اوریا مقبول جان نے دور حاضر کی یہودی قوم کی طاقت اور وحدت کا اصل راز سامنے رکھ دیا

’لاہور (ویب ڈٰسک) تورات‘‘ اور ’’تالمود‘‘ کے بعد پروٹوکولز ایک ایسی کتاب ہے جو ابھی بھی ہر یہودی کیلئے ایک رہنما کا درجہ رکھتی ہے۔ جو یہودی صہیونیت سے انکار بھی کرتے ہوں، وہ بھی اپنے یہودی خاندان کو سیکولر اور لبرل ہونے سے بچانے کے اس نظریے سے بالکل متفق ہیں۔

نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ آج سو سال گزرنے کے بعد، میڈیا کی چکا چوند، سیکولر علوم کی بھر مار اور جدید یونیورسٹیوں میں تعلیم کے باوجود یہودی گھرانوں کی اکثریت کٹر مذہبی ہے۔ وہ اپنی تمام عبادات و رُسومات باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ نیو یارک کے علاقے بروکلین میں یہودی لڑکیوں کے سکول جا کر دیکھیں، ان کی دیواریں اتنی بلند ہیں کہ کوئی ان میں دُور سے بھی جھانک نہ سکے۔ ہفتے کو ان کے مذہب کے مطابق کاروبار کی بندش ہوتی ہے تو اس دن ان کے گھروں تک میں سنّاٹا چھا جاتا ہے۔ ہر یہودی ’’کوشے‘‘ (Koshe) یعنی حلال گوشت کھاتا ہے۔ عورتیں چہرے کو نقاب سے ڈھانپتی ہیں اور مرد سوٹ پر بھی اپنی مخصوص ٹوپی پہنتے ہیں یا پھر لمبی داڑھی کے ساتھ بالوں کی بل کھاتی لٹیں لہراتے ہیں۔ ایک یہودی گھر کے ماحول کا اندازہ یوٹیوب کی اس مقبول ویڈیو سے کیا جا سکتا ہے جس میں امریکی ٹی وی کی سب سے مشہور اینکر اوپرا وینفری (Oprah Winfrey) ایک یہودی گھرانے میں ان کے تہوار والے دن جاتی ہے، جہاں اردگرد کے خاندان بھی مدعو ہیں۔ اس ہجوم سے وہ پہلا سوال یہ کرتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی ٹیلی ویژن دیکھا ہے، وہ کہتے ہیں، ’’نہیں‘‘، پھر کہتی ہے پوری زندگی میں بھی کبھی نہیں، جواب ملتا ہے، ’’نہیں‘‘، گھر کی ایک یہودی عورت وہاں موجود ہر چھوٹے بڑے سے سوال کرتی ہے، تم سے کوئی ہے جو ٹیلی ویژن دیکھتا ہے، سب بیک زبان ہو کر کہتے ہیں، ’’کوئی نہیں‘‘۔

اوپرا، پھر بچوں سے سوال کرتی ہے، تمہیں معلوم ہے کہ مکی مائوس (Micky Mouse) کون ہے، پھر بڑے بڑے گلوکاروں اور موسیقاروں کا نام لیتی ہے لیکن سب گھر والے کہتے ہیں کہ ہم ا ن سب کو نہیں جانتے۔ پھر وہ یہ سوال کرتی ہے کہ کیا تم میں سے کوئی ڈیٹ (Date)پر جاتا یا جاتی ہے، جواب نفی میں ملتا ہے۔ بچے کہتے ہیں ہم اس طرح کی زندگی میں بہت سارے دبائو (Pressure) سے آزاد رہتے ہیں۔ ایسا ماحول صرف ایک یہودی گھر میں ہی نہیں، بلکہ ان کے اکثر گھرانوں میں ملتا ہے۔ یہ ہے وہ مذہبی ماحول جس میں یہ ایک یہودی بچہ پروان چڑھتا ہے۔ اس کے دل میں ایک ہی مقصد کی لگن ہوتی ہے کہ اس نے آنے والے مسیحا کی قوم کا ہراوّل دستہ بننا ہے۔ اسے عبادت گاہوں، خاندانی محفلوں، سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بار بار یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ یہودیوں سے ’’ایلی‘‘ یعنی خداوند نے وعدہ کیا ہے وہ ہمیں اس دُنیا کی حکمرانی عطا کرے گا، مگر اس حکمرانی کے حصول کیلئے ہر یہودی کو جدوجہد کرنا ہو گی۔ مذہب وہ قوتِ متّحرکہ (Driving Force) ہے جو ہر یہودی کو بہترین سائنسدان، شاندار مصنّف اور کامیاب صحافی، اینکر اور معاشی نابغہ بنائے رکھتی ہے۔ یہ ہے اس سوال کا جواب کہ یہودیوں میں سب سے زیادہ نوبل انعام حاصل کرنے والے کیوں ہوتے ہیں۔ یہودی اگر مذہب کو مضبوطی سے نہ تھامتے تو آج یہ ایک کروڑ سینتالیس لاکھ یہودی، دُنیا بھر کے سات ارب انسانوں کے سمندر میں فنا ہو جاتے۔