اگر سارے راز تمہیں بتا دوں تو میرے پلے کیا رہ جائے گا

لاہور (ویب ڈیسک) لگتا ہے سب کو احساس ہورہا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔مولانا فضل الرحمن کھلی وارننگ دے ر ہے ہیں ‘ دوسری جانب نواز شریف اور مریم نواز نے ایک قدم آگے بڑھ کر مقتدرہ پراٹیک کیا ہے۔اب یہ لڑائی اوپن ہوگئی ہے۔ ہر شعبے میں کچھ قواعد ہوتے ہیں

نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جن کا سب احترام کرتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے کے کتنے ہی دشمن کیوں نہ ہوں وہ بعض راز کبھی باہر نہیں نکالتے۔ پاکستان میں سیاستدانوں اورحساس اداروں کے سربراہوں اور نمائندوں کے درمیان خفیہ ملاقاتیں بہت پرانی ہیں۔ انہی ملاقاتوں میں ملک کی قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں ۔ ان ملاقاتوں کو آن دی ریکارڈ تسلیم کیا جاتا ہے نہ ہی خفیہ ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے لائی جاتی ہیں۔مجھے یاد ہے2013 ء میں آصف علی زرداری احتساب عدالت راولپنڈی کے احاطے میں موجود تھے‘ صحافی دوست شعیب بھٹہ اور محسن رضا نے اصرار کیا کہ میں اپنے اخبار میں زرداری صاحب کا انٹرویو چھاپوں۔ میں نے زرداری سے راز جاننے کی کوشش کی کہ پرویز مشرف سے کیا ڈیل ہورہی تھی؟ تو وہ روایتی مسکراہٹ کے ساتھ بولے: سائیں میں لمبی دوڑ کا گھوڑا ہوں اگر تمہیں راز بتا دیے تو پھر میرے پاس کیا رہ جائے گا؟ مجھ پر کون بھروسہ کرے گا؟ اُن کا مطلب تھا کہ پرویز مشرف کی حکومت سے جو رازونیاز چل رہا تھا وہ ان کے بارے میں زبان نہیں کھولیں گے۔ ایسے ہی خفیہ اداروں کے سربراہ یا کارندے رازباہر نہیں نکالتے اور نہ ہی خفیہ معاہدے یا خفیہ گفتگو کو سامنے لاتے ہیں۔ سیکرٹ ایجنسی کو علم ہوتا ہے کہ راز باہر نکالنا شروع کر دیں تو لوگ احتیاط کرنے لگ جاتے ہیں جس سے انفارمیشن ملنا بند ہوجاتی ہے اور اعتبار بھی ختم ہوجاتا ہے اور اگر اعتبار ہی ختم ہوجائے تو پھر پیچھے رہ کیا جاتا ہے؟

میجر عامر اکثر اپنے دور کی سحر انگریز کہانیاں سناتے رہتے ہیں۔ ان کی محفل سے ایک ہی بات سیکھی ہے کہ کسی بھی خفیہ ادارے کیلئے اپنے کسی بھی ٹارگٹ کا اعتماد حاصل کرنا کتنا اہم ہوتا ہے اور اگر وہ اعتماد ٹوٹ جائے تو پھر کچھ نہیں ملے گا۔ آپ کو اپنے ٹارگٹ یا سورس کا اعتماد جیتنا ہوتا ہے۔ میجر عامر کے پاس ایسی کہانیوں کے انبار لگے ہیں ‘کہ بندہ سنتا رہے اور وہ سناتے رہیں۔ بعض لوگ پیدائشی قصہ گو ہوتے ہیں ‘ میجر عامر بھی ایسے ہی ہیں ۔تو پھر اچانک کیا ہوگیا کہ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے راز کھلنا شروع ہو گئے؟ تو کیا دونوں اطراف ایک دوسرے سے مایوس ہوگئیں؟ انہیں پتہ ہے کہ جب تک موجودہ سسٹم چل رہا ہے ان کی جگہ نہیں بنتی‘ لہٰذا اگر کوئی رعایت نہیں مل سکتی تو پھر بہتر ہے کہ ہیرو بنا جائے؟ نواز شریف اور مریم نواز نے اپنے قابلِ بھروسہ محمد زبیر کو آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے پاس دو بار بھیج کر جان لیا کہ مزید رعایتیں نہیں ملیں گی؟ مریم نواز لندن نہیں جاسکتیں اور نواز شریف کی ضمانت میں توسیع نہیں ہوگی۔ تو پھر کیا ہونا چاہیے تھا؟ نواز شریف اور مریم نواز کے پاس ایک آپشن تھا کہ وہ کچھ مزید انتظار کرتے۔یہ بات بھی مجھے زرداری صاحب نے سمجھائی تھی ‘ جب ان سے پوچھا کہ قید میں کیا سبق سیکھا؟ تومسکرا کر بولے:قید آپ کو کچھ اور سکھائے یا نہ سکھائے لیکن صبر کرنا سکھا دیتی ہے۔

آپ جتنے پاورفل ہوں آخر ایک سپاہی کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں جو سلاخوں سے باہر ڈیوٹی دے رہا ہوتا ہے۔ دھیرے دھیرے آپ اپنی قسمت کا انتظار کرتے ہیں۔ جو لوگ انتظار اور صبر کرسکتے ہیں وہی ایک دن سکندر ٹھہرتے ہیں اور سیاستدان سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ کب لوہا گرم ہے اور ہتھوڑا مارنا ہے۔ تو کیا نواز شریف اور مریم نواز کو اس کا نروان ہوچکا ہے کہ یہی موقع ہے جب وہ مقتدرہ کو دبا کر اپنے لیے رعایتیں لے سکتے ہیں؟کیا مریم نواز اور نواز شریف نے اپنی کشتیاں جلا دی ہیں؟ واقفِ حال کہتے ہیں کہ نواز شریف نے جو سب سے بڑی قربانی دی وہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں تین سال کی توسیع کا ووٹ تھا۔ ان پر تنقید بھی ہوئی ‘ اس لیے کئی ماہ تک مریم نواز کا سمجھدار ٹوئیٹر اکاؤنٹ بھی خاموش رہا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ اچانک نواز لیگ کے بجھتے چراغوں میں جیسے نیا تیل بھر گیا ہو۔ سلمان شہباز نے لندن سے اپنے والد کے قہقہے لگاتے تصویر شیئر کی جس پر لکھا تھا‘ گیم چینجر۔ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں دھواں دھار تقریر کی جس میں انہوں نے حکومت کو بتایا کہ الیکشن ہوں گے اور ان کی شرائط پر ہوں گے۔ یہ سب کچھ اس وقت کہا جارہا تھا جب نواز شریف لندن جارہے تھے۔ اچانک نواز لیگ کے سب لوگ جو نیب کی قید میں تھے ان کی ضمانتیں ہونا شروع ہوگئیں اور نواز شریف کی جماعت میں جان پڑ گئی۔

اب اگلا ہدف یہ تھا کہ مریم نواز کو لندن بھیجا جائے اور یہیں پر کھیل خراب ہوا۔عمران خان صاحب کو لگا کہ ان سے ہاتھ ہوگیا ہے‘ لہٰذا انہوں نے اپنا پائوں درمیان میں رکھ دیا ۔ پہلے 26 اگست اور پھر سات ستمبر کو سابق گورنر محمد زبیر نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے دو ملاقاتیں کیں۔ وہ ملاقاتیں دراصل نواز شریف اور مریم نواز کیلئے مزید ریلیف لینے کیلئے کی گئی تھیں لیکن عسکری قیادت نے مزید رعایتیں دینے سے انکار کیا ۔ جب یہ دیکھا گیا کہ اب ان تلوں سے مزید تیل نہیں نکلے گا تو پھر اے پی سی میں بھرپور سٹینڈ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ محمد زبیر کی ملاقات اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوئی۔نواز شریف اور مریم کے ہاتھ جو بڑا کارڈ لگا وہ عاصم سلیم باجوہ صاحب کے متعلق ایک ویب سائٹ پر آنے والی خبر تھی۔ سیاسی لوگوں میں سے مریم نواز نے سب سے پہلے اس خبر پر زبان کھولی ‘ اُس وقت تک محمد زبیر کی ملاقات ہوچکی تھی‘ بلکہ انکار بھی ہوچکا تھا کہ مزید رعایت نہیں ہوگی۔ مریم اور نواز شریف کیلئے ایک آپشن تھا کہ وہ مزید انتظار کرتے ‘لیکن جب محمد زبیر نے بتایا کہ مزید کچھ نہیں ملنے والا تو پھر انہوں نے تُرپ کا پتہ کھیلا اور ان کا تُرپ کا پتہ عاصم سلیم باجوہ تھے ۔ دوسرا کارڈ مولانا فضل الرحمن تھے‘ جو پہلے ہی الیکشن میں زخم کھائے بیٹھے تھے۔ اب مقتدرہ کے لیے چوائس تھا کہ

وہ خاموش رہتے یا وہ بھی انکشاف کرتے کہ محمد زبیرمریم اور نواز شریف کے لیے رعایتیں چاہتے تھے جو نہیں دی گئیں۔ اس پر اب مریم نواز نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اس ملاقات میں مزید کیا باتیں ہوئیں وہ سب جانتی ہیں ۔ یہ وارننگ ہے جو مقتدرہ کو دی گئی ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ پاک فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں قومی اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے بعد ان کا حق بنتا ہے کہ انہیں سب رعایتیں دی جائیں‘ دوسری طرف دوسرا کیمپ یہ سمجھے بیٹھا تھا کہ نواز شریف لندن پہنچ چکے‘ نواز لیگ کے اکثر لوگ رہا ہوچکے بلکہ نواز لیگ کھڑی ہوچکی ‘ مزید انہیں کیا چاہیے؟مقتدرہ سے شریفوں نے وعدہ کیا تھا کہ نواز شریف لندن تو مریم نواز پاکستان میں خاموش رہیں گی ‘جبکہ نواز شریف کو یقین تھا کہ ان کی خاموشی کے بدلے مریم کو لندن جانے دیا جائے گا‘ مگر دونوں کام نہیں ہوئے۔ نواز شریف نے لندن سے خاموشی توڑ دی جسے مقتدرہ نے وعدہ خلافی سمجھا تو نواز شریف کے نزدیک مریم کو لندن نہ جانے دینا وعدہ خلافی تھی۔یہ شطرنج کے ذہین کھلاڑیوں کے درمیان جاری کھیل کا ڈراپ سین تھا ۔ جوخفیہ معاہدہ ہوا تھا وہ پورا نہیں کیا گیا تو دونوں نے تلواریں نکال لیں۔ دونوں کو اپنی اپنی جگہ لگا کہ ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔ انسانی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ سب کچھ معاف ہوسکتا ہے لیکن دھوکے کی معافی نہیں ہوتی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *