اگر خدانخواستہ حکومت چلی گئی تو کپتان جی کے ساتھ کیا ہوگا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد عرفان صدیقی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دنیا کا کون سا عوامی لیڈر یہ چاہے گا کہ اس کے دورِ حکمرانی میں مہنگائی میں شدید اضافہ ہو اور اس کے ملک کے غریب عوام غربت کی چکی میں پستے چلے جائیں، پھر عمران خان جیسا عوامی

لیڈر جو 22سال کی طویل عوامی جدوجہد کے نتیجے میں اقتدار میں آیا ہو، جسے کراچی کے مضافاتی علاقے سے خیبرپختوانخواکے پہاڑوں تک بسنے والے اپنے پاکستانیوں کے مسائل سے آشنائی ہو، اس جیسا عوام کا درد رکھنے والا رہنما کیوں یہ چاہے گا کہ اس کے ملک کے عوام جن کی بہت بڑی تعداد پہلے ہی غربت کی سطح سے بھی نیچے زندگی گزاررہی ہے، وہ مزید مہنگائی کا بوجھ اٹھائے، وہ کیوںچاہے گا کہ اس کے ملک کے غریب عوام 173روپے فی لیٹر پیٹرول خریدیں، وہ کیوں چاہے گا کہ اس کے غریب عوام اس کے دور حکمرانی میں ایک سو دس روپے کلو چینی، اسی روپے کلو آٹا، ایک سو دس روپے لیٹر دودھ، بجلی، گیس اور پانی تک مہنگے داموں خریدیں، لیکن بطور وزیر اعظم عمران خان جیسا عوامی لیڈر بھی مجبور ہے، وہ گزشتہ تین برسوں سے خود بھی حالات کے جبر کا شکار ہے، کیونکہ تین سال قبل جب اقتدار ملا تو ملکی خزانہ بالکل خالی تھا، چند ہفتوں کے لئےزرِمبادلہ کے ذخائر خزانے میں موجود تھے، سابقہ حکومتیں اربوں ڈالر کے قرضے لے کر بھی خزانہ خالی چھوڑ کر گئیں تھیں، اور خزانہ بھی اتنا خالی کہ ملکی معیشت کسی بھی وقت دیوالیہ ہوسکتی تھی، ان حالات میں عمران خان کے سامنے دو ہی آپشن تھے، وہ حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے یا مقابلہ کرکے ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے، پھر ان کی وہی خاصیت جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے یعنی مشکل وقت میں حالات سے مقابلہ کرنا،

انہوں نے قوم کی خاطر مشکل حالات سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا، ان جیسا عوامی لیڈر جس کے اپنے اصول کے مطابق غیروں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بہتر موت ہو،اس نے اقتدار سنبھالنے کے فوراََ بعد ملکی خزانے کی حالت دیکھتے ہوئے اپنی انا اور اصول و ضوابط بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے دن رات ایک کردیے، انہیں ملکی معیشت کو بچانا بھی تھا اورچلانا بھی تھا، اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے، کبھی آئی ایم ایف سے ملکی معیشت کے لئے قرض کا سوال کیا تو کبھی سعودی عرب سے، کبھی متحدہ عرب امارات سے پاکستان کی معیشت کو بچانے کے لئے مدد مانگی تو کبھی اپنے اوورسیز پاکستانیوں سے کہ ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو بچانے کیلئے زیادہ سے زیادہ زرِمبادلہ بھجوانے کی درخواست کی، غرض پہلا سال ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے میں اور اگلا سال ملکی خزانے کو بھرنے میں نکل گیا، معاشی حالات بہتربنانے کے لئے عالمی اداروں سے بھاری قرض لینا پڑا، جس کے نتیجے میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تیزی سے کمزور ہوا، ملک میں اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھانا پڑیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا لیکن امید تھی کہ معیشت بہتر ہوگی تو لوگوں کی آمدنی بڑھے گی اور جیسے ہی معیشت بہتر ہوگی اشیائے صرف کی قیمتیں کم ہونا شروع ہوجائیں گی، اس عرصے میں عالمی وبا نے بھی عالمی اور پاکستانی معیشت پر منفی اثرات مرتب کئے لیکن پاکستان نے پھر بھی اپنی برامدات میں اضافہ کیا، لیکن پھر عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،

پاکستان کو پیٹرول، ایل این جی سمیت بھاری درآمدات اور قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی میں بھاری زرمبادلہ استعمال کرنا پڑا جس سے ایک بار پھر پاکستان کے زرمبادلہ پر منفی بوجھ پڑا، ایک دفعہ پھر پاکستان کوآئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا اس کی سخت شرائط کے سبب ایک بار پھر پاکستانی روپے کی شرح میں کمی ہوئی ساتھ ہی عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس سے ملک میں ایک بار پھر مہنگائی کا سیلاب آیا جس سے عوام کو تکلیف اٹھانا پڑی، لیکن بقول وزیر اعظم کے یہ وقتی تکلیف ہے جلد روپیہ دوبارہ مضبوط ہوگا، اشیائے صرف کی قیمتیں کم ہونگی، ملک میں ایک بہت بڑا گروہ ایسا بھی ہے جو قوم پر مشکل وقت دیکھ کر اپنے مفادات کے حصول کےلئے سرگرم ہوجاتا ہے، یہ منافع خور گروہ بھی سرگرم عمل ہے، آج اگر حکومت کو سالانہ پندرہ سے بیس ارب ڈالر کے قرض کی قسطیں ادا نہ کرنا ہوتیں تو پاکستان کی معیشت بہت بہتر ہوتی لیکن ماضی کی جو حکومتیں اس قرض لینے کی ذمہ دارتھیں آج وہ اپوزیشن میں جاکر عمران خان کی حکومت کو طعنے دے رہی ہیں، اس حکومت کو اس وقت بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے جس میں مہنگائی کا چیلنج ایسا ہے جو کسی بھی حکومت کو دنوں میں ختم کرسکتا ہے، پھر وزیر اعظم کو یہ بھی یقین رکھنا چاہئے کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں بعض وہ پرندے جو ان کی حکومت کے آنگن میں دانا چگتے نظر آرہے ہیں، ان میں سے ایک بھی وفا نہیں کرے گا، اس دعا کے ساتھ کہ آپ کی حکومت اپنی مدت پوری کرے

Comments are closed.