اگر بینظیر بھٹو کی شادی آصف زرداری سے نہ ہوئی ہوتی تو ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید حفیظ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تعلیمی شعبے میں بینظیر مریم سے خاصی آگے نظر آتی ہیں‘ وہ سکولنگ کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ چلی گئیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے مباحثوں میں ممتاز رہیں اور یونیورسٹی یونین کی صدر منتخب ہوئیں۔

ان کے مقابلے میں مریم پڑھائی میں کمزور نظر آتی ہیں ان کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں داخلے کے قصّے ڈاکٹر یاسمین راشد سے سنیں تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس کہانی میں مریم کی تعلیمی قابلیت کم اور میاں صاحب کا سیاسی زور زیادہ نظر آتا ہے۔ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بجائے مریم نے ایم اے انگلش کیا۔ وہ انگریزی اور اردو‘ دونوں زبانیں روانی سے بولتی ہیں جبکہ بینظیر کو اردو بولنے میں مشکل پیش آتی تھی۔ بینظیر کا خاندان شروع سے ماڈرن اور سیکولر تھا جبکہ شریف فیملی قدامت پسند تھی اور ظاہری طور پر بہت مذہبی بھی۔زیر بحث دونوں خواتین کے والد وزیر اعظم رہے۔ دونوں نے اپنی صاحبزادیوں کی سیاسی تربیت پر خاص توجہ دی۔ بینظیر نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد مختصر عرصے کے لیے فارن آفس میں کام کیا۔ بھٹو صاحب 1972ء میں شملہ گئے تو بینظیر کو وفد میں شامل کیا۔ اس وقت بینظیر ایک ینگ لڑکی تھیں۔ پھر قید سے باپ بیٹی میں جو خط و کتابت ہوئی اس میں روشن دماغی جھلکتی ہے اور حالات کا مقابلہ کرنے کا بے پناہ حوصلہ بھی۔ بینظیر 1986 میں پاکستان آئیں تو کراچی اور لاہور میں ان کا تاریخی استقبال ہوا۔ وقت کے حکمران کو خاصی پریشانی ہوئی اور پھر اسی قسم کا استقبال 2007ء میں کراچی میں ہوا‘ جو این آر او کے باوجود جنرل مشرف اور بی بی کے درمیان ایک خلیج پیدا کر گیا۔جنرل مشرف نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بینظیر کے بارے میں کہا تھا کہ انہوں نے خاوند کا غلط انتخاب کیا (She made a wrong choice of a husband.) لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مکمل طور پر ماڈرن ہونے کے باوجود بینظیر بھٹو نے آصف زرداری کا خود نہیں انتخاب کیا تھا۔ یہ ایک ارینجڈ (Arranged) شادی تھی۔ دوسری جانب ایک روایت پسند اور مذہبی شریف فیملی کی نور چشم نے اپنے خاوند کا انتخاب خود کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بینظیر کی سیاسی زندگی میں مالی بدعنوانی کا ممکنہ عنصر آصف زرداری کی وجہ سے آیا۔ سرے محل اور کوٹیکنا کمپنی سے قیمتی ہار لینے کے الزامات لگے‘ ورنہ بھٹو کی بیٹی شروع میں ایسی نہ تھی۔