انکی خود پر اس پابندی کی وجہ کیا تھی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار شکیل فاروقی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔جنت البقیع، مدینہ منورہ کا وہ عدیم النظیر قبرستان ہے جس کے ریگ زاروں میں لاتعداد قدسی نفوس اور اسلام کے درخشندہ ستارے آسودہ خاک ہیں، جہاں مدفون ہونے کی خواہش ہر مسلمان اپنے دل میں رکھتا ہے۔

صحابہ کرام علیہم السلام یہاں دفن ہونے کی دعائیں کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروق ؓ بالالتزامیہ دعا مانگا کرتے تھے: (یا اللہ! مجھے اپنے راستے میں جان دینا نصیب فرما اور مجھے اپنے رسول ؐ کے شہر میں موت عطا فرما۔)صحیح بخاری کی ایک حدیث مبارکہ کے مطابق: ’’جنت البقیع سے دس ہزار صحابہ کرامؓ کے ساتھ ستّر ہزار لوگ قیامت کے دن اٹھیں گے، جن کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے، اور یہ لوگ بلا حساب و کتاب جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘حضورؐ کے ارشاد گرامی: ’’جو شخص مدینہ طیبہ میں آخری سانس لے سکتا ہو، اسے مدینہ ہی میں انتقال کرنا چاہیے، کیوں کہ جو شخص مدینہ میں انتقال کرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا‘‘ (ترمذی شریف) کے پیش نظر امام مالکؒ بن انس مدینہ منورہ سے قدم باہر ہی نہیں نکالا کرتے تھے۔اس بابرکت شہر خموشاں کا اصل نام ’’ بقیع الغرقد‘‘ ہے۔ غرقد ایک کانٹے دار درخت کو کہتے ہیں۔ یہ درخت چونکہ بقیع میں بکثرت موجود تھے لہٰذا اس جگہ کو بقیع الغرقد کہا جانے لگا۔ ہجرت مدینہ کے بعد رسول اللہؐ نے ارادہ فرمایا کہ مسلمانوں کے لیے کوئی مناسب جگہ تدفین کے لیے متعین ہوجائے۔ اسی مقصد کے پیش نظر آپﷺ اس جگہ (بقیع الغرقد) تشریف لائے تو ارشاد فرمایا ’’مجھے اس جگہ کا حکم دیا گیا ہے‘‘ (مستدرک امام حاکم)۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی تدفین کے لیے اس جگہ کا انتخاب خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔جنت البقیع کی فضیلت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ

سرور دوعالم،نبی ٔ محتشمؐ اس (قبرستان) کی زیارت کیا کرتے اور یہ دعا مانگا کرتے ’’اے اللہ بقیع الغرقد والوں کی مغفرت فرما۔‘‘ (مسلم شریف)صالحین امت کی ہمیشہ یہ تمنا رہی ہے کہ انھیں جنت البقیع میں دفن ہونے کی سعادت نصیب ہو۔ کتنے ہی افراد نے اس نیت سے ہجرت کی اور حیات مستعار کے لمحات پورے ہونے کے انتظار میں برسوں مدینہ طیبہ میں قیام کیا۔ یہاں تک کہ اپنی جان جان آفریں کے سپرد کرکے جنت البقیع میں آسودہ خاک ہوئے۔پیش نظر کتاب ’’خفتگان جنت البقیع‘‘ ایسے ہی چند خوش نصیب افراد کے تذکرے پر مشتمل ہے، جنھیں جنت البقیع میں آسودہ خاک ہونا نصیب ہوا۔ ابتدا میں فاضل مصنف و محقق حاجی فقیر محمد سومرو نے مدینہ منورہ کی خصوصیات، جنت البقیع کا مختصر تعارف اور احادیث طیبہ میں وارد جنت البقیع کے فضائل پر گفتگو کی ہے۔ اس کے بعد اس کتاب کو درج ذیل گیارہ مشہد (ابواب) میں تقسیم کیاہے:1۔ خاندان نبوتؐ کے چشم و چراغ 2۔ حضور انورؐ کی کلیاں، 3۔ حضور انورؐ کی ازواج مطہرات 4۔حضور انورؐ کے صحبت یافتہ 5۔ ائمہ دین کی قبریں 6۔جگر گوشہ رسولؐ، 7۔جوانان حرہ 8۔ داماد مصطفیٰ ؐ 9۔ حضور انورؐ کی رضاعی والدہ11۔ حضور انورؐ کے ستارے 11۔ حضور انورؐ کی پھوپھیاں۔ علاوہ ازیں جنت البقیع میں مدفون صحابہ کرام و صحابیات، مشائخ نقشبند اور علمائے اہلسنت کا تذکرہ کیا ہے جب کہ آخر میں جنت البقیع میںمدفون علمائے دیوبند کے ناموں کی فہرست دینے پراکتفا کیا گیا ہے، جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جنت البقیع میں مدفون علمائے دیوبند کے مفصل تذکروں پر پہلے ہی کتابیں موجود ہیں۔مجموعی طورپر اس کتاب میں240 مدفونین جنت البقیع کا تذکرہ ہے۔ جنت البقیع میں مدفون مشائخ نقشبند اور علمائے اہلسنت پر غالباً یہ پہلی کتاب ہے۔ فاضل مصنف نے خفتگان جنت البقیع کا تذکرہ کرتے ہوئے بعض شخصیات کو حاصل امتیازات، انفرادیت یا اوّلیت کے ضمن میں قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔