اوپر والی طاقتوں کی کرشمہ سازیاں : صف اول کے کالم نگار کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔صاحبو! کوئی بتائے کہ قومی اسمبلی میں پرائیویٹ ممبر امجد علی خان نے جو قرارداد پیش کی ہے، وہ قرارداد پہلے پیش کر دی جاتی تو کیا مشکل تھی……کھودا پہاڑ نکلا چوہا…… کے مصداق اس میں تو کچھ بھی ایسا نہیں جو

حکومت کے لئے کوئی مشکل کھڑی کر سکتا ہو۔ فرانسیسی سفیر کو نکالنے کی بات تو اس میں دور دور تک کہیں نظر نہیں آتی، بس اس میں تو یہ کہا گیا ہے کہ سفیر کو نکالنے کے بارے میں کیا بحث ہونی چاہیے، اتنی بے ضرر قرار داد اگر حکومت سارے سیاپے کے بغیر پہلے ہی پیش کر دیتی تو اتنا ہنگامہ نہ ہوتا، جانیں بھی نہ جاتیں۔ نہیں صاحب پھر دنیا کو کیسے پتہ چلتا کہ پاکستان میں حکومت نام کی کوئی چیز بھی موجود ہے، پھر تحریک لبیک کو کالعدم کیسے قرار دیا جاتا، پھر وزیراعظم کو قوم سے خطاب کا موقع کیسے ملتا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کا ڈھنڈورا کیسے پیٹا جاتا۔ ہاں ایک بات تو رہ ہی گئی۔ حافظ سعد حسین رضوی کو صفِ اول کے لیڈروں میں لانے کی مشق بھی تو ضروری تھی، وگرنہ ان کا کیسے ٹیسٹ ہوتا کہ وہ اپنے والد خادم حسین رضوی کے سچے اور پکے جانشین ہیں۔ ان کی امارت پر کامیابی کا ٹھپہ لگ گیا ہے، وہ لوگ جو تحریک لبیک کے اندر ان کے امیر بننے پر اعتراض کرتے تھے، اب بے بس ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ حافظ سعد حسین رضوی کے مضبوط اعصاب اور قائدانہ صلاحیتوں کا بھرپور ثبوت مل گیا ہے۔قومی اسمبلی کا اچانک اجلاس بلا کر تحریک لبیک سے معاہدے کے مطابق حکومت نے قرارداد پیش کرائی تو سب کچھ سکرپٹ کے عین مطابق تھا، مگر پیپلزپارٹی کی طرح پی ڈی ایم کی جماعتوں نے اجلاس کا بائیکاٹ نہ کرکے ایک مشکل کھڑی کر دی۔

حکومت کا منصوبہ تھا کہ اس قرارداد کو بالا بالا پیش کرکے منظور کر لیا جائے گا، لیکن اپوزیشن کی جماعتیں اسمبلی کے اندر موجود تھیں، اصولاً انہیں قرارداد کا مسودہ دیا جانا چاہیے تھا۔ اس پر شاہد خاقان عباسی نے اعتراض کیا، تاہم وہ جذبات میں حد سے بڑھ گئے، انہوں نے سپیکر اسد قیصر کو جوتا مارنے کی دھمکی دے دی۔ ان کے اس عمل کی وجہ سے یہ اہم بات دب گئی کہ اپوزیشن کو قرارداد کی کاپیاں کیوں نہیں دی گئیں، پھر انہوں نے سپیکر سے ایک گھنٹہ مانگا تاکہ اپوزیشن قرارداد پر غور و فکر کرکے اس میں ترمیم و تبدل طے کر سکے، مگر اس کی اجازت انہیں کیسے مل سکتی تھی، اس طرح تو وہ سارا سکرپٹ تتر بتر ہو جاتا، جو اس سارے ڈرامے کا آغاز سے اختتام تک لکھا گیا تھا، سو یہ قرارداد جوں کی توں بحث کے لئے منظور ہو گئی، یعنی دیکھا جائے تو اب اس معاملے میں حکومت کامیابیاں ہی سمیٹتی چلی جا رہی ہے۔لگتا یہی ہے کہ اس بار بھی اپوزیشن کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ سب سے ماہرانہ کردار پیپلزپارٹی نے ادا کیا ہے۔ اور اس مہارت سے کیا ہے کہ خود پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی اسے سمجھ نہیں سکیں۔ کہنے کو بلاول بھٹو زرداری نے کہہ دیا ہے کہ وزیراعظم اپنا گند خود صاف کریں، مگر درحقیقت اس اہم موقع پر ایوان سے غیر حاضر رہ کر پیپلزپارٹی نے ایک بار پھر حکومت کے لئے سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے۔ پیپلزپارٹی ایوان میں موجود ہوتی تو شاید حکومت اتنی آسانی سے تمام مراحل طے نہ کر پاتی، مگر وہ پیپلزپارٹی ہی کیا جو مشکل وقت میں حکومت کی مدد کو نہ آئے۔ پہلے بھی تو اس نے ہر موقع پر اسے پی ڈی ایم کے شر سے بچایا ہی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *