بالکل ہی الٹ ہے، یہاں کے مرد خواتین کو موٹا تازہ دیکھنا چاہتے ہیں۔وہ صرف اسے خوبصورت لڑکی مانتے ہیں

جو موٹی ہو، جو لڑکی موٹی نہیں ہوتی، اس کی شادی مشکل سے ہوتی ہے، کوئی مرد اسے دیکھنا تک گوارا نہیں کرتا، چاہے وہ مرد خود نہایت دبلا پتلا ہی کیوں نہ ہو۔ موریطانیہ مجموعی طور پر بدترین خشک سالی اور خوراک کی کامیابی کا شکار ہے، اسے دنیا کے انتہائی غریب ممالک میں شامل کیا جاتا ہے تاہم یہاں کے مرد قحط سالی اور خوراک کی کمیابی کی ساری مصیبت خود بھگت لیتے ہیں البتہ خواتین اور لڑکیوں کے لئے دنیا جہان کی خوراک کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق یہاں کی 20 فیصد خواتین خوب موٹاپے کی شکار ہیں جبکہ مجموعی طور پر آدھی سے زائد خواتین ضرورت سے زیادہ وزن کی حامل ہیں۔ ان کے برعکس صرف 4 فیصد مرد موٹاپے کا شکار ہیں جبکہ 20 فیصد کا وزن زائد از ضرورت ہے۔ اس رسم کا ایک دلچسپ پہول یہ بھی ہے کہ جو خاتون جس قدر موٹی ہوگی، اسے اسی قدر زیادہ امیر گھرانے کی بیٹی سمجھا جائے گا جبکہ دبلا پن غربت کی علامت قرار پاتا ہے۔ چنانچہ یہاں کی خواتین بھی نہیں چاہتیں کہ ان کی بیٹیوں کو کوئی غریب سمجھے، وہ خوفزدہ ہوتی ہیں کہ ایسا نہ ہو، ان کی بیٹیاں ساری عمر کنواری ہی بیٹھی رہیں۔ چنانچہ یہ مائیں بچیوں کو اونٹ کا دودھ، زیتون کے تیل میں ڈبوئی روٹی اور بکرے کا گوشت خوب استعمال کراتی ہیں۔ ہر لڑکی کو روزانہ 14 ہزار سے 16 ہزار حرارے لینا پڑتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.