اگر شہباز پرواز کر گیا تو سیاسی منظر نامہ کیا ہو گا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمد عامر خاکوانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔مسلم لیگ ن کے بارے میں روایتی طور پر دو باتیں کہی جاتی ہیں،پہلی یہ کہ پارٹی کے اصل قائد نواز شریف ہیں، ووٹ بینک ان کا ہے اور کارکن بھی ان کے گرد ہی دیکھتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ

شہباز شریف کبھی اپنے طور پر سیاست نہیں کریں گے ، وہ اپنے بڑے بھائی کا احترام کرتے اور اختلاف کے باوجود ان کے پیچھے چلنا ہی مناسب سمجھتے ہیں اور وہ کبھی الگ سیاست کا ڈول نہیں ڈالیں گے ۔ ایسے لوگ یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ شہباز شریف اچھے ایڈمنسٹریٹر تو ہوسکتے ہیں ، مگر وہ لیڈر میٹریل نہیں اور کارکنوں کے دل جیتنے کا ہنر نہیں جانتے ۔ اس بار ایک دو چیزیں مختلف ہیں۔ پہلی بار شہباز شریف کی سیاست پر ان کے والدین کے سائے موجود نہیں۔ وہ اپنے والد اور پھر والدہ کا بے حد احترام کرتے رہے اور کبھی ان کے کسی حکم کی سرتابی نہیں کی۔یہ دونوں بزرگ دنیا میں نہیں رہے۔یوں ان پراخلاقی دبائو اور قدغن نہیں رہی۔ دوسرا اب صرف شہباز شریف کا معاملہ نہیں بلکہ یہ شریف خاندان کی دوسری نسل کی سیاست کا فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز شریف کی صورت میں دو نہایت مختلف سوچ اور طرزعمل کے حامل امیدوار موجود ہیں۔شہباز شریف کے کسی فیصلے کا صرف ان پر اثر نہیں پڑے گابلکہ بیٹا بھی یقینی طور پر متاثر ہوگا۔ یہ وہ فیکٹرز ہیں جو پہلے موجود نہیں تھے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ن لیگی اراکین اسمبلی کا بڑا حلقہ بھی مفاہمت کے حق میں ہے کہ ایسی صورت میں ان کے لئے الیکشن لڑنا اور جتینا آسان ہوجائے گا۔ صورتحال الجھی ہوئی ہے ، حتمی طو رپر کچھ کہنا آسان نہیں۔انگریزی محاورے کے مطابق کئی اِف اینڈ بٹس(if and buts)موجود ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اگر مفاہمت کی بساط بچھائی گئی تو دوسری طرف سے کیا اور کس حد تک قابل اعتماد پیش کش ہوگی ؟ بہرحال نتیجہ جو بھی نکلے، پہلی بار عمران خان کی حکومت پریشان اور خوفزدہ نظر آئی ہے۔ شہباز شریف ڈاکٹرائن نے خان صاحب کومتفکرکر دیا ۔ نواز شریف کے بیانات کے برعکس شہباز شریف کی مفاہمت انہیں اپنی حکومت اور سیاسی مستقبل کے لئے زیادہ خطرناک لگ رہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *