اگر سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ ہو جائے تو اسکا کیا زبردست فائدہ ہو گا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مجیب الرحمان شامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جناب وزیراعظم اور ان کے جانثاروں کی طرف سے خرید و فروخت کے وہ مناظر دکھائے جا رہے ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔ پرانی ویڈیوز جاری کر کے داد وصول کی جا رہی ہے،پیسے کے لین دین کے

فلمی مناظر دکھا کر اپنی پیٹھ آپ تھپتھپائی جا رہی ہے،لیکن یہ بتانے کی زحمت گوارا نہیں کی جا رہی کہ اس دھندے میں ملوث اُس شخص کو جو کیمرے کی آنکھ میں پورے کا پورا محفوظ ہو گیا ہے، خیبرپختونخوا کی حکومت میں وزیر قانون کے منصب پر کیوں فائز کر ڈالا گیا؟ یہ بھی پتہ نہیں چل رہا کہ ویڈیو ایک ہے، یا کئی ہیں، وزیراعظم نے کس کو، کب اور کہاں دیکھا، ان کی طرف سے کبھی تصدیق ہوتی ہے، اور کبھی تصدیق کی تصدیق نہیں ہو پاتی۔ سب سے بڑا لطیفہ یہ ہوا کہ پیسے والوں کے خلاف جہاد کرنے کا دعویٰ کرتے کرتے بلوچستان سے ایک انتہائی مالدار شخص کو ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔تحریک انصاف کے پارلیمانی بورڈ کی اس کارستانی پر اُس ہی کی بلوچستانی شاخ صدائے احتجاج بلند کر رہی ہے۔ جن صاحب کو یہ سعادت حاصل ہوئی ہے،وہ تحریک میں نو وارد ہیں حیران ہوں دِل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو مَیں۔ اب بھی وقت ہے کہ اہل ِ سیاست اوپن بیلٹ کے ذریعے انتخاب پر اتفاق کر لیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو ایک لمحے میں آئینی اور قانونی پیچیدگیاں ختم ہو سکیں گی…… اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی برسوں پہلے ”میثاق جمہوریت“ میں اس کا اقرار کر چکی ہیں۔ اس اقرار نامے پر محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ اور میاں محمد نواز شریف کے دستخط ثبت ہیں،لیکن اب ان جماعتوں اور ان کے حلیفوں کی جانب سے فرمایا جا رہا ہے کہ جب تک انتخابی اصلاحات پر وسیع تر اتفاق نہیں ہو گا، وہ جزوی تعاون بھی نہیں کریں گی۔ اس غیر منطقی منطق کی داد دینے والے بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں، اور امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ”سیکرٹ بیلٹ“ سے انتخاب ہو گا تو حکومتی صفوں میں موجود باغی کھل کھیلیں گے یوں اقتدار کے ماتھے پر ہزیمت کا داغ لگ جائے گا ۔۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *