اوریا مقبول جان نے تازہ ترین پیش رفت قوم کے سامنے رکھ دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔بھارت وہ خطہ ہے جسے 1947ء تک پاکستان کا موجودہ پنجاب گندم مہیا کیا کرتا تھا۔ افغانستان میں امریکہ کے آنے سے پہلے تک افغانستان کا بھی گندم کے سلسلے میں سارے کا سارا انحصار پاکستان پر ہی ہوتا تھا۔

چمن اور طورخم کے شہروں میں ڈپٹی کمشنر باقاعدہ فوڈ پرمٹ جاری کرتے تھے، جن کا جائز اور ناجائز استعمال کرتے ہوئے مقامی افراد گندم افغانستان ترسیل کیا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ تقریباً ساٹھ سال تک جاری رہا اور پاکستان کی گندم سے افغان بھائی بھی مسلسل مستفید ہوتے رہے اور پاکستان میں بھی کبھی گندم کی قلت پیدا نہ ہوئی۔ لیکن پاکستان کی خصوصی مہربانی سے امریکہ کے زیرِسایہ بننے والی افغان حکومت نے 29 اکتوبر 2017ء کو یہ تاریخ بدل کر رکھ دی اور بھارت کی بندر گاہ کانڈلہ سے 15 ہزار ٹن گندم سے لدے ہوئے جہاز ایرانی بندرگاہ چاہ بہار پہنچے، وہاں سے انہیں ٹرکوں پر لاد کر ایران اور افغانستان کے سرحدی شہر زرنج پہنچایا گیا، جہاں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں بھارتی سفیر من پریت ووہرا نے کہا کہ ہم نے آج تاریخی راستے تبدیل کر دیئے ہیں اور اب بھارت تک پہنچنے کیلئے درۂ خیبر یا درۂ بولان کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ صرف پندرہ ہزار ٹن گندم کی پہلی کھیپ تھی جو گندم سے لدے ہوئے جہازوں کے قافلوں میں سے ایک قافلہ تھا۔ بھارت نے گیارہ لاکھ ٹن گندم اس سال افغانستان کو فراہم کی۔ یہ واقعہ اکیلے بھارت اور افغان حکومتوں کے درمیان فیصلہ سے نہیں ہوا، بلکہ اس گندم کے جہازوں کے بھارت سے روانہ ہونے سے چند دن پہلے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے نیو دِلّی جا کر اس ’’کارِ خیر‘‘ میں اپنا حصہ بھی ڈالا تھا۔ بھارتی وزیر خارجہ نے اس بڑی تقریب میں پاکستان کی

خارجہ پالیسی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا۔ ’’ہم اس راستے سے گندم اس لئے لے کر آئے ہیں کیونکہ افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو سمندر کیساتھ منسلک نہیں (Land Locked) ہے اور آپ کا مشرقی ہمسایہ یعنی پاکستان آپ پر بے جا پابندیاں عائد کرتا رہتا ہے، اس لئے ہمیں یہ طویل راستہ چننا پڑا‘‘۔ افغانستان کو بھارت نے یہ گندم مفت نہیں دی تھی بلکہ اس کی قیمت وصول کی تھی۔ بھارت نے یہ فیصلہ اس سال کیا تھا جب اس نے خود اپنی ضروریات کیلئے 2017ء میں ایک کروڑ تیس لاکھ ٹن گندم درآمد کی تھی۔ بھارت ہمیشہ اپنی ضروریات کیلئے باہر سے گندم درآمد کرتا ہے۔ اس کا مطلب ایک ہی ہے کہ بھارت نے افغانستان سے دوستی گانٹھنے کیلئے اپنی ضروریات سے گیارہ لاکھ ٹن گندم زیادہ درآمد کی اور افغانستان پہنچائی۔ بھارت نے یہ سب کچھ صرف اور صرف پاکستان دُشمنی میں کیا، ورنہ اس کا افغانستان اور وہاں بسنے والے مسلمانوں سے کیا مفاد۔ لیکن میرے ملک کا حکمران جو پہلے ہی بے خبر تھا اور آج بھی لا تعلق ہے وہ کسی صورت افغانستان کو اس طرح گندم فراہم کر کے ان کے دلوں میں گھر کرنے کی طرف مائل نہیں ہو پا رہا۔ اگر آج پاکستان ایسا کرتا ہے تو اپنے افغان بھائیوں کو کرائے کی مد میں بے تحاشہ بچت ہو سکتی ہے اور انہیں گندم انتہائی سستی مل سکتی ہے۔ ہم انہیں بھارت کی طرح عالمی مارکیٹ سے گندم خرید کر بھی بیچ سکتے ہیں۔ یہ خیر سگالی کا بہت بڑا قدم ہو گا، لیکن شاید ہم اس دن کا انتظار کر رہے ہیں کہ جب پاکستان طورخم اور چمن بارڈر سے تجارت بند کر دے اور بھارت ایک بار پھر چاہ بہار کے راستے افغانستان تک رسائی حاصل کر لے۔

Comments are closed.