انوکھی تحقیق کے حیران نتائج

کراچی ( ویب ڈیسک) محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان 150سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔طویل عمری کی حد کی پیش گوئی میں خون کے خلیوں اور یومیہ اٹھتے قدموں کا شمار پر منحصر ہے۔امریکی جریدے ’’سائنٹیفک امریکن ‘‘ کے مطابق خطرناک عوامل کو زندگی سے نکال دیا جائے توہم طویل عمری پاسکتے ہیں یعنی ہم اس وقت تک زندہ رہ سکتے ہیں

جب تک خوش قسمتی کے واقعات اور جینیات کے امتزاج سے ہم سرطان، دل کی بیماری یا کسی حادثے سے نہیں جان بحق ہوتے ۔ محققین کے مطابق متناسب ڈھانچے اور میٹابولک نظام میں توازن بحال کرنے کی جسمانی صلاحیت وقت کیساتھ سرد پڑ جاتی ہے۔ لہذازندگی میں کچھ دباؤ میں کمی کرنے سے عمرکے دورانیے کو 120 سے 150سال تک پھیلاسکتے ہیں۔یہ تحقیق طبی جریدے نیچر میں شائع ہوئی۔اس مطالعے کے لئے سنگاپور میں قائم گیرو نامی کمپنی کے ایک محقق ٹیموتھی پیرکوف اور ان کے ساتھیوں نے امریکہ، برطانیہ، اور روس کے تین گروپوں میںعمر رسیدگی کو دیکھا۔ مستحکم صحت سے انحرافات کا جائزہ لیتے ہوئے، انہوں نے خون کے خلیوں کی گنتی میں تبدیلیوں اور یومیہ جتنے وہ قدم اٹھاتے ہیں کا شمارکرتے ہوئے عمر کے لحاظ سے ان کا تجزیہ کیا ۔مطالعے کے مطابق اگر واضح خطرات ہماری جانوں کو نہیں لیتے ہیں تو مشکلات سے نکلنے کی صلاحیت میں کمی ہماری جانوں کو لے بیٹھتی ہے۔رپورٹ کے آغاز میں کہا گیا کہ فلم ’فیم‘ میں اداکارہ آئرین کارا پر فلمائے گئے گیت کے یہ بول’’میں ہمیشہ زندہ رہوں گی‘‘ کا مقصد لمبی عمر نہیں بلکہ انتقال کے بعد شہرت تھا تاہم طویل عمری کئی گوشوں خاص کر ٹیکنالوجی سیکٹر میں بھی دلچسپی کا محور رہا ۔ سلی کون ویلی میں،لافانیت موضوع اکثر زیر بحث رہا ہے۔جیسے کسی اسمارٹ فون کے آپریٹنگ سسٹم کو اپ گریڈ کرنا ہو ایسے ہی ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں نے موت کے مسئلے کو حل کرنے کے منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی

جو ڈوب گئی ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موت کے سامنے بندھ نہیں باندھا جاسکتا تو طویل عمری کی حد تو ہوگی۔ڈیوک یونیورسٹی سنٹر کی ڈائریکٹر ہیدر وہٹسن جو اس تحقیق کا حصہ نہیں ان کا کہنا ہے سوال یہ کہ زیادہ سے زیادہ طویل العمری کیا ہے جو کسی انسانی پیچیدہ نظام کے ذریعے گزر سکتی ہے، اگر سب کچھ واقعتاً ٹھیک اور تناؤ سے پاک ماحول ہو۔ مطالعے کے نتائج بنیادی طور پر عمر بڑھنے کی رفتار کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو زندگی کی حدود کو طے کرتے ہیں۔عمر بڑھنے کے ساتھ بلڈ سیل اور قدموں کا شمار ایک جیسا تھا۔ بیماری سے ماوراء کچھ عوامل مشکلات کے عمل کے بعد جسم میں خون کے خلیوں کو واپس لانے یا قدموں کو مستحکم سطح پر لانے میں کمی پیش گوئی کی طرف لے جاتے ہیں۔ جب محققین ماسکو ، بفیلو اور نیویارک میں تھے تو انہیں معلوم ہواکہ اگر ان تمام رکاوٹوں کو ختم کیا جائے جو موت کا سبب بنتی ہیں تو انھیں 120 سے 150 سال کی حد معلوم ہوجائے گی۔ 1997 میں جین کالمنٹ کی ریکارڈ طویل عمر ہے جو فرانس میں 122 سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔محققین کے مطابق عمر کے ساتھ، توہین یا بے عزتی پر ردعمل مستحکم معمول سے تیزی سے دور لے جاتا ہے، جس کی بحالی میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ وہٹسن کہتی ہے کہ ایک صحتمند نوجوان تیزی سے جسمانی ردعمل پیدا کرسکتا ہے لیکن ایک بوڑھے شخص میں ہر عمل سست روی کا شکار ہوجاتا ہے اور وہ جواب دینے میں قدرے سستی دکھائی دیتے ہیں ۔بلڈ پریشر اور بلڈ سیل کے شمار کی ایک صحت مند رینج ہے، تاہم قدموں کی گنتی انتہائی ذاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیرکوف اور اس کے ساتھیوں نے متغیرات کا انتخاب کیا جو خون کے حساب سے بہت مختلف ہے۔مصنفین نے معاشرتی عوامل کی طرف بھی اشارہ کیا ،35 سے 40 سال کی عمر میں کا دورانیہ اکثر ایسا ہوتا ہے جب کسی کھلاڑی کا کیریئر ختم ہوجاتا ہے یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اس عمر میں جسمانی خدوخال میں واقعی کچھ تبدیلی ہوسکتی ہے۔ ابدیت کے رازوں کو کھولنے کی خواہش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انسانوں کی موت سے آگاہی نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *