اگر آج شہباز شریف انکی جگہ پر ہوتا تو ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے کپتان کی یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ اپنی کیفیت کو چھپاتے نہیں جو محسوس کرتے ہیں کہہ دیتے ہیں بعض اوقات تو یوں لگتا ہے وہ وزیر اعظم نہیں ایک بے بس آدمی ہیں جو مسائل کی نشاندہی تو کرتا ہے

انہیں حل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ پہلی مرتبہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ طاقتور گروہ ہیں، جو حکومت کو چلنے نہیں دے رہے۔ عمران خان ان گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہیں حالانکہ جذباتی ہونے سے بات نہیں بنتی، ایکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں وزیر اعظم سے براہ راست رابطے کا پروگرام دیکھ رہا تھا، تو اسی دوران ایک خاتون کی کال آئی، اس نے بتایا کہ وہ بیوہ ماں کی بیوہ بیٹی ہے اور تین بچوں کی ماں ہے۔ لاہور میں اس نے اپنا مکان کرایہ پر دیا تھا، جسے دیا اس کا ایک بھائی پولیس میں ایس پی ہے اس نے کرایہ دیا اور نہ قبضہ چھوڑا۔ بڑی تگ و دو کے بعد قبضہ ملا تو اب وہ شخص پانچ لاکھ روپے جو کرائے کی مد میں واجب الادا تھے نہیں دے رہا۔ جبکہ اس کی والدہ سرطان کے مرض میں مبتلا ہے اور اس کے پاس کھانے تک کے پیسے نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان صبر آزما انداز میں اس کی لمبی کال سنتے رہے، وہ عورت انتظار میں ہو گی کہ ابھی وزیر اعظم آئی جی پنجاب کو داد رسی کے لئے حکم جاری کریں گے۔ لیکن وزیر اعظم پھر وہی مافیاز کا تذکرہ لے کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے پی ڈی ایم کا بھی ذکر کیا کہ وہ گروہوں پر مشتمل ہے جب تک یہ لوگ قانون کے نیچے نہیں آئیں گے، قبضے بھی ہوتے رہیں گے اور انصاف بھی نہیں ملے گا۔ لمبی چوڑی سیاسی تقریر کرنے کے بعد وزیر اعظم نے آخر میں ایک جملہ کہا ہم نے آپ کا مسئلہ نوٹ کر لیا ہے، اسے دیکھتے

ہیں۔ میں سوچنے لگا کہ کپتان اور ماضی کے حکمرانوں کی سوچ میں یہی بنیادی فرق ہے مثلاً اگر نوازشریف یا شہباز شریف یہ کال سن رہے ہوتے تو انہوں نے اسی وقت آئی جی پنجاب کو کال ملانی تھی، اس ایس پی کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرنی تھی جن کا بھائی بیوہ کے مکان پر قابض رہا اور ساتھ ہی بیوہ خاتون کو فوری انصاف فراہم کرنے کا حکم بھی جاری کرنا تھا۔ مگر کپتان یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک پورا نظام ٹھیک نہیں ہو جاتا، عام آدمی کو ریلیف نہیں مل سکتا اب ان کی یہ حکمتِ عملی ایک ایسی زنبیل ہے جس میں سے کچھ نکلنا کرشمے کے سوا ممکن نہیں شاید اسی کے لئے وہ ضرب المثل بنی ہے، ”نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔“ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ مثلاً اسی خاتون نے وزیر اعظم سے یہ گزارش بھی کی کہ وہ چیف جسٹس سے بات کریں کہ عدالتیں ایسے کیسوں میں بے جا حکم امتناعی نہ دیں کیونکہ بعض لوگوں کا دارومدار ہی کرائے کی آمدنی پر ہوتا ہے۔ اب اس خاتون کو کون سمجھائے کہ وزیر اعظم چیف جسٹس کو یہ نہیں کہہ سکتے، عدالتیں آزاد ہیں اور ان کا اپنا ایک نظام ہے۔وطن عزیز میں طاقتور طبقوں کو قانون کے نیچے لانے کے لئے کم از کم مزید ستر برس تو ضرور درکار ہوں گے۔ جن مقدمات میں حکومت مدعی بنتی ہے، ان میں بھی کسی طاقتور کو قانون کے دائرے میں لانا مشکل ہو جاتا ہے،

اس کی ایک مثال جہانگیر خان ترین کیس ہے جو حکومت کے گلے میں ہڈی بن کر اٹک گیا ہے۔ جہاں کوئی غریب آدمی طاقتور کے سامنے آکھڑا ہو، وہاں تو اس کی نسلیں برباد ہو جاتی ہیں اسے انصاف نہیں ملتا۔ غریبوں کا دکھ صرف یہی نہیں کہ انہیں دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے ملتی ہے ان کا ایک بڑا دکھ یہ بھی ہے کہ انہیں عزت نفس کے ساتھ زندہ رہنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ کیا ہمارا نظام انصاف کسی غریب کو امیر کے مقابلے میں انصاف فراہم کرنے کی سکت رکھتا ہے۔ وزیر اعظم کی نیندیں اس بات پر بھی اڑ جانی چاہئیں کہ ان کے دور میں خلقِ خدا انصاف کے لئے دربدر ہے اور ظالموں کے خلاف داد رسی کے لئےدربدر پھرتی ہے۔اگر کپتان یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے بائیس سالہ جدوجہد اسی لئے کی تھی کہ معاشرے میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تو انہوں نے ابھی تک اس ضمن میں کیا کیا ہے۔ کوئی قانون سازی، عدلیہ سے کوئی مشاورت، چیف جسٹس سے کوئی ملاقات، پولیس میں اصلاحات، ضابطہ دیوانی و فوجداری میں وقت کے لحاظ سے ترامیم، آخر کچھ تو کرنا پڑے گا کہ غریبوں کو امیروں کے مقابلے میں انصاف مل سکے۔ اگر کرنا کچھ بھی نہیں اور صرف نیند نہ آنے کا دکھ ہی بیان کرنا ہے تو پھر نہ یہ دکھ ختم ہوگا، نہ غریبوں کو انصاف اور دو وقت کی روٹی مل سکے گی۔ کپتان کو اب یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی لمبی لمبی تقریریں یکسانیت کا شکار ہو چکی ہیں اب عملی اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔ صرف دو سال رہ گئے ہیں، جن میں وہ اگر کوئی عملی تبدیلی لا سکتے ہیں تو لائیں۔ صرف یہ لیکچر دینے سے عوام کی تشفی نہیں ہو سکتی کہ ملک میں گروہ بہت طاقتور ہیں انہیں قانون کے نیچے لا رہے ہیں۔چل بسے گی لوق تو انصاف کرو گے، وقت تیزی سے گزر رہا ہے، کچھ کرنا ہے تو کر گزریں وگرنہ تاریخ کا ناکام ترین حکمران کہلوانے کے لئے تیار رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *