انکشافات پر مبنی خصوصی سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) کورونا وائرس کے مُدعے پہ لڑے گئے انتخاب میں ٹرمپ کی وبائی بلا سے نمٹنے کی غیرذمہ دارانہ حکمت عملی کے باعث جس دندان شکن شکست کی پیش گوئی کی جارہی تھی، نتائج اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ امریکی رائے دہندگان اس پہ منقسم نظرآئے۔ آدھے لاک ڈاؤن کے مخالف کہ

نامور کالم نگار امتیاز عالم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ بیروزگاری انہیں ہڑپ نہ کرجائے اوریوں زیادہ تر محنت کش اور چھوٹے کاروباری لوگ ٹرمپ کو ووٹ دیتے نظر آئے۔اور آدھے سے زیادہ وہ جو وبا سے نمٹنے کے لیے سخت احتیاطی تدابیر کے داعی تھے، وہ بائیڈن کی حمایت پر تلے دکھائی دیئے، بڑے شہروں میں بالعموم بائیڈن کو اور نیم شہری و دیہی علاقوں میں ٹرمپ کو ووٹ پڑے۔ لیکن اگر کورونا سے آئی معاشی بدحالی بیچ میں نہ آن ٹپکتی تو ٹرمپ کو بائیڈن جیسا کمزور امیدوار شکست نہ دے پاتا۔ حلقہ ہائے انتخاب اور آبادی کے بدلتے طبقاتی اور نسلی رنگوں کا جائزہ لینے والے ماہرین امریکہ کے انتخابی نتائج پہ چکرا کر رہ گئے ہیں۔ جو ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دیتے تھے، وہ ریپبلکن کو ووٹ دیتے پائے گئے اور جو سفید فام بزرگ ٹرمپ کو ووٹ دیتے تھے، ان کا انتخاب بائیڈن ٹھہرا۔ غرض یہ کہ ووٹنگ کا کوئی نظریاتی و معاشی اور طبقاتی ڈھب بن نہیں پا رہا۔بس ایک کنزرویٹو اور لبرل کی عمومی تقسیم ہے اور دونوں بڑی جماعتیں ارب پتیوں اور بڑے مفادات کے گروہوں کی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ باندی بنی ہوئی ہیں۔ اور دونوں پارٹیوں کو ان کی مقتدر قوتیں کنٹرول کرتی ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے جس طرح سوشل ڈیموکریٹ برنی سینڈرز کو میدان سے نکلوایا اور بائیڈن کو آگے کیا، اس سے ظاہر ہے کہ نئی نسل کے ریڈیکل عناصر کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی میں گنجائش نہیں رہی۔بائیڈن کے صدر منتخب ہونے سے امریکہ اپنے روایتی عالمی امپیریل رول کی جانب پلٹ جائے گا، واشنگٹن اتفاق رائے پھر سے جھاڑ پھونک کر چمکایا جائے گا۔ نیٹو، ڈبلیو ٹی او، ڈبلیو ایچ او اور یواین کے ادارے پھر سے رونق افروز ہوجائیں گے۔ امریکہ چین تجارتی جنگ ڈبلیو ٹی او کے قاعدے میں لڑی جائے گی۔ ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل بحال ہوگی، ٹرمپ کا فلسطین پر اسرائیلی عرب نسخہ پٹ جائے گا۔ افغانستان سے امریکی فوجی اچانک رفوچکر نہیں ہوں گے جبکہ انڈو پیسیفک (Indo-Pacific) ریجن میں امریکہ، بھارت، جاپان، آسٹریلیا مل کر چین مخالف محاذ کو مضبوط کریں گے اور سی پیک کی مخالفت بڑھ جائے گی۔ البتہ انسانی حقوق کے ایجنڈے کے پھر سے فعال کیے جانے پر کشمیر میں جاری بھارتی استبداد پر بائیڈن ضرور کچھ توجہ دیں گے۔ٹرمپ کی شکست کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی کی جانب سے ٹرمپ کی کھلم کھلا حمایت کے باعث مودی کو حزیمت اٹھانا پڑی ہے۔ اب تک امریکی انتخاب کے نتائج تو سامنے آچکے ہوں گے اور بات اس پر ختم ہوتی ہے کہ امریکہ میں ووٹ کی عزت کا بھرم قائم رہا اور ٹرمپ کو نکالا ہے تو صرف امریکہ کے رائے دہندگان نے۔ میاں نواز شریف کو معلوم پڑے یا ناں پڑے، ٹرمپ ضرور جانتے ہیں کہ انہیں کس نے اور کیوں نکالا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *