اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہ ہوتے تو میرے ساتھ کیا ہوتا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کا اعتراف کیا اور کہا کہ اگر ڈاکٹر قدیر اُن کا ساتھ نہ دیتے تو آج وہ کہیں جنگلوں میدانوں میں دربدر پھرتے ہوتے۔

انہوں نے ڈاکٹر قدیر کے ہمراہ ایک یادگار تصویر ٹوئٹر اکاؤنٹ کی زینت بنائی جس میں وہ کسی میچ کے بعد گروپ فوٹو میں موجود ہیں۔ڈاکٹر قدیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان میرے لیے ایک متاثر کُن شخصیت تھے۔خان ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) کے لیے میچ کھیلنے کے بعد ماضی میں لی گئی یادگار تصویر کے کیپشن میں شعیب اختر نے لکھا کہ وہ ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے، اگر ڈاکٹر قدیر اور کے آر ایل کی ٹیم نہ ہوتی تو میں آج کہیں بیابان میں ہوتا۔خیال رہے کہ محسن پاکستان، نامور ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اتوار کے روز اسلام آباد میں انتقال کرگئے، انہیں سرکاری اعزاز کیساتھ سپردخاک کیا گیا۔85 سالہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اتوار کی علی الصبح پھیپھڑوں میں تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان 1936ء میں بھوپال میں پیدا ہوئے، وہ اہلِ خانہ کے ہمراہ 1947ء میں ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ڈاکٹر عبدالقدیر نے انجینئرنگ کی ڈگری 1967ء میں نیدر لینڈز کی ایک یونی ورسٹی سے حاصل کی، انہوں نے بیلجیئم کی ایک یونیورسٹی سے میٹلرجیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بعد میں ایمسٹرڈیم میں فزیکل ڈائنا مکس ریسرچ لیبارٹری جوائن کی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پسماندگان میں بیوہ اور 2 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر پورے ملک میں سوگ ہے ، حکومت نے قومی پرچم سرنگوں رکھنے کی ہدایت بھی کی ہوئی ہے ۔