اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم نے کسے چیئرمین سینیٹ کے لیے میدان میں اتار دیا ؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پی ڈی ایم نے چیئرمین سینیٹ کیلئے پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کے نام کی متفقہ امیدوار کے طور پر منظوری دیدی، جبکہ ڈپٹی چیئرمین کا معاملہ موخر کر دیا گیا، اپوزیشن اتحاد نے لانگ مارچ کی تیاریاں مکمل کرلی ہے، اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے

مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے کہاکہ ہمارا مقصد اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کا خاتمہ ہے، گیلانی کی کامیابی نے حکمرانوں کی جڑیں کھوکھلی کردیں، عوام انکی فتح کوPTI اور سلیکٹر کی شکست کے طور منا رہے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ لانگ مارچ 26؍ مارچ سے شروع ہوگا، لانگ مارچ میں استعفوں کا آپشن موجود ہے، سینیٹ میں ایجنسیوں کی مداخلت رہی تو حقائق منظر عام پر لائینگے، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی جیت سے امید ملی، ایک اور فتح نام کرنا چاہتے ہیں، کامیابی کے سو باپ، ناکامی یتیم ہوتی ہے،مریم نواز نے کہا کہ حکومت کے پاس اکثریت نہیں، سینیٹ الیکشن جیتنے کیلئے اپوزیشن اراکین کو فون کالزآنا شروع ہوگئی ہیں، پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لاکر پھر ان ہی کا وزیر اعلیٰ لانا عقلمندی نہیں، یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکمرانوں کو شکست ہضم نہیں ہو رہی ہے،لانگ مارچ کیلئے ہوم ورک مکمل کرنا ہوگا۔تفصیلات کے مطابق پیر کو پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کا اجلاس سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت پیر کو یہاں مقامی ہوٹل میں ہوا جس مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز ، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری، محمود خان اچکزئی، آفتاب شیر پاؤ، عثمان کاکڑ، ساجد میر، میاں افتخارحسین، یوسف رضاگیلانی، شاہد خاقان عباسی، راجہ پرویز اشرف بھی شریک ہوئے، سابق وزیراعظم نواز شریف لندن سے ورچوئلی شریک ہوئے۔اجلاس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے مشترکہ امیدواروں، لانگ مارچ کی تیاریوں و حکمت عملی، وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کے بعد کی صورتحال اور مجموعی ملکی سیاسی حالات پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران لانگ مارچ کیلئے قائم خصوصی کمیٹی نے سفارشات پیش کیں، جس میں کہا گیا کہ لانگ مارچ 26 مارچ کو کراچی سے ایک عوامی اجتماع کے ساتھ شروع کیا جائے، تمام جلوس 30 مارچ کی سہ پہر 3 بجے تک اسلام آباد پہنچیں گے، تمام جماعتیں زیادہ سے زیادہ افراد کو لانے کیلئے پوری طرح متحرک ہوں، تمام جماعتیں اپنے اخراجات خود برداشت کریں گی۔ لانگ مارچ کیلئے مختلف کمیٹیاں فوری طور پر تشکیل دی جائیں، دھرنے کے مقام پر شرکا کے پہنچنے سے قبل انتظامات کئے جائیں، دھرنا اس وقت تک جاری رہیگا جب تک کہ مقصد حاصل نہیں ہوتا ہے، اس کیلئے تاجروں، کسانوں اور مزدور یونینوں سے رابطہ کرکےاور انہیں متحرک کیا جائے۔پی ڈی ایم اجلاس میں نواز شریف نے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے ٹھیک کہا تھا کہ گیلانی صاحب کی کامیابی کا اثر ملکی سیاست پر ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ عوام یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کو پی ٹی آئی اور سلیکٹرز کی شکست کے طور پر منا رہے ہیں۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ چار روز بعد چیئرمین سینیٹ کے انتخابات ہونا ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن جیت کر ایک اور فتح اپنے نام کریں، پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کے روڈ میپ کے ساتھ کمٹڈ ہے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے سربراہی اجلاس میں ایک بار پھر اسمبلیوں سے استعفے دینے کی تجویز پیش کردی۔

مولانا فضل الرحمن نے مشورہ دیا کہ ہمیں پارلیمنٹ سے استعفے دینے چاہیں اور پھر ساری توجہ تحریک پردینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ استعفے بھی جمہوری عمل ہیں۔لانگ مارچ کے حوالے سے سربراہ اتحاد نے تجویز پیش کی کہ ہمیں واضح حکمت عملی کے ساتھ لانگ مارچ کرنا چاہیے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہاکہ ملکی معیشت تباہ کر دی گئی ہے، خارجہ پالیسی بھی ناکام ہے۔پی ڈی ایم اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم نے اعلان کردیا ہے کہ 26 مارچ کو اسلام آباد کی طرف مارچ ہوگا اور اجلاس میں اس کا اعادہ کیا گیا اور پوری قوم سے اپیل کی گئی کہ اس غیرآئینی حکومت کے خاتمے کیلئے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ 30 تاریخ تک یہ قافلے منزل مقصود تک پہنچنا شروع ہونگے، اس حوالے سے حکمت عملی کیلئے 15 مارچ کو سربراہی اجلاس ہوگا جس میں مزید تفصیلات طے کی جائینگی۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کیلئے پہلے سے ذہن موجود تھا تاہم دوسرے عہدے کیلئے کوئی مشاورت نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایاکہ ڈپٹی چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اجلاس (آج) منگل کو ہوگا،شاہد خاقان عباسی، میاں افتخار حسیں، جمالدینی اکرم درانی راجہ پرویز اشرف اور طاہر بزنجو شرکت کرینگے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہفتہ کو ایک جعلی وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ لینے کی کوشش کی، یہ اجلاس صدر ہی بلا سکتا ہے تاہم اس اجلاس کو بلانے کیلئے جعلی وزیراعظم نے سمری بھیجی ہے جبکہ آئین میں وزیراعظم کی طرف سے سمری کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، آئین کی تحت یہ اجلاس نہیں بلایا گیا یہ غیر آئینی ہے اور ووٹ بھی غیر آئینی ہے ۔ مریم نواز نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کیلئے حکومت اور اتحادی اقلیت میں ہیں جبکہ اپوزیشن کے پاس اکثریت ہے تو پھر انہوں نے اپنا امیدوار کس بنیاد میں کھڑا کیا کیونکہ وہ تو جیت نہیں سکتے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی امیدوار کے جیتنے کی صرف یہ وجوہات ہوسکتی ہیں کہ پیسے سے خرید و فرخت کریں، دوسرا ایجنسیوں کو استعمال کرکے دباؤ ڈال کر اپوزیشن اراکین کو سینیٹ میں توڑ کر اپنی جماعت کی پالیسی یا ڈسپلن سے ہٹ کر ووٹ دینے کیلئے دباؤ ڈالیں گے۔ مریم نواز نے کہا کہ ایک طریقہ ہے کہ اپوزیشن اراکین کو فون کالز آئیں جو کہ آنا شروع ہوگئی ہیں، اسی بنیاد پر آپ سینیٹ کا انتخاب جیت سکتے ہیں کیونکہ آپکے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.