ان کا جرم کیا ہے ؟ حیران کن خبر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی شہزاد ملک کی بی بی سی کے لیے ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔پاکستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل کے بیٹے کو بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ملازمت میں توسیع پر تنقیدی خط لکھنے کے معاملے میں پانچ برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔

عسکری ذرائع کے مطابق ملزم حسن عسکری کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی گوجرانوالہ چھاؤنی میں کی گئی۔ اس کارروائی کے دوران ملزم کو اپنی مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور فوجی عدالت سے ہی انھیں وکیل فراہم کیا گیا۔سزا سنانے کے بعد مجرم حسن عسکری کو ساہیوال میں واقع پرزن میں منتقل کیا گیا ہے۔فوجی عدالت سے مجرم کو سزا اس سال جولائی میں سنائی گئی تھی اور اس بارے میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے بھی اس سلسلے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن اس بارے میں تفصیلات حسن عسکری کے والد کی جانب سے حال ہی میں لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ میں اپنے بیٹے کی ساہیوال سے راولپنڈی کی اڈیالہ پرزن میں منتقلی کی درخواست میں سامنے آئی ہیں۔اس درخواست پر عدالت نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔حسن عسکری پر الزام تھا کہ انھوں نے گذشتہ برس ستمبر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو خط تحریر کیا تھا جس میں مبینہ طور پر اُن کی مدت ملازمت میں توسیع ملنے اور فوج کی پالیسوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کو کہا تھا۔مجرم حسن عسکری کے والد میجر جنرل ریٹائرڈ ظفر مہدی عسکری کی جانب سے اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ انھیں معلوم ہوا ہے کہ ان کے بیٹے پر مقدمہ گوجرانوالہ چھاؤنی میں چلا ہے جہاں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے انھیں مجرم گردانتے ہوئے پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

درخواست میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حسن عسکری کو سزا سنائے جانے کے بعد ان کے اہلخانہ کو کئی ہفتے تک اس بارے میں اندھیرے میں رکھا گیا جبکہ درخواست گزار کی بیٹی نے متعدد بار جنرل ہیڈکوارٹرز سے بھی رابطہ کیا لیکن وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔درخواست گزار کے مطابق اس کے علاوہ جیگ برانچ میں تعینات بریگیڈیئر وسیم سے بھی رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ حسن عسکری کو ساہیوال کی سخت انتظامات والی پرزن میں رکھا گیا ہے اور حکام نے متعدد بار رابطہ کرنے کے باوجود صرف ایک مرتبہ انھیں حسن عسکری سے ملنے کی اجازت دی ہے۔درخواست میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ حسن عسکری کو اپنے وکیل سے ملنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔اس درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ انھوں نے اگست میں انسانی حقوق کی وزارت کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ چونکہ حسن عسکری کے والدین اسلام آباد میں رہتے ہیں اس لیے مجرم کو قریبی جیل یعنی راولپنڈی کی اڈیالہ پرزن منتقل کر دیا جائے کیونکہ مجرم کے والدین بوڑھے ہو چکے ہیں جبکہ مجرم کی والدہ شدید بیمار ہیں اور ہفتے میں تین دن ان کے ڈائلیسز ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ درخواست گزار یعنی میجر جنرل ریٹائرڈ ظفر مہدی نے کہا ہے کہ محکمہ پرزن پنجاب کے سربراہ کو اس بارے میں خط لکھا گیا لیکن وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ محکمہ پرزنز کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی قیدی کو صوبے کی حدود میں واقع کسی بھی پرزن میں منتقل کر سکتے ہیں۔پیشے کے لحاظ سے کمپیوٹر انجینیئر حسن عسکری پر الزام تھا کہ انھوں نے گذشتہ برس ستمبر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو خط تحریر کیا تھا جس میں مبینہ طور پر اُن کی مدت ملازمت میں توسیع ملنے اور فوج کی پالیسوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں مستعفی ہونے کو کہا تھا۔اس خط کی کاپیاں فوج میں حاضر سروس ٹو اور تھری سٹار جنرلز کو بھی بھیجی گئی تھیں۔حسن عسکری کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 131 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جو فوج کے کسی بھی افسر یا اہلکار کو بغاوت پر اُکسانے کے زمرے میں آتا ہے۔