اگر مریم نواز کو گرفتار کیا گیا تو اس کا عمران حکومت کو کیا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کو بھی وہی کہنا پڑا جو نواز شریف نے کہا تھا کہ مجھ سے استعفا مانگنے کی جرأت کون کر سکتا ہے،بلکہ میرے حافظے میں تو ذوالفقار علی بھٹو کے الفاظ بھی محفوظ ہیں،جنہوں نے اپنی کرسی کے ہتھے پر ہاتھ مار کر کہا تھا کہ کوئی مجھ

سے استعفا نہیں لے سکتا،میری کرسی مضبوط ہے۔ نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ان سب کی باتوں سے ایک ہی تاثر ابھرتا ہے کہ پاکستان میں کسی قانون قاعدے یا آئینی طریقے سے استعفا مانگنے کی کوئی روایت موجود نہیں، جب بھی مانگا جاتا ہے کوئی نہ کوئی طاقتور عنصر موجود ہوتا ہے۔جب بھی ایسا مرحلہ آتا ہے تو یہ حقیقت بھی ظاہر ہونے لگتی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں اور بات کافی آگے بڑھ گئی ہے۔ یہ بات مان لینی چاہئے کہ جب سے نواز شریف نے اپنی خاموشی توڑی ہے اور موجودہ حکومت کو کھل کر للکارنے کا فیصلہ کیا ہے، صورتِ حال خاصی تبدیل ہو گئی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر آل پارٹیز کانفرنس سے نواز شریف وڈیو لنک خطاب نہ کرتے تو جتنا مرضی وہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کرتی اتنا زور شور پیدا نہیں ہونا تھا،کیونکہ اس سے پہلے بھی اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں کئی بار مشترکہ اجلاس کر چکی ہیں، کئی اعلامیے بھی جاری کئے گئے، لیکن سطح آب پر کچھ ظاہر نہ ہوا، آج ایک بدلی ہوئی صورتِ حال ہے اور خود حکومت اُس کی واضح تپش محسوس کر رہی ہے۔میرا خیال ہے حکومت اس عالم میں کئی غلطیاں کر سکتی ہے،مثلاً مریم نواز کو گرفتار کرنا ایک بڑی غلطی ہو گی، سنا ہے کہ دو روز پہلے اس کی کوشش بھی کی گئی اور جس کا تذکرہ مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کیا۔پاکستان کی تاریخ

اٹھا کر دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ تحریکیں کیسے کامیاب ہوئیں اور انہیں ایندھن حکومتوں کے فیصلوں نے فراہم کیا۔کسی بھی حکومت مخالف تحریک کی کامیابی کا پہلا زینہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت اسے سنجیدہ لینا شروع کر دے اور گھبراہٹ میں ایسے فیصلے کرے جو اُس کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہوں۔ بھٹو نے بھی اپنے خلاف چلنے والی تحریک کو دبانے کے لئے ساری سیاسی قیادت کو قید میں ڈال دیا تھا۔ ایم آر ڈی کی تحریک میں بھی یہی ہوا۔ پہلے ہی حکومت کے خلاف یہ تاثر موجود ہے کہ وہ نیب کے ساتھ مل کر مخالفین کو گرفتار کر رہی ہے۔ شہباز شریف کو گرفتار کرنے کی ٹائمنگ انتہائی غیر دانشمندانہ تھی۔اس کا واضح پیغام یہی گیا کہ حکومت نے پی ڈی ایم کی مجوزہ تحریک کو ناکام بنانے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے حالانکہ شہباز شریف کے باہر رہنے سے اپوزیشن کے احتجاج میں شاید وہ مزاحمتی شدت پیدا نہ ہوتی، جو اب نواز شریف کے خطابات اور مریم نواز کی پریس کانفرنسوں سے بننے والے ماحول کے بعد پیدا ہو سکتی ہے،اس تناظر میں اگر حکومت نقص ِ امن کی دفعہ لگا کر مریم نواز کو نظر بند یا گرفتار کر بھی لیتی ہے تو اس کا فائدہ اپوزیشن کو ہو گا،حکومت کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔شواہد یہی بتاتے ہیں کہ جوں جوں وقت گزرے گا، نواز شریف کا بیانیہ سخت ہوتا جائے گا۔ اس صورتِ حال سے ہوش مندی اور مدلل بیانیے کے ساتھ نہ نمٹا گیا تو معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جا سکتے ہیں، نواز شریف کی زباں بندی کا غالباً

ایک راستہ تو یہ ڈھونڈا گیا ہے کہ پیمرا نے تمام مجرموں، اشتہاریوں اور قانون کے بھگوڑوں کی ٹی وی کوریج پر پابندی لگا دی ہے۔اگرچہ نواز شریف کا اُس نوٹیفکیشن میں نام نہیں لکھا گیا،لیکن وہ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں،ایسا کرنے کی صورت میں سوشل میڈیا پر نواز شریف کے خطاب کی اہمیت بڑھ جائے گی۔اخبارات کو شاید اُن کی تقریر کے مندرجات شائع کرنے سے نہ روکا جا سکے،اس طرح آواز اگر بند ہو بھی گئی تو اُن کی باتیں ضرور لوگوں تک پہنچیں گی،سب جانتے ہیں کہ جب اس قسم کی صورتِ حال ہوتی ہے تو کہی گئی بات کا اثر بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ضیاء الحق کے زمانے میں سنسر شدہ اخبار خالی پیشانی کے ساتھ چھپتے رہے، لیکن وہ چھپے ہوئے لفظوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئے تھے۔نواز شریف اگر کشتیاں جلا چکے ہیں تو ان کا مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ بہرحال جمہوری قوتوں کے ساتھ انہوں نے اپنا مضبوط رابطہ رکھا ہوا ہے اور متحدہ اپوزیشن اُن کے خیالات ڈس اُون بھی نہیں کرتی، اس لئے وہ تنہا نہیں ہیں، پھر مسلم لیگ (ن) اُن کے ساتھ کھڑی ہے،یہ سب باتیں اس خطرے کی نشاندہی کر رہی ہیں، جو آنے والے دِنوں میں قومی سطح پر سیاسی انتشار کو پڑھا سکتا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی یہ بات درست ہے کہ خواہ مخواہ فوج سے محاذ آرائی قومی مفاد میں نہیں۔ انہوں نے بجا طور پر یہ بھی کہا ہے کہ موجودہ دور میں فوج اور حکومت کے درمیان مثالی ہم آہنگی ہے اور ہر قومی مسئلے پر دونوں کی سوچ و فکر میں کوئی تضاد نہیں،مگر انہیں یہ بات بھی پیش ِ نظر رکھنی چاہئے کہ اس حقیقت کی وجہ سے نواز شریف نے اُن کی بجائے انہیں لانے والوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔انہوں نے ایک دن پہلے جو تقریر کی اُس کا تو سارا لبِ لباب ہی یہ تھا کہ ملک میں جتنی مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن اور عوام کی زندگی اجیرن ہوئی ہے،اُس کی ذمہ داری عمران خان پر نہیں اُنہیں لانے والوں پر عائد ہوتی ہے۔ نواز شریف کی یہ سوچی سمجھی حکمت عملی ہے، جس کے ذریعے وہ عمران خان اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں، وہ فوج کو دباؤ میں لا کے حکومت کے خلاف ایکشن لینے کی راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ یہ کام اگرچہ آسان نہیں،کیونکہ عمران خان نے فوجی قیادت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پیدا کی ہوئی ہے اور ہر قومی مسئلے پر وہ فوج کا مشورہ ضرور لیتے ہیں،لیکن اس کے باوجود جب سڑکوں پر سیاسی انتشار بڑھتا ہے تو اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنے کئی فیصلے تبدیل کرنا پڑ جاتے ہیں۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ نواز شریف کو اپنے جارحانہ بیانیے سے روکا جا سکتا ہے اور نہ وزیراعظم عمران خان کو مجبور کیا جا سکتا ہے کہ وہ مفاہمت کی راہ اختیار کریں،کیونکہ وہ ایک بار پھر دو ٹوک انداز میں کہہ چکے ہیں کہ کسی صورت این آر او نہیں دیں گے۔ اس ڈیڈ لاک کی فضا میں ملک کا سیاسی استحکام کس طرح برقرار رہے گا۔ یہ آج کا سب سے اہم سوال ہے،جس کا جواب دینا فی الوقت ممکن نہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *