اپنے گڑھ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف بلدیاتی الیکشن میں کیسے ہار گئی ؟

پشاور (ویب ڈیسک) نامور صحآفی عزیز اللہ خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔خیبر پختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے مکمل اور حتمی سرکاری نتائج آنے سے قبل ہی سوشل میڈیا پر یہ تاثر قائم ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف کا گڑھ سمجھے جانے والے صوبے میں

حکومتی جماعت کی مقبولیت میں کمی آئی ہے جس کا اعتراف کرتے ہوئے حکومتی وزرا نے مہنگائی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے سترہ شہروں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے نتائج میں تحریک انصاف کو کئی علاقوں میں دھچکا پہنچا ہے لیکن پشاور کے میئر کا نتیجہ روک دیا گیا ہے۔اب تک کے نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علماء اسلام کے امیدوار بیشتر شہروں میں سبقت حاصل کیے ہوئے ہیں لیکن تحریک انصاف کو کئی اہم علاقوں میں شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا۔اب تک کے جو اہم نتائج سامنے آئے ہیں ان میں پشاورکے بلدیاتی انتخابات میں 24 تحصیلوں کے ریٹرنگ افسران کے نتائج موصول ہو گئے ہیں جس میں 24 میں سے 12 میں جے یو آئی کے امیدواروں کو جیت ہوئی ہے۔اس کے علاوہ پی ٹی آئی کو پانچ، اے این پی کو تین ،آزاد امیدوار کو ایک اور پاکستان مسلم لیگ نواز بھی تین نشستیں لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔کوہاٹ اور بنوں تحصیل میں بھی جمعیت کے امیدوار آگے ہیں۔ مردان میں عوامی نینشل پارٹی جبکہ نوشہرہ میں پی ٹی کے امیدوار کامیابی سے ہمکنار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔پشاور کی سٹی میئر کی نشست پر امیدواروں کی پوزیشن ایسی ہے کہ جمعیت کے امیدوار پہلے نمبر پر تو پی ٹی آئی دوسرے اور عوامی نیشنل پارٹی تیسرے اور پیپلز پارٹی چوتھے نمبر پر نظر آ رہی ہے۔الیکشن کمیشن کے ترجمان سہیل احمد کے مطابق انتخابات میں پولنگ کے دوران پشاور کی ایک نیبرہوڈ کونسل کے کچھ پولنگ سٹیشز پر ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے بعد وہاں پولنگ روک دی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ان پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ ہوگی جس کے بعد ہی نتائج سامنے آئیں گے۔’سہیل احمد کا مزید کہنا تھا کہ اس سارے مرحلے میں کچھ وقت درکار ہوگا جس کے بعد ہی الیکشن کمیشن ری پولنگ کا اعلان کرے گا۔سہیل احمد کے مطابق ضلع بنوں کی تحصیل بکا خیل میں بھی پولنگ روک دی گئی تھی تحریک انصاف کے صوبائی وزرا شوکت یوسفزئی اور عاطف خان سے جب مقامی صحافیوں نے تنائج پر سوال کیا کہ تحریک انصاف کو اپ سیٹ کیوں ہو رہا ہے تو انہوں نے مہنگائی کو مورد الزام ٹھہرایا۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ‘ہار جیت ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے لیے مہنگائی کی وجہ سے مشکلات رہیں۔ اس حکومت پر کسی قسم کی کرپشن کا الزام نہیں لگا۔ صرف مہنگائی ہے جس کی وجہ سے لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔ہماری کوشش ہے کہ دو تین مہینے میں مہنگائی کو کم کیا جائے۔ عمران خان کو بھی اس بات کا احساس ہے۔ کچھ ایسا ہی جواب عاطف خان نے دیا جن کے مطابق ‘جس طرح کے نتائج آئے ہیں اس کی اصل وجہ مہنگائی ہے۔’لیکن دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان نتائج کے پیچھے ٹکٹوں کی تقسیم اور اندرونی لڑائیوں کا بھی ہاتھ ہے۔کوہاٹ کی بات کی جائے تو دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار ہیں جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے جبکہ تیسرے نمبر پی ٹی آئی کے اپنے ٹکٹ ہولڈر امیدوار ہیں ۔ بی بی سی کو مقامی ذرائع نے بتایا کہ مقامی کارکنوں نے پارٹی قیادت کے ٹکٹ دینے کے فیصلے کو مسترد کیا ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر محمود جان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس موقف کی تائید کی اور کہا کہ ‘میرے اپنے حلقے کا ایم این اے نور عالم خان اپنے سالے، جو جے یو آئی کا امیدوار تھا، کی کھلم کھلا حمایت کر رہا تھا۔ ساتھ والے حلقے میں بھی ایم پی اے ایک آزاد امیدوار کی حمایت کر رہا تھا۔’انہوں نے کہا کہ ‘جن کو بلے نے عزت دی وہ کچھ روپوں اور اپنے مقاصد کے لیے بک گئے ہیں اور انھوں نے پارٹی کو سپورٹ نہیں کیا۔’سینیئر صحافی عرفان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور اور کچھ دیگر اضلاع میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کے چناؤ پر جماعت کے اندر اختلافات رہے ہیں جن کی وجہ سے حکمران جماعت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائی۔انھوں نے کہا کہ اس کے برعکس جے یو آئی ایف نے تین سالوں میں محنت کی اور لوگوں سے رابطے بحال رکھے جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی اچھی رہی۔واضح رہے کہ ماضی میں جے یو آئی ایف خیبر پختونخوا صوبے کے جنوبی اضلاع تک ہی محدود دہی لیکن اس مرتبہ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں صوبے کے مرکزی علاقوں جیسے پشاور، چارسدہ اور صوابی میں اپنی پوزیشن بہتر کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔یہ بات بھی اہم ہے کہ ماضی میں جمعیت دیگر مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر کامیابی حاصل کرتی رہی لیکن اس مرتبہ تمام مذہبی جماعتیں اپنے طور پر مقابلے میں اتریں اور بعض حلقوں میں جمعیت اور جماعت اسلامی کے امیدوار آگے پیچھے رہے۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں سال 2013 کے بعد سے پی ٹی آئی واحد بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی اور صوبائی اور قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ ماضی میں بلدیاتی انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کا ہی پلڑا بھاری رہا۔عرفان خان کے مطابق گذشتہ روز ہونےو الے انتخابات میں لوگوں کا رجحان ملا جلا رہا لیکن ماضی میں جو حمایت پی ٹی آئی کو حاصل تھی وہ اب نظر نہیں آئی۔ ‘اس مرتبہ ووٹرز تقسیم تھے۔’عرفان خان کے مطابق جمعیت کے علاوہ عوامی نینشل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے ووٹ بینک میں بھی اضافہ ہوا اور اگر کہا جائے کہ ان جماعتوں نے پی ٹی آئی کے آنے سے پہلے والی پوزیشن دوبارہ حاصل کر لی ہے تو غلط نہیں ہوگا ۔خیبر پختونخوا کے نتائج پر سوشل میڈیا پر ہونے والے تبصروں میں جہاں ایک جانب ہر پارٹی کے حمایتی اراکین نے اپنی اپنی جیت کے دعوے کئے وہیں غیر جانب دار تجزیہ کاروں اور صحافیوں نے ان نتائج کی اصل وجوہات کی جانب بھی اشارے کیے جو آئندہ آنے والے عام انتخابات میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔پشاور سے صحافی افتخار فردوس نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ‘پی ٹی آئی کو اس لیے شکست ہوئی کیوں کہ وہ کئی جگہوں پر پی ٹی آئی کے خلاف ہی الیکشن لڑ رہی تھی۔’صحافی عمر فاروق نے لکھا کہ ‘اگر غور کیا جائے تو پورے ضلع پشاور سے پاکستان تحریک انصاف کو ایک بھی نشست پر کامیابی نہی ملی کیونکہ سات تحصیلوں میں سے جو ایک تحصیل نشست پاکستان تحریک انصاف جیتی ہے وہ بھی سابقہ فاٹا یعنی سب ڈویژن حسن خیل سے جیتی ہے۔’اگر غور کیا جائے تو پورے ضلع پشاور سے پاکستان تحریک انصاف کو ایک بھی نشست پر کامیابی نہی ملی کیونکہ سات تحصیلوں میں سے جو ایک تحصیل نشست پاکستان ٹحریک انصاف جیتی ہے وہ بھی سابقہ فاٹا یعنی سب ڈویژن حسن خیل سے جیتی ہے۔ندیم فاروق پراچہ نے ان نتائج پر اپنے تجزیے میں لکھا کہ یہ تحریک انصاف کے لیے پریشان کن بات ہے کہ 2013 سے اس کا گڑھ سمجھے جانے والے صوبے میں اپوزیشن جماعتوں خصوصا جے یو آئی ایف اور عوامی نیشنل پارٹی نے کافی کامیابی حاصل کی ہے۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایک طبقہ حکومتی حمایتیوں کا بھی تھا جن کا دعوی تھا کہ ایسا بھی نہیں کہ تحریک انصاف کو بہت بڑی شکست ہوئی ہو کیوں کہ ابھی حتمی نتائج آنا باقی ہے۔(بشکریہ : بی بی سی )

Comments are closed.