اگر وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیتے تو آج کیا حالات ہوتے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ڈاکٹر ابراہیم مغل اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔انگریزی کی ایک کہاوت ہے “Right man for the right job” اپنے اتحادی پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب کی بجائے سپیکر پنجاب اسمبلی بنانا عمران کی اپنے نظریئے کے ساتھ پہلی بے وفائی تھی۔ کیونکہ اگر پرویز الٰہی عثمان بزدار کی جگہ ہوتے

تو اب تک مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں کافی حد تک کمزور اور پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ق) کو مضبوط کرچکے ہوتے۔ مستقبل میں مسلم لیگ (ق) اور زیادہ سیٹوں کے ساتھ پی ٹی آئی کی اتحادی ہوتی۔ لیکن عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ پی ٹی آئی کے پنجاب میں کمزور ہوجانے کے خوف سے پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ نہیں بنایا۔ حالانکہ پنجاب کے حالات بہتر ہونے سے پی ٹی آئی کو بھی اس کا بھرپور فائدہ ہوتا نا کہ صرف مسلم لیگ (ق) کو۔ دوسری طرف نیب کے خوف سے بیوروکریسی کا کھل کر کام نہ کرنا بھی وزراء بشمول وزیراعلیٰ پنجاب کی زبوں حالی کا موجب ہے۔ نیب کی طاقت بڑھانے سے بادیٔ النظر میں عمران خان کو دونوں طرح سے نقصان ہورہا ہے۔ سیاسی مخالفین پر کرپشن ثابت نہیں ہورہی اور بیوروکریسی کام نہیں کر رہی۔البتہ ایک با ت ہے، اور وہ یہ کہ اگر عمران خان کسی طوربیو رو کر یسی سے کا م لینے کے قابل ہو جا تے ہیں تو بہت حد تک ممکن ہے کہ وہ اپنے سیا سی مخا لفین پہ چوری ثا بت کر دیں۔ وگر نہ بیو رو کر یسی سے کا م لیئے بغیر سیا سی مخا لفین پر چوری ثا بت کر نا ان کے لیئے نا ممکن کا م کو ممکن بنا نے کا خوا ب دیکھنے وا لی با ت ہو گی۔ جہا ں تک عثما ن بز دا ر کو وزا رتِ عظمیٰ کے عہد ے پہ قا ئم رکھنے کے عز م وا لی با ت ہے تو کا ئنا ت کے بہت سے سربستہ راز وں کی طر ح یہ بھی ایک سمجھ میں نہ آ نے وا لا راز ہے۔ چند ایک مخصو ص صحا فیوں کو چھوڑ کر کسی ایک صحا فی کا نا م تو بتا ئیں جو بز دا ر صا حب کو سنجید ہ لینے پہ تیا رہو۔ تبد یلی کا لفظ جو عمران خان کی شہر ت کو مسلسل نقصا ن پہنچا ئے چلا جا رہا ہے ، ایک صو رت میں ان کی نیک نا می کا با عث بھی بن سکتا ہے اگر وہ عثما ن بز دا ر کو تبد یل کر دیتے ہیں تو۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *