اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرو اور یہ کام کرو ،۔۔۔۔۔ سہیل وڑائچ کا وزیراعظم عمران خان کے لیے زبردست مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک وقت میں ریاست ان کے ساتھ تحریری معاہدے کر رہی تھی، ان کو عزت و احترام دے رہی تھی اور اب یہ وقت آ گیا ہے کہ اسی جماعت کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ہم

اس جماعت سے ریاستی معاہدے کر رہے تھے، ہم اس وقت ٹھیک تھے یا اب جب ہم اسے کالعدم قرار دے رہے ہیں، تو ٹھیک ہیں؟مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا مگر ہم کہاں کے دانش مند ہیں کہ بار بار وہی غلطی دہراتے ہیں۔ خود ہی ایک بت تراشتے ہیں، اس کے بال و پر ترتیب دیتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد اسی بت کو توڑنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اس دو عملی، اس دو چہرہ پالیسی نے ریاست کو دنیا بھر میں مذاق بنا دیا ہے۔ہمارے اندرونی تضادات ہی ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ دو عملی اور دو چہرہ پالیسی جماعت الدعوۃ کے زمانے میں بھی نظر آئی، بیگم کلثوم نواز کے مقابلے میں جماعت الدعوۃ کا باقاعدہ امیدوار کھڑا کیا گیا اور دلیل یہ تھی کہ جہادی اور سخت گیر تنظیموں کو انتخابی میدان میں لانے سے ان میں نرمی آئے گی اور وہ دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح نارمل سیاسی جماعتیں بننے کی راہ پر چل پڑیں گی۔ اب دوسری مثال دیکھیں تحریک لبیک نے باقاعدہ 2018کا الیکشن لڑا، 22لاکھ ووٹ لئے، اب تو وہ مین اسٹریم پارٹی تھی، اسے کالعدم قرار دینے سے وہ دلیل غیرموثر ہو گئی جو جماعت الدعوۃ کو میدان سیاست میں لانے کے لئے دی جاتی تھی۔دنیا میں ریاستیں دو چہرہ نہیں ہوتیں۔ ان کے قانون، قاعدے اور اصول سب کے لئے برابر اور منصفانہ ہوتے ہیں جبکہ ہمارا طریقہ یہ ہے کہ اپنا دوست ہو یا اپنا فائدہ ہو تو ترازو کو اس کے حق میں جھکا دو اور اگر اپنا نقصان ہو رہا ہو

یا وہ اپنا سیاسی یا مذہبی حریف ہو تو پھر ترازو اپنی طرف جھکا کر اس کو برباد کر دو۔ یہ دونوں رویے غلط ہیں۔ ریاستی پالیسی کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر۔ اس وجہ سے قانون اور قاعدے کا احترام بھی باقی نہیں رہتا۔ذہانت کے اعتبار سے ہم دنیا میں کسی سے کم نہیں۔ ہمارے لوگ دنیا میں جہاں بھی گئے ہیں انہوں نے اپنی عقل کا بہترین استعمال کر کے باقی دنیا سے بہتر مقابلہ کیا ہے۔ ہمارے ڈاکٹر اور انجینئر دنیا میں بہترین سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہماری فوج اور ہمارے انٹیلی جنس ادارے بھی دنیا کے ٹاپ موسٹ اداروں میں شمار کئے جاتے ہیں بظاہر ایسی ریاست کو دنیا بھر میں ٹاپ موسٹ ہونا چاہئے مگر ایسا نہیں ہے اور اس کی وجہ ہمارا دو چہرہ ہونا ہے۔ ہمارا اپنے بارے میں غلط فیصلے کرنا ہے۔ ہم اصولوں پر نہیں مفادات کی بناپر فیصلے کرتے ہیں۔افراد دو چہرہ ہوں تو لڑتے جھگڑتے پھر بھی زندگی گزار لیتے ہیں مگر ریاست دو عملی کا شکار ہو تو اقوام عالم میں اس کا گزارا مشکل ہو جاتا ہے۔ ریاست کو اپنے قواعد و ضوابط، آئین اور قانون کا پابند ہونا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں ریاستی معاہدے محض مذاق ہیں، اب کون ریاست سے پوچھے کہ فرانسیسی سفیر کو 20اپریل تک ملک بدر کرنے کے معاہدے پر اگر عمل ممکن نہیں تھا تو اس پر دستخط ہی کیوں کئے تھے؟ اسی طرح تحریک لبیک سے مذاکرات اور معاہدوں کا جو انجام اب ہوا ہے، کیا اس سے سبق سیکھا جائے گا یا پھر ریاست مستقبل میں بھی دو چہرے ہی دکھاتی رہے گی؟صاف بات ہے اگر واقعی ریاست نے ہتھیار اٹھانے والی ہر جماعت کو کالعدم قرار دینا ہے تو پھر اپنے پرائے سب ہی کالعدم قرار دیے جائیں۔ اگر ریاست اپنی منجی تھلے ڈانگ نہیں پھیرے گی تو معاشرہ تقسیم در تقسیم ہوتا جائے گا۔ ایک دوسرے کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلیں گی، بدامنی اور مزاحمت کا دور شروع ہو جائے گا۔اگر سعد رضوی کو گرفتار ہی کرنا تھا تو کیا متوقع ردِعمل کا مناسب بندوبست کرنا ریاست کی ذمہ داری نہیں تھی؟ پچھلی دفعہ خادم رضوی صاحب کو گرفتار کیا گیا تو مناسب کنٹرول کی وجہ سے ردِعمل سامنے نہیں آ سکا تھا، اس دفعہ کمزور وناقص پلاننگ سے انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوا اور قانون کا مذاق بھی اڑا۔ کاش ہم اب اپنی غلطیوں سےہی کچھ سیکھ جائیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *