اگلے الیکشن میں تحریک انصاف کو گزشتہ الیکشن کی نسبت زیادہ سیٹیں ملنے کا امکان

لاہور (ویب ڈیسک) ملک میں آئندہ الیکشن چار سیاسی دھڑوں کے درمیان ہوگا۔ جبکہ آئندہ الیکشن اگلے سال 2022 ء میں یا 2023ء میں منعقد ہوں دونوں صورتوں میں چا روں کھلاڑی ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے۔ ان میں تین متحارب قوتیں تحریک انصاف اور ان کی اتحادی جماعتیں، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ جس میں پاکستان

مسلم لیگ (ن) اور جمعیت العلمائے اسلام (ف) سمیت آٹھ جماعتی اتحاد اور پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں شامل ہوں گی جبکہ جماعت اسلامی آئندہ الیکشن میں اپنے علیحدہ تشخص کیساتھ میدان میں اترے گی۔ اس سلسلہ میں اس نے کسی سیاسی اتحاد کا حصہ بننے کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم علاقائی سطح پر اس کے کسی سیاسی اتحاد کا ساتھ دینے کے امکانات موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے مخالف عناصر کا خیال ہے کہ الیکشن 2022 ء میں ہوں گے تاہم اس بارے میں کوئی بھی رائے قبل از وقت ہے۔ تاہم تحریک انصاف کے منصوبہ سازوں کا اکیلے الیکشن میں حصہ لینے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آئندہ الیکشن میں موجود سیٹ اپ کے مقابلہ میں زیادہ نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے تین سالہ اقتدار کی کارکردگی عوام کے سامنے اپنی کامیابیوں کی صورت میں پیش کی ہے۔ پیپلز پارٹی نے جو حکمت عملی ترتیب دی ہے اس کا بنیادی فوکس سندھ اور پنجاب میں جنوبی پنجاب پر ہو گا اور بلوچستان میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہونے کی توقع ہے۔ ستمبر کے دوسرے ہفتہ کے دوران وہ جنوبی پنجاب میں ڈیرے ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پیپلز کے اندرونی حلقے بھی یہ تاثر دے رہے ہیں کہ الیکشن آئندہ سال کے دوران ہوں گے۔ الیکشن 2022ء میں ہونے کے کے حق میں مختلف دلیلیں پیش کی جا رہیں ہیں”۔ مشہور قومی اخبار (نوائے وقت) کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جس دن پیپلز پارٹی نے صوبہ پنجاب میں عدم اعتماد کی تحریک کی تجویز دی تھی اسی روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اسے مسترد کرنے کی خبر شائع ہوئی تھی اور بعدازاں لیگی رہنماؤں نے اس تجویز کو ناقابل عمل قرار دیا تھا۔ تاہم 2022ء میں الیکشن کے انعقاد کے بارے میں آٹھ جماعتی اپوزیشن کے اندر بھی ابہام موجود ہے۔

Comments are closed.