اوریا مقبول جان کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) آخرالزمان، آمدِمسیحا، یاجوج ماجوج اور قیامت سے پہلے برپا ہونے والے آخری معرکۂ خیر و شر جیسے موضوعات ، صرف علماء اسلام ہی کا موضوع نہیں، بلکہ عیسائیت اور یہودیت میں بھی یہ سب مدتوں سے زیرِ بحث اور زیرِ مطالعہ رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ

تینوں مذاہب کے وہ علماء جو ان موضوعات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں،نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ سب گذشتہ تیس سالوں سے ان واقعات کے عنقریب ظہور پذیر ہونے کی اطلاع دے رہے ہیںاور بیشتر علامات کے ظہورسے ان کے شواہد بھی پیش کر رہے ہیں۔ ان سائنس دانوں کی وارننگ اور تباہی کے اندازوں کے بعد ایک دفعہ پھر انجیل مقدس کے پرانے اور نئے عہدنامے کھولے گئے اوراب عیسائیت کے تناظر میں ’’آخری معرکۂ خیر و شر‘‘ (Armageddon)کے بار ے میں گفتگو موجودہ دور کا ایک سنجیدہ موضوع بن چکی ہے۔ عیسائیوں اور مسلمانوں سے کہیں زیادہ، یہودیوں نے اس موضوع پر تحقیق کی اور سب سے زیادہ لٹریچر بھی انہوں نے ہی تحریر کیا ہے۔ صہیونیت کی خفیہ تحریک کا آغاز، ان کا 1896ء کے اجتماع میں ’’ورلڈ پروٹوکولز‘‘ (Protocols) پر اتفاق، 1916ء میںبرطانیہ کے ساتھ اسرائیل کے قیام کے لئے خفیہ معاہدے ’’بالفور ڈیکلریشن‘‘کا اعلان، 1920ء سے جافہ، تل ابیب اور دیگر ریگستانی علاقوں کی جانب ، یورپ کے یہودیوں کی قافلوں کی صورت روانگی کا آغاز اور آخرکار،چودہ مئی 1948ء کو اسرائیل کے قیام تک، سارے مراحل اسی ’’آخری معرکۂ خیر و شر‘‘ کی جانب پیشقدمی تھے۔ وہ معرکہ جس کے نتیجے میں یہودی ’’ہیکلِ سلیمانی‘‘ کی دوبارہ تعمیر کریں گے، وہاں ’’تختِ داؤدی‘‘ آراستہ کریں گے اورپھر ان کا ’’آخری مسیحا‘‘ اس تخت پر بیٹھ کر ایک عالمی حکومت قائم کرے گا۔ یہودیوں سے زیادہ کوئی اور گروہ اس معاملے میں اتنا سنجیدہ نہیں ہے۔اسی عقیدے پر ایمان کی بنیاد پرلاکھوں یہودی دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں سے اپنی پُرآسائش رہائش گاہیں اور بڑے بڑے کاروبار چھوڑ کر آج اسرائیل میں آکر آباد ہوچکے ہیں۔

جس طرح دنیا بھر میں جدید سیکولرازم اور لبرل ازم کے طوفان سے تمام مذاہب کے لوگ متاثر ہوتے ہیں، ویسے ہی اسرائیل میں آباد یہودی، خصوصاًان کے نوجوان بھی اس کی زد میں آئے ہیں۔ اسرائیل کا ماحول، دراصل خالصتاً ہنگامی بنیادوں پر استوار کیا گیاہے ، جس میں ہر نوجوان کو میٹرک کے بعد دو برسوںکے لئے لازمی فوجی ملازمت کرنا ہوتی ہے،اور ان دو برسوں میں اسے مسلمانوں سے لڑنے، ان پر فتح حاصل کرنے اور مسیحا کی آمد تک اسرائیل کو مضبوط بنانے کے جذبات سے اسقدر بھر دیا جاتا ہے کہ وہ باقی ماندہ زندگی یہی خواب دیکھتا رہتا ہے کہ کب وہ وقت آئے گا، جب وہ اس فوج کا حصہ ہوگا اور اُردن، مصر، عراق، شام اور سعودی عرب میں آباد مسلمانوں کا خاتمہ کرتے ہوئے، ایک عالمی یہودی حکومت کے قیام کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اسرائیل اور دنیا بھر کے وہ ممالک جہاں یہودی مستقلاًآباد ہیں، وہاں ان کے علماء جنہیں قرآن’’احبار و رہبان‘‘ پکارتا ہے اور عبرانی زبان میں وہ ــ’’ربائی‘‘کہلاتے ہیں، گذشتہ تیس سالوں سے یہودیوں کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد کرکے ،لوگوں کو آخری معرکۂ خیر وشر کی تیاری کے لئے مذہب کی جانب لوٹنے اور اس کی مکمل پابندی کا درس دے رہے ہیں۔ ان تمام یہودی علماء میں سب سے زیادہ مقبول ’’امنون اسحاق‘‘ (Amnon Yitzhak) ہے جس نے 1986ء میں 33سال کی عمر میں ’’شوفار‘‘ نامی ایک تنطیم بنائی ،جس کا مقصد بھٹکے ہوئے یہودیوں کو واپس مذہب کی جانب لانا تھا۔ یہ پہلا ربائی تھا جس نے اپنے خطبوں کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا۔

پہلے اس نے اپنے خطبات ویڈیو کیسٹوں کے ذریعے پھیلائے، پھر سی ڈیز اور اب اس کے یوٹیوب پر لاکھوں مداحین موجود ہیں۔ تنظیم کے ابتدائی چار سال بعد ہی وہ اسقدر مقبول ہوچکا تھا کہ اسے سننے کے لئے لوگ سٹیڈیم بھرنے لگے۔ وہ یہودیوں کو ایسی خالص مذہبی زندگی گذارنے کی جانب راغب کرتا ہے، جس میں عریانی اور گلیمر کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس نے 2011ء میں یروشلم کے ٹیلی ویژن سنٹر کے سامنے اپنے ہزاروں پیروکاروں کی موجودگی میں ایک ہزار ٹیلی ویژن سیٹ توڑنے کا مظاہرہ کیا۔ آج سے چھ سال قبل دنیا بھر کے یہودی علماء ’’چار چاند‘‘ (Four moon) کے اس قدیم تصور کے تحت اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ آئندہ تین چار سالوں میں یہودیوں پر بہت بُرا وقت آنے والا ہے اور پھر اس کے بعد ہماری آخری بڑی فتح ہوگی۔ اس تصور کو وہ ’’المیہ کے بعد کامرانی‘‘ (Tragedy and Triumph) کا نام دیتے ہیں اور یہودی ، تاریخ سے ایسی بیشمار مثالیں دیتے ہیں، جب ان پر مظالم کے پہاڑ ٹوٹے،جس کے بعد اللہ نے انہیں فتح و نصرت سے ہمکنار کیا۔ اس کی سب سے بڑی دلیل وہ سپین میں 1942ء میں ازبیلا اور فرڈینیڈ کے اقتدار میں آنے کے بعد یہودیوں پر توڑے جانے والے مظالم سے دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی سال امریکہ دریافت ہوا تھا، جو بعد میں یہودیوں کی عالمی منظرنامے پر چھانے کی علامت بنا۔ اسی طرح وہ 1967ء کی فتح کو بھی انہی چار چاند کے آسمان پر طلوع سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ تصور دراصل ایک ساتھ آگے پیچھے ایسے چاند گرہنوں کی بابت ہے کہ جو ان کے بڑے تہواروں خصوصاً ’’یومِ کپور‘‘ کے وقت واقع ہوتے ہیں۔

امنون اسحاق نے 2014ء اور 2015ء کے ان چار خونی چاند گرہنوں کے بعد بتایا تھاکہ کچھ عرصے بعد یاجوج ماجوج اور بڑی عالمی ورلڈ شروع ہونے والی ہے اور دنیا میں صرف چند یہودی ہی باقی بچیں گے۔ یہودیوں کے ہاں ’’خالص بنی اسرائیل‘‘ کی برتری کا ایک گہرا تصور موجود ہے اور مسیحا کی آمد کے بارے میں بھی ان پیش گوئیوں میں یہی درج ہے کہ وہ خالص بنی اسرائیل کی یعنی ’’آلِ یعقوبؑ‘‘ کی حکومت قائم کرے گا۔ امنون اسحاق نے 2011ء کے اکتوبر میں کہا تھا کہ موجودہ یہودی علماء میں ’’آلِ یعقوبؑ‘‘ میں سے صرف 5فیصد ہیں اور باقی 95فیصد وہ بہروپیئے ہیں جو خود کو آلِ یعقوبؑ کہتے ہیں اور انہی کی وجہ سے اب یہودیوں پر عذاب آئے گا اور نتیجے کے طور پر خالص بنی اسرائیل ہی باقی رہ جائیں گے۔ ربائی امنون اسحاق نے 2019ء کے آخر میں کہا تھا کہ کچھ ماہ بعد دنیا ایک بہت بڑے وائرس کا شکار ہوجائے گی اور اس کے مطابق یہ وائرس دراصل عیسائی دنیا کا عالمی ’’ایجنڈا21‘‘ ہے۔ ’’کرونا‘‘ وائرس نے اس کی پیش گوئی سچ ثابت کردی۔اس نے پھر28 مئی 2020ء کو کہا کہ ’’پہلی کرونا کی لہر ختم ہو جائے گی، مگر اسکے بعد اکتوبر میں دوسری لہر شروع ہوگی اور اس دوسری لہر کے نو ماہ بعد دنیامیں ’’مسیحا‘‘ کے آنے کا دور شروع ہوجائے گا۔ اس نے تالمود اور تورات کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’جب تک ’رومی‘زوال پذیر نہیں ہوتے( یعنی یورپ ختم نہیں ہوتا) مسیحا نہیں آئے گا‘‘۔ امنون اسحاق اس وقت یہودیوں میں سب سے مقبول ترین ربائی ہے، جس کو سننے کے لیئے یہودی لاکھوں کی تعداد میں اکٹھا ہوتے ہیں۔ اس نے یکم اکتوبر2020ء کو ایک ایسی ویڈیوجاری کی جس نے پوری دنیا میں ایک ہیجان برپا کر رکھا ہے،اس ویڈیو میں اس نے اگلے دس سالوں کے لئے قوامِ متحدہ کے ایک ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کے خفیہ پلان سے پردہ اٹھایا ہے ( جاری ہے )

Sharing is caring!

Comments are closed.