اگر مزید چند ہفتے پنج شیر فتح نہ ہوتا تو کیا ہوسکتا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف 20سال لمبی مزاحمت کی بدولت تالبان جبلی طورپر یہ جانتے تھے کہ برف باری شروع ہوتے ہی وادیٔ پنجشیر تک رسائی ممکن نہیں رہے گی۔ وہ سرماکے آغاز سے قبل اس وادی پر قبضہ نہ جماپائے

تو ان کے مخالف وہاں جمع ہوکر مزاحمت کا ایک مضبوط مرکز قائم کرلیں گے۔وہ یہ حقیقت بھی نہیں بھولے ہیں کہ نائن الیون کے بعد امریکہ نے طیش سے مغلوب ہوکر ان پر لڑائی مسلط کی تو شمالی اتحاد کے کمانڈروں ہی نے غیر ملکی افواج کو کابل تک پہنچنے کے راستے دکھائے تھے۔اس معاونت کے عوض انہوں نے بے تحاشہ ڈالر کمائے۔ان کی بدولت دنیا کے کئی شہروں میں قیمتی جائیدادیں خریدیں۔ بون معاہدے کے بعد حامد کرزئی کی قیادت میں جو حکومت بنی اس میں ان غیر پشتون ’’ٹوپک سالاروں‘‘ نے اپنے جثے سے کہیں زیادہ حصہ لیا۔وہ ڈالر سمیٹنے کی خاطر بے تحاشہ بے گناہ افغانوں کو قاعدہ یا تالبان کے لڑاکے بناکر امریکہ کے حوالے بھی کرتے رہے۔ فاتحین مفتوحہ ہوئے افراد اور گروہوں کو معاف کرنے میں وقت لگاتے ہیں۔اپنا اقتدار مستحکم کرلینے کے بعد ہی مفتوح ہوئے افراد یا گروہوں کے دل جیتنے کے لئے سرکار دربار میںکوئی مقام عنایت کرتے ہیں۔کوئی پسند کرے یا نہیں تالبان فی الوقت افغانستان کے فاتح ہیں جنہوں نے دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے ملک کو ذلت آمیز انداز میں اپنی افواج کو اپنے ملک سے نکالنے کو مجبور کیا۔اب وہ ایک لطیفہ والے ہاتھی ہیں۔ جسے بڑا جانور کہا جاتا ہے۔اب تالبان کی مرضی۔ انڈہ دیں یا بچہ۔

Comments are closed.