: اگر ایسا ہوا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلیم صافی نے پوری دنیا کو خبردار کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) افغانستان پر تالبان کے قبضے کے بعداقتصادی محاذ پر چند مزید تبدیلیاں آگئیں۔ پہلا کام تو یہ ہوا کہ افغانستان میں ہر سال جو اربوں امریکی ڈالر آرہے تھے، ان کا سلسلہ بند ہوا۔ سرکاری ملازمین کو امریکہ کی طرف سے ادائیگیاں روک دی گئیں جبکہ اشرف غنی حکومت نے بھی تین ماہ کی تنخواہیں ادا نہیں کیں۔

نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔امریکہ اور مغربی ممالک چونکہ تالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اس لئے اس کے حصے کے 9ارب ڈالر کے فارن ایکسچینج ریزروز بھی امریکہ نے منجمد کردئیے۔ تالبان حکومت دنیا کے ساتھ آزادانہ تجارت کرنےکے بھی قابل نہ رہی۔لڑائی کا خاتمہ تو ہوگیا لیکن المیہ یہ ہے کہ تالبان صرف لڑائی کا تجربہ رکھتے تھے جبکہ گورننس کے معاملے میں ان کا کوئی تجربہ نہیں۔ انہوں نے مخالفین کے لئے عام معافی کا اعلان تو کردیا لیکن سابقہ حکومتوں کے تجربہ کار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو اپنی حکومت میں شامل نہ کر سکے۔ ابتدا میں کئی ہفتے ان کو افغانستان پر کنٹرول حاصل کرنے میں لگے اور باقی وقت حکومت سازی پر صرف ہوا۔ جو حکومت بنائی گئی ہے، اسے عبوری حکومت کا نام دیا گیا ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ مستقل حکومت کب اور کن بنیادوں پر بنائی جائے گی؟ امریکہ اور مغرب کے مطالبات تو اپنی جگہ چین، روس اور پڑوسی ممالک بھی ان سے سب فریقوں پر مشتمل (انکلوسیو) حکومت بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن تالبان اپنی موجودہ حکومت کو یہ کہہ کر انکلوسیو کہہ رہے ہیں کہ اس میں چند تاجک، ازبک اور ترکمن وزرا بھی شامل ہیں۔ امریکہ، روس اور چین سمیت سب ممالک اگرچہ ان سے رابطے میں ہیں اور بعض لوگ اس کی یہ تشریح کررہے ہیں کہ عملا ان سب نے تالبان حکومت کو تسلیم کرلیا ہے لیکن رسمی طور پر ابھی تک دنیا کے کسی ملک نے ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جس کا سب سے بڑا نقصان معیشت کی مد میں ہورہا ہے۔

ابھی تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان، روس، چین اور بعض عرب ممالک نے امدادی سامان بھیجا ہے جبکہ انڈیا بھی گندم بھجوا رہا ہے لیکن ظاہر ہے کہ خیرات سے ملک نہیں چلائے جا سکتے۔ تالبان ابھی تک معیشت کی بحالی کے لئے کوئی لائحہ عمل بھی سامنے نہیں لا سکے اور نہ مستقبل قریب میں اس کا کوئی امکان نظرآتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف ہرات شہر میں ستر فی صد کمپنیوں نے کام چھوڑ دیاہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان کو اس وقت بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے۔ آدھی سے زیادہ آبادی غذائی قلت کی شکار ہے۔ تقریباً چالیس لاکھ بچوں کو مناسب خوراک، مناسب پانی، ادویات اور شدید سردی سے بچاؤ کے لئے مناسب لباس میسر نہیں۔ایک مثبت تبدیلی یہ آئی ہے کہ تالبان حکومت میں اتنی بدعنوانی نہیں جتنی سابق حکومت میں ہوا کرتی تھی لیکن تب پیسے کی بہتات تھی اور اب پیسہ نہیں۔ دوسری مثبت تبدیلی یہ آئی ہے کہ فی الحال لڑائی کاخاتمہ ہوگیا ہے لیکن بدقسمتی سے امریکیوں نے افغانستان میں صرف ہتھیار چھوڑے ، پیسہ نہیں۔اس لئے اگر معاشی مسئلے بلکہ المیے کو حل نہ کیا گیا تو طویل عرصے تک امن وامان کو برقرار رکھنا تالبان کے لئے مشکل ہوجائے گا۔ بھوک اور افلاس سے تنگ افغان بغاوت پر اتر سکتے ہیں۔ سابق حکومت کے اہلکار اور تالبان مخالف عناصر اس وقت افغانستان سے نکل چکے ہیں یا پھر ملک کے اندر خاموش بیٹھے ہیں۔تالبان نے معاشی بحران کا حل نہ نکالا تو ان کی کامیابی ناکامی میں بدل سکتی ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی حکومت کو حقیقی معنوں میں انکلوسیو بنائیں.ماہرین کو حکومت میں سموئیں اور ایسا نظام تشکیل دیں کہ ان کی حکومت کو عالمی سطح پر قبولیت مل جائے۔ افغانستان کی امداد کیلئے اب اوآئی سی کا اجلاس پاکستان میں طلب کیا گیا ہے لیکن اوآئی سی بحران کا حل کبھی نہیں نکال سکتی۔ قابل عمل راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ چین، روس اور افغانستان کے پڑوسی ممالک ایک لائحہ عمل بنائیں۔ اپنے نظام کی تشکیل اور حکومت کو انکلوسیو بنانے کے لئے تالبان ان ممالک اور بالخصوص پڑوسی ممالک کی تجاویز کو اہمیت دیں اور ان کے خدشات دور کریں۔

Comments are closed.