اگر عمران حکومت کا اتحادی مینگل گروپ اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے تو

اسلام آباد ( ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کی وفاقی حکومت سے اچانک علیحدگی کے اعلان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ وفاقی حکومت بی این پی کے چار ارکان قومی اسمبلی سردار اختر جان مینگل، آغا حسن بلوچ، حاجی ہاشم نوتیزئی، اور ڈاکٹر شہناز بلوچ کی حمایت سے محروم ہو گئی ہے۔

اگرچہ وزیراعظم عمران کو ان کے دورہ سندھ کے دوران بی این پی کی وفاقی حکومت سے الگ ہونے کی اطلاع ملی ہے تاہم وفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں پچھلے تین چا روز سے وزیر دفاع پرویز خٹک اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سردار اخترمینگل سے ملاقاتیںہو رہی تھیں اور انہوں نے ان ملاقاتوں میں حکومت کو باور کرا دیا تھا کہ 6مطالبات میں سے ایک مطالبہ پر عمل درآمد نہیں ہوا، ہم نے 21ماہ انتظار کر لیا اب مزید انتظار نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بتا یا 417 افراد بازیاب ہوئے لیکن اس سے زائد افراد لا پتہ ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق پرویز خٹک نے ان سے کچھ مہلت مانگی تو انہوں نے کہا حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ میری پارٹی کا جس سے میں رو گردانی نہیں کر سکتا ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پرویز خٹک کی سربراہی میں قائم مذاکراتی کمیٹی کو فوری طور سردار اختر مینگل سے بات چیت کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے۔ کمیٹی ایک دو روز میں سردار اختر مینگل سے رابطہ کر ان کے تحفظات دور کرے گی اور مطالبات پر عمل درآمد کے لئے کچھ وقت مانگے گی۔ بی این پی سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن بنچوں پر نشستیں الاٹ کرنے کی درخواست دے گی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی تعداد158 ہے۔ بی این پی مینگل کے الگ ہونے پر اپوزیشن ارکان کی تعداد 162ہو جائے گی۔ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی تعدا د156ہے جب کہ اس کو 184ارکان حمایت حاصل تھی جو اب کم ہو کر 180رہ جائے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.