اوریا مقبول جان نے اصل بات بتا دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مال کی محبت بزدلی کی نشوونما کرتی ہے۔ یہی مال کی محبت ہے، جس کی مذمت قرآن پاک کی لاتعداد آیات میں آئی ہے، مثلاً ’’بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے والا اور غیبت کرنے والا ہو،

جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے۔ (سورۃالھمزہ:2,1) تاریخ اس بات پر بھی شاہد ہے کہ مال و دولت کی محبت اور حرص میں جکڑی ہوئی بزدل اقوام کیساتھ ایسا بدترین اور ذِلّت آمیز سلوک ہوا کہ ان پر دُنیا کے اُجڈ، گنوار اور خونخوار قبائل چڑھ دوڑے اور انہیں ذِلّت و رُسوائی کے ساتھ محکوم بنا لیا۔ چین جو اپنی تجارت، صنعت و حرفت اور نظامِ حکومت کی وجہ سے ایک بہت بڑی معاشی قوت تھا، مگر بزدلی کا عالم یہ تھا کہ دھاوا بولنے والے سے لڑنے کی بجائے ان سے بچنے کیلئے انہوں نے بہت بڑی فصیل یعنی ’’دیوارِ چین‘‘ بنا رکھی تھی۔ اپنے وقت کی اس معاشی طاقت چین کو منگولیا سے اُٹھنے والی منگول قوت نے چنگیز خان کی سربراہی میں دو بار تاخت و تاراج کیا اور آخر 1260ء میں قبلائی خان نے وہاں اپنی مستقل حکومت قائم کر لی۔ قدیم روم کی بادشاہت جو تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی جب انکے ہاں دولت کی حرص، عیش و عشرت کی طلب اور بزدلی نے گھر کر لیا، تو شمالی افریقہ کے بربر قبائل کے ایک بہادر اور قابل جرنیل ہینی بال، نے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ یہ ایسا جرنیل تھا جس نے اپنی بہادری کو دولت کی حرص سے پاک رکھا۔ لُوٹ مار تو دُور کی بات ہے اِس نے کبھی مفتوحہ علاقوں سے تاوان یا خراج بھی وصول نہیں کیا۔ رومن جو ’’ایلپس‘‘ پہاڑ سے خوفزدہ ہو کر ایک زمانے میں اس کی عبادت کیا کرتے تھے، اس بہادر شخص نے سینتیس ہزار پیادہ، آٹھ ہزار گھڑ سوار اور آٹھ سو بڑی بڑی باربردار گاڑیوں کے علاوہ

چالیس کے قریب ہاتھیوں سمیت عین برف باری کی شدت میں پندرہ ہزار سات سو اکیسی فٹ بلند چوٹی ’’مائونٹ بلانک‘‘ کو عبور کر لیا۔ تاریخ آج تک اس کی بہادری کی یہ گتھی نہیں سُلجھا سکی۔ پاکستان کے باسیوں کو تو قدیم تاریخ پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ انکے سامنے حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح اور عیاں ہے۔ اکیسویں صدی نے بہادری اور بزدلی کے دو کردار پیدا کئے۔ ایک کو مال و دولت، معاشی ترقی و خوشحالی سے بہت محبت تھی، جسے پرویز مشرف کہتے ہیں اور دوسرے کو دُنیا کی دولت اور جاہ کی حرص و ہوس سے نفرت تھی ،جسے مُلا محمد عمر کہتے ہیں۔ ایک کے دل میں صرف اللہ کا خوف تھا اور دوسرے کے دل میں عالمی طاقتوں یعنی انسانوں کا خوف تھا۔ اللہ انسانوں کے خوف کے بارے میں بتاتا ہے ’’پھر جب ان پر اللہ کی راہ میں لڑبا فرض ہوا تو ایک گروہ انسانوں سے ڈرنے لگا جیسے اللہ سے ڈرنا چاہئے بلکہ اس سے بھی زیادہ (النسائ77)۔ اللہ کی بجائے انسانوں سے ڈرنے کو اقبالؒ نے شرک کے طور پر بیان کیا ہے: ہر کہ رمزِ مصطفیٰ فہمیدہ است شرک را در خوف مضمر دیدہ است ترجمہ: ’’جس نے رسول اکرمؐ کی رمز پہچان لی اسے کسی دوسرے انسان کا خوف بھی شرک محسوس ہوتا ہے‘‘۔ بزدلی ایک بدترین خصلت اور بہت ہی بُرا عیب ہے جس کے بارے میں ہادیٔ برحق ؐ نے فرمایا، ’’جو شخص اس حال میں مرے کہ اس نے اللہ کی راہ میں لڑائی کی ہو اور نہ اس کے دل میں اس کی آرزو ہی پیدا ہوئی ہو تو وہ گویا نفاق کی ایک خصلت پر مرا (صحیح مسلم ، کتاب الامارہ)۔ ہم آج بھی بزدلی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں اور مال و دولت کی حرص میں ورلڈ بنک، آئی ایم ایف، یورپی یونین اور عالمی سرمایہ داروں کے سامنے بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ انکے مطالبات من و عن تسلیم کرتے ہیں۔ ہمیں بحیثیت قوم بھوک سے موت کا خوف ہے، جسکی وجہ سے ہم نے ذِلّت میں جینا اور ذِلّت کی موت کو پسند کر لیا ہے۔ ہمارے حکمران جو ایٹمی قوت اور طاقتِ مرکز میں بیٹھتے ہیں مگر بقول انیس ’’گیدڑ کو خلعتِ شاہانہ بھی پہنا دی جائے تو وہ ہمیشہ ڈرتا ہی رہے گا‘‘: آخر شغال تھا نہ دبکنے کی خو گئی خلعت پہن کے بھی نہ رذالت کی بُو گئی

Comments are closed.