اوریا مقبول جان کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) یوں تو آمون اسحاق، 1990ء سے ہی دنیا بھر کے یہودیوں میں ایک مقبول ترین ربائی رہا ہے، لیکن گذشتہ سال 27ستمبر 2019ء کو جب اس نے کرونا وائرس کی پیش گوئی کی اور ساتھ ہی یہ انکشاف کیا کہ بل گیٹس اس وائرس کو پھیلانے والا ہوگا اور یہ کہا کہ کارپوریٹ دنیا

ایک ایسی ویکسین تیار کروائے گی جس کے ذریعے لوگوں کے جسموں میں ایک مائیکروچپ (Micro chip) داخل کی جائے گی ۔ نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جس سے پوری دنیا کو کنٹرول کرتے ہوئے 2021ء میں نیا ورلڈ آرڈر نافذ کر دیا جائے گا۔ بل گیٹس سے نفرت تو سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ وہ کارپوریٹ دنیا میں واحد غیر یہودی سرمایہ دار ہے، لیکن آمون اسحاق کی اس سازشی موضوع پر بنائی گئی ویڈیوز یوٹیوب حذف (delete) کر دے گی، جن میں 21ستمبر 2019ء والی ویڈیو بھی شامل ہو تو پھر اس قصے کو سمجھنا کافی مشکل نظر آتا ہے۔ جس طرح مسلمان مفکرین کہتے ہیںاس وقت دنیا پر چھایا ہوا ’’مغربی دجالی نظام ‘‘پوری دنیا کو اپنے شکنجے میں لے چکا ہے ویسے ہی آمون اسحاق بھی گفتگو کرتا ہے ۔اس کے مطابق اب مغرب، دنیا میں ’’نیا ورلڈ آرڈر‘‘ نافذ کرنے والا ہے۔ آمون نے کہا کہ اقوام متحدہ نے 1992ء میں برازیل کی کانفرنس میںایک ’’ایجنڈا21ئ‘‘ منظور کیا تھاجسے ’’صدی کے ترقیاتی اہداف‘‘ (Millennium Development Goals) کہا جاتا ہے۔ وہ کامیاب نہیں ہوا، اس لئے اب ان کا ’’ایجنڈا30ئ‘‘ ہے جس کا نفاذ اس دنیا پر مکمل کنٹرول کے لئے بہت ضروری ہے۔’’ ایجنڈا21 ئ‘‘کے اہداف میں غربت ، بھوک اور بیماری، کا خاتمہ، صاف پانی ، ٹرانسپورٹ اور توانائی کی فراہمی شامل تھے۔ لیکن ’’ایجنڈ30ء ‘‘ کے نیو ورلڈ آرڈرکے تحت جو اہداف ہیں وہ بہت ہی خوفناک ہیں۔ اس کے تحت (1۔پوری دنیا میں صرف ایک حکومت قائم کی جائے گی، (2۔کیش کرنسی ختم کر دی جائے گی، (3۔دنیا پوری کا ایک ہی سنٹرل بینک ہوگا، (4۔ پوری دنیا کی ایک ہی فوج ہوگی،

(5۔کسی قسم کی ریاستی خودمختاری یا قومی ریاست کا وجود نہیں ہوگا، (6۔ تمام کاروبار، گھر وغیرہ ریاست کی ملکیت ہوں گے اور کسی قسم کی نجی ملکیت نہیں ہوگی، (7۔خاندان نام کے ادارے کا خاتمہ کر دیا جائے گا اور بچے ریاست پالے گی، (8۔دنیا کی آبادی کو بہت حد تک کم کر نے کے بعدمزید بڑھنے سے بھی روکا جائے گا، (9۔ہر کسی کو زبردستی بے شمار ویکسین لگا کر کنٹرول کیا جائے گا، (10۔ عالمی سطح پر ہر فرد کی ایک بنیادی آمدنی ہوگی، (11۔ ہر فرد کے اندر زبردستی مائیکرو چپ لگائی جائے گی تاکہ اس کی زندگی کے ہر لمحے پر نظر رکھی جا سکے، (12۔عالمی سوشل کریڈٹ سسٹم کا قیام جس میں صحت، تعلیم، اور روزگار کا تحفظ ہوگا جیسے چین میں ہوتا ہے، (13۔5G کوایک بہت بڑے مانیٹرننگ سسٹم کی طرح بنا دیا جائے گا، (14۔تمام تعلیمی ادارے حکومت کی ملکیت ہوں گے، (15۔ تمام گاڑیاں بھی حکومت کی ملکیت ہوں گی، (16۔تمام کاروبار اور کارپوریشنیں بھی حکومت کی ملکیت ہوں گی، (17۔ضروری سٖفر کے علاوہ ہر قسم کے سفر پر پابندی ہو گی،(18۔لوگوں کی رہائش کے لئے شہر یا علاقے مخصوص کر دیئے جائیں گے اور ان کے علاوہ کہیںبھی رہائش نہیں رکھی جاسکے گی، (19۔ ذاتی گھر، ذاتی زراعت، ذاتی آبپاشی، ذاتی بھیڑ بکریوں کے ریوڑوں پر پابندی ہوگی، (20۔ انسانوں کی ضروریات کے مطابق زمین کا محدوداستعمال ہوگا، (21۔ہر طرح کی دیسی ادویات یا طریقِ علاج پر پابندی ہوگی اور صرف Synthetic ادویات استعمال ہوں گی، (22۔لکڑیاں جلانے یا دیگر فطری طریقے سے آگ جلانے پر پابندی ہوگی۔ آمون کے مطابق یہ ہے اس عالمی حکومت کا نقشہ جو مغرب نافذ کرنے جا رہا ہے۔ یہ حکومت دراصل یہودیوں کے آنے والے ’’مسیحا‘‘ کے مقابل قائم کی جائے گی، تاکہ اسے روکا جاسکے۔ آمون اسحاق نے کہا کہ یہ ایک ایسی حکومت ہوگی کہ آپ فرعون کے زمانے کو بھول جائیں گے۔ آمون اسحاق کی باتیں آج سب کو ایک دیوانے کا خواب نظر آتی ہیں،مگر اس کی باتوںپر یقین کرنے والوں کی اکثریت یہودیوں میں موجود ہے۔ ۔ آمون نے اس ’’نیوورلڈ آڈر‘‘ کو ایک شیطانی حکمرانی کا نام دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’کرونا کی دوسری لہر اور ویکسین کی ایجاد اس کا راستہ ہموار کرے گی، اور جب ’’نیوورلڈ آرڈر قائم ہو جائے گاتو اس کے نتیجے میں یہودیوں پر قیامت ٹوٹے گی، مگر ان کو بچانے کے لئے ایک ’’مسیحا ‘‘آئے گاجو یورپ کو نیست و نابود کرے گا اور یروشلم سے عالمی حکومت قائم کرے گا۔کیا کوئی مسلمان مفکر اس کے بارے میں سوچ رہا ہے

Sharing is caring!

Comments are closed.