ان دنوں سینیٹر بننے کے لیے پاکستان میں کیا ریٹ چل رہا ہے ؟

کراچی (ویب ڈیسک) صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی نے کہا ہے کہ 2018ء سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ پر عدلیہ آج بھی نوٹس لے سکتی ہےزیرسماعت مقدمہ کو صدارتی آرڈیننس میں شامل کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے، آئینی ترمیم میں ناکامی پر صدارتی آرڈیننس لانا حکومت کا اپنے چہرے پر گندا پانی پھینکنا ہے،

وکلاء کا چیف جسٹس کے چیمبر میں جاکر اٹیک کرنا،توڑ پھوڑ اور اسٹاف کو مغلطات دینا غلط تھا اس پر شرمندہ ہوں۔وہ نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں پی ٹی آئی کے رہنما ولید اقبال اور سابق صدر سپریم کورٹ بار بیرسٹر کامران مرتضیٰ بھی شریک تھے۔ولید اقبال نے کہا کہ سینیٹ انتخابات قریب آنے کے ساتھ ارکان اسمبلی کی قیمتیں لگنا شروع ہوگئی ہیں، بلوچستان میں سینیٹر بننے کی قیمت 40سے 70کروڑ تک چل رہی ہے،ہارس ٹریڈنگ میں شامل وزیرقانون خیبرپختونخوا سے استعفیٰ لے لیا گیا ،اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کا سینیٹ الیکشن سے تعلق نہیں ہے۔کامران مرتضیٰ نے کہا کہ سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی آرڈیننس سپریم کورٹ کی رائے سے مشروط ہے، حکومت انتخابی اصلاحات کا جامع پیکیج لائے ہم ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، سینیٹ الیکشن میں پیسے اور ڈنڈے والے دونوں گند کو نکالنے کی کوشش کی جائے،وکلاء کے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے دفتر پر اٹیک پر شرمسار ہوں۔صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی نے کہا کہ زیرسماعت مقدمہ کو صدارتی آرڈیننس میں شامل کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے، آرٹیکل 226میں واضح ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے علاوہ تمام انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوں

Comments are closed.