ان گرفتار شدگان میں ایک صوفی صاحب کیوں ہر قیدی کی آنکھوں کا تارا بن گئے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور مضمون نگار خالد ہمایوں اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ کو اپنے دعوتی اور تبلیغی مشن میں جو خوش بیان واعظ اور مقرر نصیب ہوئے،ان میں مولانا گلزار احمد مظاہریؒ کا اسمِ گرامی بہت نمایاں اور ممتاز ہے۔انہیں والدین نے میٹرک کے بعد مزید

تعلیم کے لیے علی گڑھ یونیورسٹی بھیجا،لیکن وہاں ان کا جی نہ لگا تو وہ مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور چلے گئے۔ وہاں سے قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گھر (بھیرہ)لوٹ آئے۔تقسیم سے قبل ہی وہ مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے متاثر ہوئے اور جماعت اسلامی میں شامل ہو گئے۔1950ء کی دہائی کے اوائل میں انہوں نے اپنے علاقے میں دعوتی کام کا آغاز کیا،لیکن پھر امیرِ جماعت کے حکم کے تحت میانوالی چلے گئے۔چند سال بعد مشرقی پاکستان تشریف لے گئے اور وہاں بھی تبلیغی اور تنظیمی سرگرمیاں جاری رکھیں۔جنوری1964ء میں ایوب حکومت نے جماعت اسلامی پر پابندی لگا کر مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے اراکین کو امیر جماعت سمیت گرفتار کر لیا۔اسی سال ماہِ اکتوبر میں سپریم کورٹ نے جماعت پر پابندی خلافِ قانون قرار دی تو جماعت کے تمام گرفتار شدگان رہا ہو گئے۔ انہی میں مولانا گلزار احمد مظاہری بھی شامل تھے۔قید کے اُن ایام میں مولانا مظاہری ڈائری لکھتے رہے،جسے ان کے فرزند ِ ارجمند ڈاکٹر حسین احمد پراچہ نے حال ہی میں ”مولانا گلزار احمد مظاہری، زندگی …… قید کہانی“ کے عنوان سے مرتب کر کے شائع کیا ہے۔طباعت و اشاعت کے معاملے میں قلم فاؤنڈیشن لاہور کی مساعی قابل ِ داد ہیں۔ جناب پراچہ نے قید کی ڈائری سے پہلے والد صاحب کے حالاتِ زندگی تحریر کئے ہیں، جن میں قید کا پس منظر تفصیل سے سامنے آ جاتا ہے۔”قید کہانی“ میں ایک تو مولانا مودودیؒ کے بارے میں کئی نئی باتوں کا پتہ چلتا ہے،دوسرے قیدی رہنماؤں کی مصروفیات پر روشنی پڑتی ہے۔ تیسرے خود مولانا گلزار احمد مظاہری کی زندگی کا ایک رُخ پہلی دفعہ منکشف ہوا ہے۔

جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کی تقریر میں جو سوز و گداز ہوتا تھا، اس کے پیچھے ان کے روحانی اشغال کار فرما تھے۔ وہ محض واعظ نہ تھے، بلکہ اندر سے پورے صوفی تھے۔ ذکر و فکر نے ان کے وجدان کو ایسی جلا بخشی تھی کہ وہ کسی کا ہاتھ دیکھتے تو لکیروں میں چھپی ہوئی بہت سی باتیں کھول دیتے، ہاتھ دکھانے والا اُن کی باتوں پر ششدر رہ جاتا تھا۔مثلاً قید کی مذکورہ ڈائری ہی سے یہ چند واقعات ملاحظہ فرمایئے:”آج خان محمد قیدی کا ہاتھ دیکھا تو مَیں نے اس کے خاندانی ہاتھ سے اسے تین باتیں بتائیں کہ تمہارا والد ایک لمبی بیماری میں مبتلا ہے۔اس پر اٹیک بھی ہو چکا ہے اور تمہاری والدہ نرم مزاج خاتون ہے۔اس نے کہا،آپ کی تینوں باتیں ٹھیک ہیں“۔(ص222:)”آج شفیق ڈسپنسر کا ہاتھ دیکھا تو اسے بتایا کہ تیرے خاندان میں کوئی سونا بنانے کے جنون میں مبتلا تھا۔کہنے لگا کہ بالکل درست، میرے دادا کو یہ جنون تھا۔اُس نے اِس کام کے لئے اپنی آبائی زمین بھی بیچ دی تھی“۔(ص155:)”صادق قیدی کو مرگی کا دورہ پڑتا ہے۔ اسے تعویذ دیا، تنکوں پر پڑھ کر اسے کہا کہ سات سات بار کلمہ شریف پڑھ کر کانوں میں پھیر کر ان تنکوں کو توڑ کر پھینک دو ان شاء اللہ اللہ کریم شفا دیں گے۔ (ص208:)”آج جمعہ پڑھایا۔ سپرنٹنڈنٹ سے وعدہ کر لیا تھا کہ ہم خطبہ دیں گے۔ جمعہ پڑھائیں گے، تقریر نہیں کریں گے۔عربی خطبہ سے ہی حوالاتی خوش ہو گئے انہیں تسبیحات فاطمی بتائیں، یا وُدودُ کا وظیفہ بھی بتایا۔ بچپن میں جب ہم امتحان کا نتیجہ سننے جاتے تھے تو والدہ صاحبہ نے یہ وظیفہ بتایا تھا۔قیدیوں کو بعد نمازِ فجر اور بعد نمازِ مغرب اول و آخر گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھ کر تین تین تسبیح یہ وظیفہ پڑھنے کے لئے کہا“۔(ص182:)

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *