اوریا مقبول جان نے تہلکہ خیز حقائق بیان کردیے

لاہور (ویب ڈیسک) جمہوری سیاست تو تخلیق ہی اسی لیے کی گئی ہے کہ تحریکوں کا راستہ روکا جا ئے۔جمہوری سیاسی نظام میں تو جان ایف کینڈی اور بل کلنٹن کو خواتین صرف خوبصورتی پر فریفتہ ہونے کے لیے ووٹ دیتی ہیں۔ اب تو دنیا بھر کے فیشن میگزینوں میں ایک حصہ

ان خواتین سیاسی رہنماؤں کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے جو اپنی دلکشی اور خوبصورتی کی وجہ سے اقتدار کی مسند پر جلوہ افروز ہوتی ہیں۔نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک حالیہ کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔جمہوریت سطحی (Shallow) اور عام (Mediocre) رہنماؤں کی دنیا ہے۔ جمہوری دنیا کے سیاسی مظاہرے بھی تحریکی انداز نہیں بلکہ فیملی فیشن پریڈ بن چکے ہیں۔ بچے،عورتیں، مرد، بوڑھے، بینڈ بجاتے، گیت گاتے، رقص کرتے ہوئے جلوس میں دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ ایسے میں جن لوگوں نے بھی مریم نواز، بلاول بھٹواور دیگر کو یہ تاثر دیا تھا کہ جو بھیڑ ان کے اردگرد جمع ہوئی ہے وہ تحریک کا آغاز ہے، انہوں نے ان کے ساتھ بہت ظلم کیا ہے۔ یہ ویسے ہی خوشامدی ہیں جنہوں نے عمران خان کو 2014ء میں 126دن دھرنے پر اس امید پر بٹھا دیا تھا کہ اب اس کی قیادت میں انقلاب دستک دے گا۔ پاکستان کی پوری سیاسی برادری یا دیگر الفاظ میں ’’سیاسی لیڈروں کے جتھے‘‘ کواگر علامہ خادم حسین رضوی کے جنازے کے بعد بھی یہ اندازہ نہیں ہوا کہ بھیڑ جمع کرنے والے (Crowd Puller) اور ایک مقصد کے لیے لوگوں کو ایک منزل کی جانب اکٹھا کرنے والے تحریک ساز میں کیا فرق ہوتا ہے، تو پھر کوئی ان کو کچھ بھی نہیں سمجھا سکتا۔

Comments are closed.