ان کے ساتھ موجود فوج کا ایک جنرل اصرار کے باوجود حاضری دینے نہ گیا ،

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ریاض احمد سید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔گزشتہ کالم ’’عبادت نہ کہ کاروبار‘‘ کے حوالے کراچی سے ڈاکٹر نرجس صاحبہ نے فکر انگیز تبصرہ لکھ کر بھیجا ہے۔ جسے قارئین کے ساتھ شیئر نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ لکھتی ہیں: اللہ کے نزدیک اجر کی کوئی کمی نہیں۔

بظاہر معمولی دکھائی دینے والے عمل پر بھی وہ ذات آپ کو زندگی بھر کی شب بیداریوں سے بھی کہیں زیادہ نواز سکتی ہے۔اجر و ثواب سمیت کچھ معاملات اللہ اور بندے کے درمیان براہِ راست ہیں اور اللہ کو سب سے زیادہ بندے کا عجز پسند ہے۔ دکھاوے کی عبادت کا بیکار۔ حطیم میں نوافل کی ادائیگی میں مصروف فارن آفس کے اہلکار کو گردن سے پکڑ کر پیچھے کرنے والے واقعہ کے عینی شاہد میرے ایک جاننے والے بھی ہیں۔فی الحقیقت ہم اپنی اوقات پہچانے بغیر کعبہ میں بھی گھس جاتے ہیں اور اس کی چھت پر چڑھ کر نعرے بھی مارتے ہیں اور بڑے فخر کے ساتھ روضۂ رسولؐ کے تہہ خانے میں اتر جانے کی جسارت بھی کر جاتے ہیں۔ ایسے مواقع کو ہم اللہ کی عطا اور نصیب کی بات سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک چانس ہے جو حکمرانوں کے دُنیوی مقام و مرتبہ کی وجہ سے انہیں ملتا ہے۔ اب یہ ان کا ظرف ہے کہ اسے شیرمادر سمجھ کر ڈکار جائیں، یا اپنے اوپر ایک نگاہ پھر سے ڈال لیں کہ کیا میں اس اعزاز کا مستحق ہوں بھی یا نہیں۔ مجھے معافی اندر جا کر ملے گی یا باہر چوکھٹ پر ندامت کے آنسوئوں کا نذرانہ پیش کرنے سے۔کائنات کے ان مقدس ترین مقامات پر حکمرانوں کیلئے خصوصی اہتمام دیکھتا ہوں ، تو مجھے اللہ کا ایک بندہ یاد آ جاتا ہے جو ضیاء الحق کے زمانے میں سعودیہ میں سفیرِ پاکستان تھا۔ میری مراد ریٹائرڈ میجر جنرل فضل مقیم مرحوم سے ہے۔

صدر صاحب ارض مقدس کے دورہ پر گئے ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی حاضری دی۔ دونوں جگہ شایان شان پذیرائی ہوئی ، درکعبہ بھی کھلا اور روضۂ رسول ؐ کے اندر بھی جبیں سائی کی سعادت نصیب ہوئی۔ سفیر کی حیثیت سے جنرل فضل مقیم ہمراہ تھے۔ درکعبہ کھلا تو اندر جانے والوں کا ایک ہجوم تھا۔ یار لوگ ایک دوسرے کو دھکیل کر راہ بنا رہے تھے۔ لیکن ایک شخص اندر جانے کا استحقاق رکھتے ہوئے بھی اطمینان سے ایک جانب کھڑا رہا۔ ہجوم میں شامل ہونا درکنار، اس نے صدر کے دائیں بائیں ہونے کی بھی کوشش نہ کی۔عشاق کا یہ قافلہ مدینہ منورہ پہنچا تو روضہ رسولؐ کے اندر حاضری پر پھر وہی منظر تھا۔ لوگ اندر جا رہے تھے ، تو وہ پروقار شخص نہایت متانت کے ساتھ چوکھٹ کے ساتھ کھڑا رہا۔ پاکستانی سفارت کا ایک فرسٹ سیکرٹری اندر داخل ہونے لگا تو یکایک نظر اس شخص پر پڑ گئی ، قدم وہیں رک گئے کہ یہ تو پروٹوکول کے منافی ہے۔ سفیر صاحب باہر کھڑے ہیں اور میں اندر جا رہا ہوں۔ ہولے سے کہا ، سر چلئے۔ فضل مقیم نے انکار میں سر ہلا دیا ، دوبارہ گزارش پر بھی یہی حرکت کی۔ ماتحت نے تیسری مرتبہ کہا ، تو بولے میاں تم چلے جائو مجھے نہیں جانا۔ فرسٹ سیکرٹری اندر سے ہو آیا۔ صدر محترم اور ان کے رفقائے سفر بھی دین و دنیا کی سعادتیں سمیٹ کر خوش خوش وطن لوٹ گئے۔ سفارت کا عملہ بھی اپنے کا م میں لگ گیا کہ ایک روز وہی فرسٹ سیکرٹری کسی کام سے

سفیر صاحب کے کمرے میں گیا۔ موقع غنیمت جان کر پوچھ ہی لیا کہ جناب! مجھے آپ کے اس دن کے رویے کی سمجھ نہیں آئی، روضہ رسولؐ کے اندر کی حاضری کی لوگ زندگی بھر تمنا کرتے ہیں اور آپ نے موقع ہوتے ہوئے بھی سعادت حاصل نہ کی۔ جنرل فضل مقیم کا جواب آنکھیں کھول دینے والا تھا۔ بولے ’’کیا منہ لے کر جاتا؟ شرم مانع تھی ، خود کو حضوری کا اہل نہیں پایا، کہاں یہ گنہگار کہاں وہ مقام ، اللہ اللہ!‘‘ اور پھر دو موٹے موٹے آنسو دامن کو تر کر گئے۔ عبادات کی فضیلت برحق ، جنہیں حقوق اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت کہ حقوق العباد کی پرسش حقوق اللہ سے کہیں زیادہ۔ حقوق العباد کی بات کی جائے ، تو اس حوالے سے سب سے زیادہ ذمہ داری حکمرانوں کی بنتی ہے۔ جہاں one man versus whole nation کا منظر ہوتا ہے۔بھلے وقتوں میں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ حقوق العباد کی رمز سے آشنا ، حضرت عمر فاروقؓ کی فکر سے متاثر کہ فرات کنارے کتا بھی پیاسا مر گیا ، تو خلیفہ خود اس کا ذمہ دار ہو گا۔ جانور تو کیا ، ہم تو انسانوں کے حقوق نبھانے کی صلاحیت سے بھی عاری ہیں۔ بہرحال ہمہ وقت رعایا کی فلاح وبہبود کے کاموں میں مصروف رہتا۔ عدل اس کا طرۂ امتیاز تھا‘ رعیت کے جان ومال کے بارے میں متفکر‘ وہ ہر وقت رخنہ اندازوں کے تعاقب میں رہتا تھا۔ جب عمر ڈھل گئی تو مصاحب نے حج پر جانے کا مشورہ دیا۔ بولا یہ تو اللہ کا حق ہے‘

پہلے اس کی مخلوق کے حقوق تو پورے کر لوں۔ چنانچہ طے پایا کہ کیوں نہ کسی حاجی سے حج کا ثواب ہدیتاً یا قیمتاً لے لیا جائے۔ پتہ چلا کہ اس کی قلمرو میں ایک ایسا خوش بخت انسان موجود ہے جس نے بیس حج کر رکھے ہیں۔ بادشاہ اس کی خدمت میں حاضر ہوا اور مدعا بیان کیا۔ موصوف نے پوچھا‘ حج کی قیمت کیا دو گے؟ بادشاہ بولا! جو مانگو گے دوں گا۔ حاجی صاحب بولے‘ تم بھلا کیا دو گے‘ ایک حج کی قیمت تمہاری پوری بادشاہت سے بھی زیادہ ہے۔ البتہ ایک سودا کرلو‘ تو عادل ہے اپنے عدل کا ایک لمحہ مجھے دے دو اور میرے بیس حجوں کا ثواب تم لے لو۔‘‘ میرے وطن کے بادشاہو! تم بھی عدل کرو‘ ظلم سے بچو‘ پھر دیکھو یہیں بیٹھے بٹھائے اسکی رحمت کے بادل تمہیں کس طرح سے سیراب کرتے ہیں۔راقم نے ایک ایسے اللہ والے کو بھی دیکھا جو حج کیلئے اوپر تلے درخواست دیتا مگر منظوری نہیں ہوتی تھی۔ بہت دلبرداشتہ ہوا کہ نہ جانے کیا خطا ہے کہ نصیب ساتھ نہیں دے رہا۔ کسی اللہ والے کے پاس گیا۔ دعا کی درخواست کی اور ماہی بے آب کی مانند تڑپنے لگا۔ بزرگ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا مالک! اسے حج ہرگز ہرگز نصیب نہ ہو۔ فریادی بولا‘ حضور یہ کیا ظلم کیا؟ بزرگ بولے‘ ٹھیک ہی تو کیا ہے‘ اصل چیز تاہنگ ہے‘ تڑپ ہے‘ اسے زندہ رہنا چاہیے۔ اس کا نعم البدل کچھ نہیں۔ اپنے بخت پر ناز کرو‘ میں نے چودہ حج کر رکھے ہیں‘ سب لے لو اور یہ تاہنگ اور تڑپ مجھے دے دو۔ حاجی اور الحاج کے سابقوں سے مزین بزرگوں کے فخریہ انداز دیکھتا ہوں تو تاہنگ والے بزرگ سامنے آکھڑے ہوتے ہیں اور محرومی کے غم میں ان کا گریہ عبادات کی حقیقی روح کی طرح ناچیز کی رہنمائی کرتا ہے۔(ش س م )

Comments are closed.