اوریا مقبول جان کی معلومات سے بھر پور تحریر

نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہزاروں افغان ہزارے حلب کی مشہور لڑائی میں شریک ہوئے تھے۔ اس لڑائی میں ایک جانب شام ، عراق، چیچن، ازبک اور دیگر قوموں کے لوگ شامل تھے۔ جبکہ ان
کے مقابلے میں شام کی سرکاری فوج، ایرانی ، عراقی اور افغان گروہ شامل تھے، اس گروپ کو روس کے لڑاکا طیاروں

کی مددبھی حاصل تھی۔ شام کی جانب سے جانیں پیش کرنے والوں میں دوسرے نمبر پر افغان ہزارے تھے۔ یہ مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں رہتے تھے۔ جب تک توسلی زندہ رہا وہ خود گروہ کی قیادت کرتا رہا لیکن اس کے گزر جانے کے بعد یہ براہ راست ایرانیوں کے ماتحت ہوگئے۔ اس سے کہیں بہت کم تعداد میں ایک اور گروہ بنایا گیا جس میں پاکستانی شامل تھے۔ پاکستانی ہزارے بھی ادھر ہی جاتے تھے۔ آج جب لڑائی کے بادل چھٹے ہیں تو یہ سب لڑاکےاپنے اپنے علاقوں میں واپس لوٹ رہے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے سوویت یونین جب افغانستان سے نکلا تو تمام لڑاکے جب اپنے اپنے ملکوں کو واپس آئے تو وہاں بدامنی نے عروج پکڑا کیونکہ ان تازہ تازہ بے روزگار اور بیکار لوگوں کو لڑائی کے سوا کوئی اورکام نہیں آتا تھا۔ہزاروں کے ساتھ معاملہ مزیدسنگین ہوا۔ اپنے گھر افغانستان میں ہی جائیں تو صدیوں کی نفرت ہے۔نہ امریکی ان پر اعتبار کرتے ہیں اور نہ ہی افغان ۔ ایسے میں انکا فطری ٹھکانہ پاکستان بنتا ہے۔ یہ یہاں آنا شروع ہوگئے۔ جو لڑاکا تھے، انہیں تو خطرات کا اندازہ تھا، وہ اپنے ٹھکانوں میں محفوظ رہے لیکن وہ بیچارے جو محنت مزدوری کرتے تھے ایندھن بننے لگے جو اس خطے میں پھیلی ہوئی ہے۔ جب ایک گروہ میدانِ لڑائی سے واپس لوٹتا ہے تو اپنی عداوتیں بھی ساتھ لاتا ہے لیکن یہاں پر وہ دوسرے گروہ کے لیے نرم چارہ بن جاتا ہے۔ پاکستان میں ’’ہزارے‘‘نرم چارہ ہیں۔انہیں نشانہ بنا کر گذشتہ لڑائیوں کا بدلہ بھی لیا جاتا ہے اور انہیں بحیثیت قوم پریشرائز بھی کیا جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *