اگر ہمیں بلایا گیا تو عدالت کو 200 فیصد مطمئن کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی (ویب ڈیسک)نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال نے کہا ہے کہ ثاقب نثار کی آڈیو یا رانا شمیم کا بیان حلفی ن لیگ نے لیک نہیں کیاسابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ حکومت نے فنڈز روکے تو الیکشن کمیشن آرٹیکل 220کے تحت براہ راست وزارت خزانہ

سے فنڈز حاصل کرلے گا،ایڈیٹر انویسٹی گیشن دی نیوز انصار عباسی نے کہا کہ عدالت نے اگر ہمیں نوٹس دیا تو انشاء اللہ عدالت کو بھی 200 فیصد مطمئن کریں گے۔سیکرٹری جنرل مسلم لیگ ن احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف کے کیسز کا رانا شمیم کے بیان حلفی یا ثاقب نثار کی آڈیو پر انحصار نہیں ہے، نواز شریف کے مقدمات کی سماعت کرنے والے جج ارشد ملک نے اپنی ویڈیو میں بہت کچھ تسلیم کیانواز شریف کے ٹرائل جج نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے مزید وقت مانگا تو انہیں الیکشن کی تاریخ 25جولائی سے پہلے کیس کا فیصلہ سنانے کا پابند کیا گیا، کس قانون کے تحت الیکشن سے پہلے نواز شریف کے کیس کا فیصلہ آنے کی پابندی لگائی گئی تاریخ میں پہلی دفعہ نواز شریف کے کیس میں مانیٹرنگ جج مقرر کیا گیا، پاناما پیپرز میں شامل 400لوگوں میں سے کتنے لوگوں کا اب تک ٹرائل ہوا ہے ثاقب نثار کی آڈیو یا رانا شمیم کا بیان حلفی ن لیگ نے لیک نہیں کیا ہے، رانا شمیم اگلی سماعت میں اوریجنل حلف نامہ پیش کرنا ہے اس کے بعد تبصرہ کیاجاسکتا ہے۔سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کوآئین نے تحفظ دیا ہوا ہے، الیکشن کمیشن کے وہ تمام پروٹوکول اختیارات ہیں جو سپریم کورٹ کو حاصل ہیں آئین کے آرٹیکل 222میں واضح لکھا ہوا ہے کہ ”ایسا ایکٹ جو الیکشن کمیشن آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات کم کرے اس ایکٹ کو تسلیم نہ کریں، اگر قومی و صوبائی اسمبلی ایسا ایکٹ پاس کردیتی ہیں

جو آئین کے آرٹیکل سے متصادم ہو اور اس کی غیرجانبداری پر حرف آرہا ہے تو اسے بھی الیکشن کمیشن تسلیم کرنے کا روادار نہیں ہے“۔ایڈیٹر انویسٹی گیشن دی نیوز انصار عباسی نے کہا کہ رانا شمیم کے خبر چھپنے کے بعد موقف لینے کی بات سن کر مجھے حیرانگی ہوئی، رانا شمیم شاید بھول گئے ہوں کہ میں نے خبر دینے سے قبل ان سے موقف لیا تھا ممکن ہے رانا شمیم دوسرے میڈیا کی بات کررہے ہوں کیونکہ جیو سمیت بہت سے چینلز نے خبر چھپنے کے بعد ان سے رابطہ کر کے موقف لیا تھا، رانا شمیم کی بات سے معاملہ میں ٹوئسٹ آگیا ہے اس سے مجھ سے محبت کرنے والوں کو چٹپٹی خبریں بنانے کا موقع مل گیا۔انصار عباسی کا کہنا تھا کہ میری خبر کے پانچویں پیراگراف میں واضح ہے کہ رانا شمیم سے میرا رابطہ کس طرح ہوا، رانا شمیم نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے بیان حلفی سے متعلق خبریں نہیں پڑھیں یہ میرے لیے تعجب کی بات ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رانا شمیم کے متعلق اتنا کچھ لکھا جارہا ہوں لیکن انہوں نے کوئی خبر نہ پڑھی ہو۔انصار عباسی نے کہا کہ عدالت نے اگر ہمیں نوٹس دیا تو انشاء اللہ عدالت کو بھی 200 فیصد مطمئن کریں گے، اگر میں نے کوئی جرم کیا تو میں سزا بھگتنے کیلئے تیار ہوں، میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے خلاف توہین کی پروسیڈنگ ہونی چاہئے تھی لیکن ایسا ہوا، میرے پاس رانا شمیم کے ساتھ ٹیلیفون اور واٹس ایپ پر کی گئی کالز اور میسجز کا تمام ریکارڈ موجود ہے، رانا شمیم نے مجھے واٹس ایپ پیغام میں کہا کہ آپ میرے دوسرے نمبر پر میرا میسج دیکھ لیں۔

Comments are closed.