ان لوگوں کی اصل “مجبوری” کیا ہوتی ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) آج کل کورونا کا زور ہے اور جن تحفظی ایکسرسائزوں پر سختی سے عمل کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں ان میں ماسک پہننا، سماجی فاصلہ رکھنا اور بار بار ہاتھوں کو صابن سے دھونا ہے۔ نامور کالم نگار لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔

تقریباً دو ماہ پہلے مجھے ایک دوست نے پوچھا کہ کیا ان کورونائی ایام میں کسی بیٹے یا بیٹی کی شادی کی جا سکتی ہے کہ اگر شادی کی ان رسومات کا اہتمام نہ بھی کیا جائے جو پاکستان میں سفید پوش طبقہ کرنے کا عادی ہے تو کیا کم ترین مہمانوں کے ساتھ نکاح کی رسم ادا کرنے کی سفارش کی جا سکتی ہے؟…… میں یہ سن کر سوچ میں پڑ گیا کہ کیا جواب دوں اور کیا نہ دوں تو ان کو کہا کہ اس سوال کا بہتر جواب کوئی ڈاکٹر صاحب (یا ڈاکٹر صاحبہ) ہی دے سکتے ہیں۔ تاہم میں نے اپنے طور پر ایک صحافی خاتون سے یہی سوال پوچھا تو ان کا جواب تھا: ”کیا اس نکاح کو اتنی دیر تک ملتوی نہیں رکھا جا سکتا کہ جب کورونا کی ویکسین تیار ہو جائے؟“…… میں نے کہا اگر بالفرض ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو؟ ان کا اگلا فقرہ تھا: ”اس سوال سے مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لڑکی کے والدین اپنی کسی ”مجبوری“ کی پردہ پوشی کرنا چاہ رہے ہیں۔ ان کو کہیں کہ اگر وہ مجبوری آن ہی پڑی ہے تو ایک پل کی دیر بھی نہ لگائیں۔ کورونا کا علاج تو شائد آنے والے دوچار برسوں میں بھی نہ نکل سکے لیکن یہ نکاح اگر دوچار ماہ بھی ملتوی ہو گیا اور نتیجہ مثبت (Positive) نکل آیا تو یہ گھر برباد ہو جائے گا؟“……قارئین گرامی! آپ حیران ہوں گے کہ میں نے جب یہی جواب لڑکی کے والدین کو سنایا اور یہ بھی بتایا کہ اس کی راوی ایک ایسی صحافی خاتون ہیں جو سچ کہنے میں بے باکی کی تمام حدوں کو پار کر جاتی ہیں تو ان کا سرشرم سے جھک گیا…… وہ نکاح ہو چکا ہے اور میں خاتون صحافی کی گہری بصیرت اور دور اندیشی کی داد دیتا ہوں کہ اس کی بے باکی نے ایک خاندان کو بدنامی سے بچا لیا!میں عرض یہ کر رہا تھا کہ اگر ایسی خواتین آپ کے واٹس آپ گروپ میں شامل ہوں تو ان کی آراء، تبصروں اور تجزیوں کو غنیمت جانیں اور ان کی بے باکی (Boldness) کو ”منہ پھٹ“ ہونے کا ٹھپّا نہ لگائیں!

Sharing is caring!

Comments are closed.