اگر تحریک انصاف نے معاہدے سے انحراف کیا تو کیا انقلاب آئے گا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد اظہار الحق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایک عذرِ لنگ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ٹیم اچھی نہیں! تو کیا کسی نے یہ ٹیم زبردستی مسلط کی ہے؟ خود ہی تو وزیر اعظم نے یہ ٹیم چنی ہے اور تشکیل دی ہے۔ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے

اور حکمران اپنی ٹیم سے! پچاس سے زیادہ افراد کے بجائے پندرہ بیس افراد کابینہ میں ہوتے مگر ایسے کہ ایک ایک فرد بیس بیس کے برابر ہوتا۔ ایسے کہ جن کی مناسبت، موزونیت، لیاقت، تجربہ اور اخلاص شک و شبہ سے ماورا ہوتا۔ ایسا ہوتا تو سارا منظرنامہ ہی مختلف ہوتا۔ جب تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی تو سب سے بڑی دلیل ہی اس کے حق میں یہی تھی کہ سب کو آزما لیا ہے تو تحریک انصاف کے لیڈر کو بھی آزما لیا جائے۔ مگر شومئی قسمت کہ جب تحریک انصاف کو حکومت ملی تو چُن چُن کر اُن افراد کو ذمہ داریاں سونپی گئیں جو ایک بار نہیں بار بار آزمائے جا چکے تھے۔ وہی پرانے چہرے!! مرغانِ باد نما کے ڈھیر لگا دیے گئے۔اندرونی بحران طاقت سے نہیں، حکمت سے نمٹائے جاتے ہیں۔ اپنے عوام پر طاقت کا استعمال جمہوریت کا نہیں آمریت کا شاخسانہ ہے۔ دھمکی والی جو زبان جنرل پرویز مشرف نے اکبر بگتی کے لیے استعمال کی تھی، اس زبان سے گریز کرنا چاہیے۔ نیت صاف ہو تو مذاکرات سے مسئلہ حل ہو سکتا ہے‘ لیکن اگر طرز عمل یہ ہو کہ معاہدہ کیا جائے، پھر اس معاہدے کو خاطر ہی میں نہ لایا جائے، وعدے پورے ہی نہ کیے جائیں تو اس پس منظر میں مذاکرات کی کامیابی کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ پھر مردانِ کار ایسے جو پانی ڈالنے کے بجائے آگ کو ہوا دیں، متضاد بیانات دیں اور اشتعال انگیز باتیں کریں، جن کی ساکھ ہی نہ ہو اور جن پر اعتبار ہی کوئی نہ کرے!اصل مسئلہ وہ دیوار ہے جو حکمران اپنے ارد گرد کھڑی کر لیتے ہیں۔ ایک حصار ہے جو ان کے گرد باندھ دیا جاتا ہے۔ اصل صورت حال سے انہیں جان بوجھ کر بے خبر رکھا جاتا ہے۔ حکمران اپنی اس مصنوعی دنیا میں گُم ہو جاتے ہیں اور مست رہتے ہیں۔ اپنی نوکریاں پکی کرنے کے لیے مفاد پرست مصاحب غلط مشورے دیتے ہیں۔ پھر جب طوفان سر پر آتا ہے تو کمال معصومیت سے پوچھتے ہیں کہ لوگ برہم کیوں ہیں؟ اسی معصومیت سے ہمارے وزیر اعظم نے کل کہا ہے کہ غربت کم ہو گئی ہے۔ پہلے زمانوں کے بادشاہ بھیس بدل کر شہروں میں پھرتے تھے تو اس میں یہی حکمت تھی کہ اپنی آنکھوں سے حالات دیکھیں اور اپنے کانوں سے عوام کی باتیں سنیں۔ مغربی ممالک کے حکمران برگر خریدنے کے لیے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں یا اپنا سودا سلف بازار سے خود خریدتے ہیں تو اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی زلہ خوار یا چرب زبان یا دروغ گو انہیں اصل حالات سے بے خبر نہیں رکھ سکتا۔ ناروے کا وزیر اعظم عوام کے خیالات جاننے کے لیے بھیس بدل کر ٹیکسی چلاتا رہا اور مسافروں کی باتیں سنتا رہا۔ خلفائے راشدین کی یہی وہ روایات ہیں جو دوسروں نے اپنا لیں اور کامیاب ٹھہرے!

Comments are closed.