“اگر آپ روزے رکھیں گے تو جنت میں آپ کو اپنی ہی بیوی حور کے طور پر ملے گی “

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں اپنے ایک دوست پر شک ہوا کہ اس کا روزہ نہیں، ہم نے اسے کہا، قسم کھاؤ، تمہارا روزہ ہے۔ ۔۔دوست ہمیں دیکھ کر مسکرایا اور بڑی معصومیت سے کہنے لگا۔۔ واہ، قسم کھا کر میں اپنا روزہ توڑ لوں۔۔

ایک مولوی صاحب کسی گاؤں کی مسجد میں درس دے رہے تھے۔۔کہنے لگا، روزوں کے بدلے جنت میں آپ کو اپنی ہی بیوی ملے گی۔ یہ سن کر پاس بیٹھے دیہاتی نے اپنے ساتھ والے کو کہنی رسید کی اور سرگوشی کی۔۔ پتر ہور رکھ روزے۔۔ایک دن ہم بیٹھے سوچ رہے تھے کہ افطار کا وقت ہوتا ہے، قریبی مسجد سے سائرن کی یا اذان کی آواز آجاتی ہے۔جہاں مسجد کافی دور ہے وہاں لوگ ٹی وی یا ریڈیو سے اپنے مقامی وقت کے مطابق روزہ افطار کرلیتے ہیں۔۔لیکن جو فضائی مسافر ہوتے ہیں ،زمین سے ہزاروں فٹ اوپر ہوتے ہیں، وہ افطار کے وقت کا تعین کیسے کریں؟؟ نیوز سائٹ ایمریٹس 247 نے یہی سوال دبئی کے گرینڈ مفتی ڈاکٹر علی احمد مشائل کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ افطار کے لئے اس جگہ کے وقت پر انحصار کیا جائے گا جہاں آپ جسمانی طور پر موجود ہیں، یعنی دوران پرواز افطار کے لئے آپ اس جگہ کے وقت کے مطابق افطار نہیں کریں گے جہاں آپ نے روزہ رکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ ہوائی جہاز میں سفر کررہے ہیں تو فضائی عملے سے معلوم کریں کہ سورج غروب ہو چکا یا نہیں، اور غروب آفتاب کا اطمینان کر لینے کے بعد ہی افطار کریں۔ اگر آپ کو بتایا جاتا ہے کہ سورج غروب ہوچکا ہے تو آپ روزہ افطار کرسکتے ہیں۔اگر آپ کا ہوائی سفر اس نوعیت کا ہے کہ آپ مختلف ٹائم زونز میں 24 گھنٹوں کے دوران بھی سورج کو غروب ہوتا نہیں دیکھ سکتے تو اس صورت میں روزے کے اوسط دورانیے کا حساب لگائیں اور اس کے مطابق افطار کریں، یا مکہ کے وقت افطار ، اور یا اپنی قریب ترین جگہ پر غروب آفتاب کے وقت کے مطابق افطارکریں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *