اگلے انتخابات الیکٹرونک ووٹنگ مشین سے ہونگے یا نہیں ؟ فیصلہ کب اور کہاں ہو گا ؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک)آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سے متعلق فیصلہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہوگا۔ قومی اسمبلی میں حکومت انتخابی اصلاحات ‘عالمی عدالت انصاف اورفوجداری قانون ترمیمی بل سمیت سات سرکاری بلز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سپرد کرنے میں کامیاب ‘اپوزیشن کے تمام حربے ناکام رہے

‘حزب اختلاف کے ارکان نے ایوان میں شدیداحتجاج کے بعد کارروائی کا بائیکاٹ کردیا ۔ اپوزیشن نے قراردیا ہے کہ حکومت بھی جعلی ہے اور اس کا مینڈیٹ بھی جعلی ہے ، چوروں کے ساتھ چوری روکنے پر مشاورت نہیں ہوسکتی‘حکومت نے آئندہ الیکشن کیلئے دھاندلی کی بنیاد رکھ دی ہے ‘ حکومت معاملہ بلڈوز کرنا چاہتی ہے ‘ اس طرح باہمی اعتماد کیسے بڑھے گاجبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ای وی ایم یا کسی اور چیز پر اعتراض اٹھانا الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار نہیں‘29ارب ڈالر بھیجنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنا ناانصافی ہوگی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کواسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا۔مشیرپارلیمانی امور ظہیر الدین بابر اعوان نے تحریک پیش کی کہ قومی اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ لیکن 90دن کی مقررہ مدت کے اندر سینٹ کی جانب سے منظور نہ کیا گیا انتخابات (ترمیمی دوئم) 2021ء غور اور منظوری کے لئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سپرد کیا جائے۔ قومی اسمبلی نے تحریک کی منظوری دے دی۔وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے تحریک پیش کی کہ قومی اسمبلی میں منظور کردہ لیکن 90 دن کے اندر سینٹ سے منظور نہ ہونے والے انتخابات (ترمیمی) بل 2021ء کو منظوری کے لئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سپرد کیا جائے۔اس کے بعد سپیکر نے تحریک رائے شماری کے لئے ایوان میں پیش کی جس کے بعد انتخابی اصلاحات بل 2021ء پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سپرد کردیا گیا۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ آج جو کچھ کیا جارہا ہے

یہ آئندہ الیکشن کو پہلے سے دھاندلی زدہ کرنے کی کوشش ہے ۔جب ایف بی آر کے سسٹم پر ہزاروں حملے ہورہے ہیں تو ای وی ایم جیسی مشین پر کیسے دھاوے نہیں ہوں گے۔ اگر پارلیمان کو بلڈوز کرکے قانون سازی کی گئی تو ہم آج سے اس کی مخالفت کریں گے۔ وزیرانسانی حقوق شریں مزاری نے کہا کہ خواجہ آصف نے غلط بیانی ‘حقائق کے برعکس بات کی۔انتخابی اصلاحات کمیٹی کی سفارشات میں ای وی ایم اور سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کاذکر تھا۔دھاندلی کے ان الزامات کو ختم کرنے کیلئے اے وی ایم لانا چاہتے ہیں۔جے یو آئی رہنما مولانا اسعد محمود نے بھی انتخابات ترمیمی بل 2021 کی تحریک کی مخالفت کر دی اور کہا کہ الیکشن کمیشن نے حکومتی تجویز پر اعتراضات اٹھائے ہیں‘ایک ایسی پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جس میں تمام جماعتوں کی نمائندگی ہو۔الیکشن کرانے میں اداروں کے تحفظات کو بھی کمیٹی میں دیکھا جائے۔جب تک اتفاق رائے پیدا نہ ہو تب تک بل کو اسمبلی میں پیش نہ کیا جائے۔ دھاندلی کی پیداوار حکومت چور دروازے سے قانون سازی چاہ رہی ہے ‘ متنازع قانون سازی کسی طور قبول نہیں‘اس سے ملک میں افراتفری اور ہنگامہ آرائی ہوگی ۔اسدقیصر نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت پر ہے کہ وہ کسی معاملہ پر متفق ہوتے ہیں یا نہیں۔ میں بطور ایوان کے کسٹوڈین کے اپنا کردار ادا کروں گا۔وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ کیا سمندر پار پاکستانیوں کا ملک پر کوئی حق نہیں۔ 29 ارب ڈالر ملک میں بھجوانے والوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنا ناانصافی ہوگی۔

اس دوارن محسن داوڑ کی جانب سے کورم کی نشاندہی کردی گئی۔ قومی اسمبلی میں کورم پورا نکلا۔ اپوزیشن اراکین کا ایوان میں شور شرابہ کیا ۔ اپوزیشن جماعتوں نے موقف پیش کر کے کاروائی کا بائیکاٹ کردیا ۔یکطرفہ کاروائی میں انتخابی بلز کی تحاریک پیش کی گئیں ۔وزیرقانون نے کہا کہ ای وی ایم کے حوالے سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا‘ای وی ایم یا کسی اور چیز پر اعتراض اٹھانا الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار نہیں۔الیکشن ترمیمی بل مشترکہ اجلاس میں بھجوانے کی تحریک منظور کرلی گئی ۔ انتخابی اصلاحات کا دوسرا ترمیمی بل بھی مشترکہ اجلاس کو بھیج دیاگیا ۔عالمی عدالت انصاف سے متعلق بل سمیت اینٹی انسداد زنا بالجبر، فوجداری قانون ترمیمی بل 2021ء، قومی پیشہ وارانہ و تکنیکی تربیتی کمیشن کے بلز بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے سپرد کردئیے گئے یہ بلز 90دنوں میں سینیٹ میں منظور نہیں ہوسکے ہیں۔اسی طرح حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام ، وفاقی حکومت املاک انتظام اتھارٹی آرڈیننس ، پبلک پراپرٹیز تجاوزات کا خاتمہ ، پاکستان فوڈ فلو اینڈ انفارمیشن آرڈیننس،برقی توانائی کی پیداوار تقسیم ترسیل، پاکستان بیت المال ، متروکہ وقف املاک بھی پیش کئے گئے ۔ دوران تحویل تشدد اور ہلاکت کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش، بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد درآمدات، برآمدات بنک آف پاکستان بل 2021 ایوان میں پیش،بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیئے گئے پاکستان ٹوبیکو بورڈ ، اقبال اکیڈمی پاکستان، نارتھ ویسٹ فرنٹیئر کانسٹیبلری ، پاکستان کوسٹ گارڈ، پاکستان رینجرز ترمیمی بل 2021 ایوان میں پیش اور متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردئے گئے ۔ہائر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور ہوگیا ہے ۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان ، قومی اقتصادی کونسل کی سالانہ رپورٹ 20-2019 قومی اسمبلی میں پیش کردی گئی ہے ۔بعدازاں فیڈرل سروسز ٹربیونل میں اراکین کی تقرری نہ ہونے کے خلاف توجہ دلاونوٹس قومی اسمبلی میں پیش ہوا۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیڈرل سروسز ٹربیونل کے اراکین کی منظوری کے معیار کا حال ہی میں تعین کیا ہے بہت جلد یہ آسامیاں پر کی جارہی ہیں۔ ایک ماہ کے اندر ٹربیونل کی اسامیاں پر کردی جائیں گی۔

Comments are closed.