اپنی صفوں میں امیدوار برائے وزیراعظم کی تلاش :

لاہور (ویب ڈیسک) نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کا ووٹ بینک یقینا اب بھی خاصا طاقت ور ہے بالخصوص وسطی پنجاب کے شہروں اور دیہات میں ۔یہ ووٹ بینک مگر تحریک لبیک جیسی جماعتوں کے کارکنو ں کی طرح اپنے رہ نمائوں کی گرفتاری سے چراغ پا نہیں ہوتا۔

نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاموشی سے برداشت کرلیتا ہے۔شہباز صاحب نے مسلم لیگ (نون) کی قیادت سنبھالنے کے بعد مذکورہ رویے کو بھرپور عوامی رابطوں کے ذریعے ’’انقلابی‘‘ بنانے کی کوشش کبھی کی ہی نہیں۔اسی باعث عمران حکومت ان سے خائف محسوس نہیں کرتی۔آئندہ وزیر اعظم کا نام طے کرلینا موجودہ حالات میں ویسے ہی سوت نہ کپاس۔کولہو سے لٹھم لٹھا جیسا کار بے سود نظر آتا ہے۔آئینی اعتبار سے عمران خان صاحب کو اپنے منصب پر اور موجودہ قومی اسمبلی کو 2023کے وسط تک برقرار رہنا ہے۔نئے انتخاب مذکورہ سال کے آخری ہفتوں میں ہوں گے۔عمران حکومت کے کئی ارسطو مگر سنجیدگی سے یہ سوچ رہے ہیں کہ آئندہ انتخابات اگر 2023میں شیڈول کے مطابق ہوئے تو مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ آئے عوام کی اکثریت تحریک انصاف کی حمایت میں ووٹ ڈالنے سے گریز کرے گی۔ اگر ممکن ہو تو آئندہ انتخابات کو چند ماہ تک مؤخر کردیا جائے۔ فرض کیا جارہا ہے کہ منی بجٹ وغیرہ کی بدولت ہمارے ہاں ممکنہ طورپر جو معاشی استحکام فراہم ہوگا اور قومی خزانے میں ٹیکس جمع کروانے کی عادت لوگوں میں پختہ ہوجائے گی تو ان کے مثبت اثرات 2024کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ثابت کئے جاسکتے ہیں۔انتخاب کو کم از کم ایک سال کے لئے مؤخر کرنے کا جواز وہ قانون فراہم کرتا ہے جس نے الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کا پابند کیا ہے۔اس کے علاوہ غیر ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کے ووٹ پول کروانے کا بندوبست بھی فراہم کرنا ہے۔2023کے بجائے 2024تک اپنی حکومت برقرار رکھنے کے جواز ڈھونڈتے صاحبانِ بصیرت وبصارت کے ہوتے ہوئے مسلم لیگ (نون) کی صفوں سے نیا وزیر اعظم تلاش کرنا مجھے تو بچوں کو مصروف رکھنے والا کھیل ہی نظر آرہا ہے۔

Comments are closed.