اوریا مقبول جان کی امت مسلمہ کو وارننگ ۔۔۔ پڑھیے اور شیئر بھی کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاھو نے اعلان کیا ہے وہ اپنے انتخابی وعدے کو پورا کرتے ہوئے 1967ء میں اردن سے چھینے جانے والے مغربی کنارے (West Bank) کے علاقے کو یکم جولائی 2020ء کو قانونی طور پر

اسرائیل میں شامل کرلے گا۔ یعنی اس کالم کی تاریخِ اشاعت سے ٹھیک چار دن بعد یہ سانحہ رونما ہونے والا ہے، اور امتِ مسلمہ کے ستاون ممالک میں کسقدر خاموشی اور بے حسی ہے۔ یروشلم کی مشرقی حصے کی ہی اصل اہمیت ہے، کیونکہ اس میں یہودی کا سب سے مقدس مقام ’’دیوار گریہ‘‘، مسلمانوں کی ’’مسجدِ اقصیٰ‘‘، عیسائیوںاور مسلمانوں کا مشترکہ ورثہ ’’قبتہ الضحریٰ‘‘ اور ’’کنسیہ القیامہ‘‘ یعنی وہ مقام جہاں عیسائیوں کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کو صلیب سے اتار کر دفن کیا گیا تھا پھر وہ وہیں سے دوبارہ زندہ ہو کر آسمانوں کی سمت چلے گئے تھے۔ یہ مقبرہ آج بھی ایک خالی قبر کی صورت ہے، جس پر گرجا تعمیر کیا گیا ہے۔ یروشلم کا قدیمی شہر بھی مشرقی یروشلم میں ہی ہے جس کی گلیوں میں سیدنا عیسیٰؑ اور ان سے پہلے آنے والے لاتعداد پیغمبر رہتے رہے۔ اسی شہر سے سید الانبیاء ﷺ معراج پر روانہ ہوئے تھے۔ اس مغربی کنارے میں اس وقت تقریباً بیس لاکھ مسلمان آباد ہیں اور 1967ء سے لے کر اب تک اسرائیل نے دنیا بھر سے چار لاکھ یہودیوں کو یہاں لا کر آباد کیا ہے۔ ان بیس لاکھ مسلمانوں کے علاوہ اصل اسرائیل میں بھی اس وقت 16لاکھ مسلمان آباد ہیں، جبکہ یہودیوں کی تعداد 73لاکھ ہے۔ انگریزوں نے اپنے وفادار قادیانیوں کو بھی1920ء میں یہاں لا کر آباد کیا تھا جن کی تعداد اس وقت پچیس سو ہے، اسی طرح علوی اور دروز بھی ڈیڑھ لاکھ کے قریب وہاں رہتے ہیں۔ ان سب پر یہودی قبضہ اور غلبہ گزشتہ ستر سال سے برقرار ہے۔ آج سے چار دن بعد اسرائیل اس متنازعہ علاقے کو اپنا حصہ بنانا شروع کر دے گا۔

عین ممکن ہے کہ فوراً صرف چند فیصد علاقوں کا اعلان کیا جائے اور دنیا کا ردعمل دیکھ کرپھر کرونا کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ مسلم دنیا پر اس وقت کرونا کی وبا ء تو بہت کم ہے لیکن ان میں مدت سے بے حسی اور مغلوبیت کا وائرس سرایت کر چکا ہے۔ اسرائیل اگر ایک ہی دن میں تمام مغربی کنارے اور یروشلم کو ضم کرنے کا اعلان کرے تو لگتا ہے پھر بھی مسلمانوں کی غیرت نہیں جاگے گی۔ دوسرا محاذِ جنگ یعنی ہندوستان بھی اسی کرونا میں دنیا کی مصروفیت کے عالم میں ہی گرم ہوا ہے۔ گزشتہ تین ماہ میں ڈیڑھ سو کے قریب کشمیری شہید کئے گئے اور لداخ کے علاقے پر قبضہ جمانے کے لئے چین سے پنگا لیا گیا ہے۔یہی تو وہ دونوں محاذ ہیں جن کی جانب حضرت محمد ؐ نے مسلمانوں کو لڑنے اور جہاد کرنے کی ترغیب دی ہے۔ وہ لوگ جو آج سے چند برس پہلے سیدالانبیاء ﷺ کی ملحتمہ الکبریٰ اوردورِفتن کی احادیث پر تنقیدی گفتگو کرتے ہوئے اسماء الرجال کی بحث چھیڑتے تھے، آج وہ تمام حدیثیں روزِ روشن کی طرح اپنا وجود ظاہر کر رہی ہیں۔ چار دن بعد کیا ہو گا۔ شاید کوئی ایک مردہ سی آواز بھی امتِ مسلمہ سے برآمد نہ ہو سکے، لیکن یاد رکھیں احادیث کے مطابق اب ایک ایسے وقت شروع ہونے جا رہا ہے، جس کی آتش کی تپش سے شاید کوئی ایک مسلمان گھر بھی ایسا نہ ہو جو بچ پائے ۔ ہر مسلمان کو اس ملحمہ کا ایندھن بننا ہی پڑے گا۔ یہی تقدیرِ الٰہی ہے اور یہی سید الانبیائؐ کی پیش گوئی ہے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.