انہوں نے بعد میں محکمے اور ملک کے ساتھ کیا واردات ڈالی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) آپ کو یاد ہو گا کہ 2009ء میں لاہور میں دن دہاڑے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر اٹیک ہوا تھا۔ ٹیم تو خیر سے بچ گئی لیکن شرپسند عناصر اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب رہے۔ اس کے بعد کئی سال تک باہر سے کوئی کرکٹ ٹیم پاکستان نہیں آئی۔

پنجاب کے اس وقت کے آئی جی کی کوتاہی ظاہر تھی۔ انہیں کوئی سزا دینے کے بجائے ڈی جی پولیس فائونڈیشن لگا دیا گیا۔ موصوف نے اسلام آباد کے ایف الیون فور سیکٹر میں ایک پبلک پارک میں سے ایک رہائشی پلاٹ نکالا اور اپنے نام الاٹ کرا لیا۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ پبلک یوٹیلٹی ایریا مثلاً پارک، مارکیٹ یا ہسپتال کی حیثیت کسی نقشے میں بدلی نہیں جا سکتی۔ مفاد عامہ کے کیس لڑنے والے معروف وکیل اسلم خاکی سپریم کورٹ تک گئے تب کہیں اس پلاٹ پرسے موصوف کا قبضہ چھڑوایا جا سکا۔نیشنل پولیس فائونڈیشن کا اولین مقصد پولیس کے جوانوں کے خاندانوں کی ویلفیئر ہے۔ ای الیون سیکٹر میں کل بارہ سو ستاون (1257) پلاٹ پولیس فائونڈیشن کے تھے۔ ان میں سے صرف 67 لوئر سٹاف کو ملے۔ باقیوں پر افسروں نے قبضہ کر لیا اور یہ بات افسوسناک ہے کہ اپنے ہی کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل مکان کے حق سے محروم کر دیے گئے۔ ایک عجیب سی روایت ڈال دی گئی ہے کہ جو افسر سال چھ مہینے سی ڈی اے یا ہائوسنگ اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن پر کام کر لے وہ پلاٹ کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ حکومتیں اس چور در وازے کو اپنے منظور نظر افسروں کو نوازنے کیلئے استعمال کرتی رہی ہیں۔ کیا یہ افسر دوسرے دفاتر میں کام کرنے والوں سے زیادہ لائق ہیں یا یہ عام افسروں سے دوگنا کام کرتے ہیں؟ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہائوسنگ اتھارٹی میں افسروں اور سٹاف کی تنخواہیں باقی سرکاری ملازمین سے زیادہ ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو یہ چور دروازے بند کرنے چاہئیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ایف 14 اور ایف 15 سیکٹرز میں ایسے لوگوں کو بھی پلاٹ الاٹ ہوئے ہیں جوبدعنوانی یا بدسلوکی (Misconduct) پر سزا پا چکے ہیں۔ اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ وکلا اور صحافی گورنمنٹ سرونٹ نہیں ہیں جبکہ ہائوسنگ اتھارٹی کا مینڈیٹ صرف سرکاری ملازمین کو چھت فر اہم کرتا ہے۔اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو پلاٹ الاٹ کرنے کی بدعت اسلام آباد کے جی تیرہ سیکٹر سے شروع ہوئی۔ میں خود اس سیکٹر میں رہتا ہوں۔ یہاں متعدد ججوں کو پلاٹ ملے مگر کوئی جج یہاں نہیں رہتا۔ شریعت کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج ہمارے سیکٹر میں رہائش پذیر تھے۔ اب وہ وفات پا چکے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ہائوسنگ اتھارٹی یا سی ڈی اے پلاٹ کیوں دے جبکہ ان کی تنخواہیں اور پنشن سرکاری افسروں سے زیادہ ہیں۔ اور دوسرا مسئلہ مفادات کے ٹکرائو (Conflict of interest) کا ہے۔ جسٹس کارنیلئس کو صدر ایوب خان نے ڈنر پر مدعو کیا تھا۔ انہوں نے معذرت کر لی‘ دلیل ان کی یہ تھی کہ صدر مملکت حکومت کے سربراہ بھی ہیں۔ حکومت کے کئی کیس میں سنتا ہوں۔ صدر ایوب خاں کے ساتھ میری تصویر بھی اخبار میں آ جائے تو یہ معیوب بات ہوگی۔ اپنے پچھلے سال کے ایک فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی کہا تھا کہ عدلیہ کو انتظامیہ کی طرف سے کوئی احسان (Favour) قبول نہیں کرنا چاہئے۔حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ متعدد افسروں نے دو پلاٹوں کے علاوہ PHA سے نیم ساختہ(Structure Grey )گھر بھی لئے ہیں۔ میرے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہے کہ پولیس فائونڈیشن نے اپنے کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کو اگنور کر کے افسروں میں بندربانٹ کیوں کی۔ نیب کو یہ بھی پتہ لگانا چاہیے کہ کس پولیس افسر نے کتنے کمرشل پلاٹ لئے اور ہاں F-14 اور F-15 میں گریڈ سترہ سے نیچے کے سرکاری ملازمین کیلئے پلاٹ کیوں مختص نہیں کئے گئے؟وسائل کی بندربانٹ بدعنوانی بلکہ ظلم کے زمرے میں آتی ہے۔ کوئی بھی معاشرہ کفر پر قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم انسانی معاشروں کا جانی دشمن ہے۔ حکومتی پالیسی جو وضع کی جا رہی ہے وہ صاف شفاف ہونی چاہیے اور میرٹ اس کا بنیادی ستون ہونا چاہیے۔