ان نسلوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے انسانوں کا کورونا سے متاثر ہونے کا خدشہ بہت زیادہ ہے ۔۔۔۔ دنگ کر ڈالنے والا دعویٰ کر دیا گیا

لندن (ویب ڈیسک پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے نسلی بنیادوں پر کورونا کے مریضوں کی اموات کا پتہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق یہ فیصلہ اس ریسرچ رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد کیا گیا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیاہ فام، ایشیائی اور اقلیتی نسلی پس منظر سے

تعلق رکھنے والے لوگوں کے کورونا وائرس کی وجہ سے شدید بیمار پڑنے کے خطرات بہت زیادہ ہیں۔ ڈائوننگ اسٹریٹ نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ کمیونٹیز سے متعلق امور کے وزیر رابرٹ جینرک کا کہنا ہے کہ یہ سامنے آیا ہے کہ برطانیہ میں سیاہ فام، ایشیائی اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ کورونا وائرس سے غیر معمولی طورپر متاثر ہوئے ہیں۔ ڈائوننگ اسٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ چیف میڈیکل افسر نے پبلک ہیلتھ انگلینڈ کو اس معاملے کو بہتر طورپر سمجھنے کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہم تیزی سے ریسرچ کررہے ہیں تاکہ ہم معاملے کو زیادہ اچھی طرح سمجھ سکیں اور اس حوالے سے ضروری کارروائی کرسکیں۔ کورونا وائرس کے عروج میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے ایک تہائی مریضوں کا تعلق اسی طبقے سے تھا۔ انتہائی نگہداشت کی دیکھ بھال سے نیشنل آڈٹ اور ریسرچ سینٹر کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے شدید بیمار ہونے والے 4,800 مریضوں میں سے 34 فیصد کا تعلق سیاہ فام، ایشیائیوں یا نسلی اقلیتی طبقے سے ہے جبکہ2011 کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں ان کی آبادی کا تناسب صرف 14 فیصد ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے ہیلتھ کیئر کے 51 ورکرز میں تین چوتھائی کا تعلق اسی گروپ سے تھا، جسے بی اے ایم ای کہا جاتا ہے۔ برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر چاند ناگ پال کا کہنا ہے کہ یہ معلوم کرنا بہت ضروری ہے

کہ نسلی اقلیتیں اس سے زیادہ متاثر کیوں ہو رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں مزید اموات کو روکنے کیلئے جو کچھ ممکن ہوا کرناچاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں این ایچ ایس کے عمر رسیدہ یا کسی اور بیماری میں مبتلا لوگوں کو درپیش خطرات کا بھی جائزہ لینا چاہئے۔ ڈاکٹر ناگ پال نے کہا کہ ہمارے پاس ایسا ڈیٹا نہیں ہے، جس سے یہ پتہ چل سکے کہ نسلی اقلیتیں اس وائرس سے کیوں زیادہ متاثر ہورہی ہیں۔ کیونکہ ڈیٹا معمول کے مطابق ہی جمع کئے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا اموات کے سرٹیفکیٹ میں بھی نسلی اقلیتوں کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں ہوتی، اس لئے ان کی اموات زیادہ ہونے کے اسباب کا پتہ چلانا ممکن نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق نسلی اقلیتوں کی اموات کا ایک بڑا سبب ان کو علاج معالجے کی مناسب سہولتوں کی عدم فراہمی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہسپتالوں میں زیر علاج متعدد عمر رسیدہ لوگوں کے رشتہ داروں نے یہ شکایت کی کہ ہسپتالوں کاعملہ ان کے عزیزوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کرتا۔ امپیریل کالج لندن میں بایو انجینئرنگ پی ایچ ڈی کے ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ حکومت کو کمیونٹیز تک پہنچنے کیلئے زیادہ اقدامات کرنے چاہئیں، کیونکہ ان کمیونٹیز میں بعض حکام کے بارے میں تاریخی طور پر عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔ لندن کے ایک کیئر ٹیکر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ عام طورپر ہفتہ میں تین اموات کے انتظامات کرتا تھا لیکن اب روزانہ تین اموات ہو رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ

این ایچ ایس کورونا کے بہت زیادہ مریضوں کی وجہ سے دبائو میں ہے جبکہ ان میں سے بہت سے مریض عام امراض میں مبتلا بتائے جاتے ہیں۔ اس نے کہا کہ میرے بعض رشتہ داروں نے بتایا کہ ان کے معمر رشتہ دار عام امراض کا شکار ہو کر ہسپتال گئے لیکن ہسپتال میں داخل ہونے کے چند دن کے اندر ہی ان کی موت واقع ہوگئی۔ یونیورسٹی کالج لندن کے امراض قلب کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ریاض پٹیل کا کہنا ہے کہ کورونا سے بی اے ایم ای گروپ کے لوگوں کے متاثر ہونے کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں، جس میں گنجان آباد علاقوں میں ایک ہی مکان میں مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی رہائش اور بایولوجیکل عوامل شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک چیز جو ہمیں واضح نظر آئی وہ یہ ہے کہ ذیابیطس، بلڈ پریشر اور معمولی سے موٹے افراد میں بھی پھیپھڑوں کی شدید بیماری سامنے آرہی ہے۔ انھوں نے کہا یہ تمام عوامل بی اے ایم ای گروپ کے لوگوں میں عام ہیں۔ اس سے ان کے بیمار ہونے کا ایک سبب معلوم ہوتا ہے لیکن اس کی مزید چھان بین کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے بارے میں جمع کردہ اعدادوشمار اور تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے متاثرہ افراد کی عمر عمومی طورپر 59.5 سال ہے اور اس سے متاثر ہونے والوں میں مردوں کی شرح 72 فیصد اور خواتین کی 27.9 فیصد، ان مریضوں کی ایک تہائی سے زیادہ کا وزن معمول سے زیادہ ہے اور ان کا بی ایم آئی 30-25 ہے۔ نوجوانوں کے صحتیاب ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.