اگر میں یہ کام نہ کرتا تو شاید فن کا سلطان آج بھی زندہ ہوتا ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) اداکار سلطان راہی مرحوم کی کئی فلموں کے ہدایتکار حسن عسکری اپنی ایک تحریر میں بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔فلم ’’خان چاچا‘‘ میں اداکار ساون کا سپرنٹنڈنٹ کا کردار تھا اور راہی صاحب قیدی تھے۔ حسن عسکری نے کہا کہ ساون صاحب نے مجھے خود یہ واقعہ بتایا کہ میں قیدیوں کو ہنٹر سے مار رہا ہوں ،

میں نے ڈائریکٹر کو رائے دی کہ قیدی کو ایک جگہ پر کھڑا ہو کر ہنٹر مارنے کی بجائے گھوم کر ہنٹر ماروں گا۔ ساون صاحب ہنٹر مارنے کے بعد کھڑے ہو گئے۔ ڈائریکٹر فیلنگ کیچ کر رہا تھا۔ ساون نے کہا کہ ہنٹر لگنے کے بعد جب سلطان راہی نے میری طرف غصے سے دیکھا تو میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ یہ میں نے کیا کردیا کیونکہ جو ری ایکشن سلطان راہی کا تھا، وہ بہت زبردست تھا۔ اور پھر سلطان راہی، ساون کو پیچھے چھوڑ گئے۔ فلم ’’لائسنس‘‘ کے آخر میں پستول مصطفی قریشی کے ہاتھ میں چلا گیا، اس فلم میں سلطان راہی ہیرو اور مصطفی قریشی ولن کے رول میں تھے۔ سلطان راہی مصطفی قریشی سے بدگمان ہو گئے، ان کو لگا کہ شاید مصطفی قریشی کو ان کے سامنے کھڑا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ محمد کمال پاشا صاحب مصطفی قریشی کے منظور نظر تھے۔ ’’لائسنس‘‘ فلم کی بدولت مصطفی قریشی ابھر کر سامنے آ گئے اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ سلطان راہی سے بہتر ہیرو ہیں اور ان کی پرسنلٹی بھی بہتر ہے۔ ان دنوں میں روزانہ سلطان راہی کو کمپنی دیا کرتا اور ان کو حوصلہ دینے کی کوشش کرتا تھا اور کہتا کہ کسی کو آنے سے کوئی نہیں روک سکتا، آپ نے بہت سے لوگوں کو پیچھے چھوڑ کر اپنی جگہ بنائی ہے، ابھی آپ کی بطور ہیرو ڈیمانڈ ختم نہیں ہوئی۔ اس دوران مصطفی قریشی کی چند فلمیں بطور

ہیرو کامیاب ہوئیں لیکن زیادہ تر ناکام ہوئیں۔ مصطفی قریشی کی ناکامی کے بعد سلطان راہی نارمل ہوگئے لیکن مصطفی قریشی نے اپنا بہت نقصان کیا اور کئی ایسی فلمیں نہیں کیں جن میں ان کو منفی کردار دیئے جا رہے تھے۔ حسن عسکری نے بتایا کہ سلطان راہی کہا کرتا تھا کہ اس کا چہرہ سینما اسکرین پر ایک لوپ کی طرح باربار اسکرین پر چلتا رہے۔ وہ لوگوں کے ذہنوں، سر پر سوار ہونا چاہتا تھا اور پھر اس نے اتنا کام کیا کہ وہ لوگوں کے ذہن میں نقش ہوگیا۔ اس کو دیکھ کر لوگ اپنے دل کی بھڑاس نکال لیا کرتے تھے۔ لوگ اس کو اپنا ترجمان سمجھنا شروع ہو گئے تھے۔ حسن عسکری کو آج بھی اس بات کا افسوس ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ سلطان راہی مارا ہی میری وجہ سے گیا ہے۔ اگر میری شوٹنگ نہ ہوتی تو ۔ میں ان دنوں سلطان راہی کو لے کر فلم پروڈیوس کر رہا تھا جس کا نام ’’دو جی دار‘‘ تھا۔ فلم میں ساری میگا کاسٹ تھی۔ سلطان راہی، مصطفی قریشی، شفقت چیمہ، صائمہ، بہار سب تھے۔ یہ فلم 90 فیصد مکمل ہو چکی تھی۔ میں سلطان راہی سے فلم کی ڈیٹ لینے گیا تو مجھے کہا کہ یار حسنی اسلام آباد میں چھوٹا سا کام نکل آیا ہے، تو تم شوٹنگ کینسل کر دو۔ وہ مجھ سے ڈرتا بھی تھا لیکن جب اس نے اپنے بچوں کی بات کی تو میں نے شوٹنگ کینسل کر دی۔ اس نے مجھے آگے کی ڈیٹس دے دیں۔ خیر کچھ دن بعد میں نے پھر شوٹنگ کنفرم کرنے کے لئے ملاقات کی تو مجھے کہنے لگا کہ اسلام آباد کا کام ابھی مکمل نہیں ہوا،

مجھے پھر اسلام آباد جانا پڑ جائے گا، تم شوٹنگ کینسل کردو اور آگے کی ڈیٹ لے لو۔ مجھے بڑا غصہ آیا۔ میں نے کہا کہ اتنے مصروف فنکاروں کو مینج کیا ہے تو میری منتیں کرنے لگا کہ تم فکر نہ کرو، سب فنکاروں کی میں منت کر لوں گا۔ خیر میں غصے میں نکل آیا۔ میرا شوٹنگ اسپیل پھر کینسل ہو گیا اور وہ اسلام آباد چلا گیا۔ اس نے تیسری مرتبہ مجھے ڈیٹس دے دیں۔ خیر اس کی دی ہوئی تاریخ سے ایک روز قبل میں نے تمام فنکاروں کو مینج کر لیا۔ جب سلطان راہی سے رابطہ کرنے لگا تو پتہ چلا کہ وہ اسلام آباد گیا ہوا ہے۔ مجھے شدید غصہ آیا کہ یہ میرے ساتھ کیا کر رہا ہے، تیسری مرتبہ میری شوٹنگ کینسل کرا دی ہے۔ رات کو سلطان راہی کا سیکرٹری شہباز مجھے ڈھونڈتا ہوا میرے پاس آیا اور سلطان راہی کا پیغام دیا کہ انہوں نے کہا کہ صبح پاکستان میں کسی کی شوٹنگ ہو یا نہ ہو، حسنی کی ضرور ہوگی، اس کو میرا فکر تھا کہ میں نے حسنی کی شوٹنگ کینسل کرا دی ہے لیکن اب کینسل نہیں ہونی چاہئیں۔ یہ میرے اور اس کے تعلق کی معراج تھی کہ ا س نے اپنے سیکرٹری کے ذریعے پیغام بھجوایا۔ شہباز نے کہا کہ صبح سات بجے سلطان راہی پہنچ جائیں گے، آپ بھی مینج کر لیں، تو خدا گواہ ہے کہ اگر صبح میری شوٹنگ نہ ہوتی تو شاید وہ رات کو گوجرانوالہ سے نہ نکلتا، وہ اگلے روز اطمینان سے لاہور پہنچ جاتا۔ میری شوٹنگ اور میرے تعلق کی اہمیت نے اس کو رات کو ہی سفر پر مجبور کر دیا اور راستے میں یہ سانحہ ہوگیا۔ میں آج بھی اس تکلیف میں ہوں کہ اگر میری شوٹنگ نہ ہوتی تو وہ اگلے دن آ جاتا۔ اس کو میرا بہت خیال تھا کہ حسنی کے حالات کمزور ہیں۔ سلطان راہی نے جو تاریخ مجھے دی تھی، اس تاریخ کو صبح شوٹنگ کے انتظامات کئے گئے۔ (جاری ہے

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *