اہم ترین ملک نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیا

لندن (ویب ڈیسک) کوسووو نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ یہ ملک اپنا سفارت خانہ بھی یروشلم میں کھولے گا۔ دوسری جانب سربیا نے بھی اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں حریف ملک سربیا اور کوسووو نے

تجارتی تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق کر لیا ہے جبکہ امریکا میں موجود ان دونوں ممالک کے رہنما اسرائیل کے حوالے سے اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لے آئے ہیں۔ سربیا پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کر چکا ہے لیکن اس نے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ کوسووو نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ سفارت خانہ یروشلم میں ہی کھولنے کا اعلان کیا۔اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کوسووو کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پہلا ایسا مسلم اکثریتی ملک ہو گا، جس کا سفارت خانہ یروشلم میں کھلے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا، ” امن کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور کئی دیگر ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے۔‘‘ٹرمپ انتظامیہ نے یکطرفہ طور پر سن دو ہزار سترہ میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے مئی دو ہزار اٹھارہ میں اپنا سفارت خانہ بھی وہاں منتقل کر دیا تھا۔ امریکا دیگر ممالک کی بھی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ وہ اپنے اپنے سفارت خانے یروشلم میں کھولیں لیکن فلسطینیوں اور یورپ کی طرف سے اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے کیوں کہ اس طرح اسرائیلی فلسطینی تنازعے کا دو ریاستی حل عملی طور پر ناممکن ہو جائے گا۔اس طرح ابھی تک چار ممالک یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر چکے ہیں۔ ان میں امریکا اور گوئٹے مالا بھی شامل ہیں۔ مشرقی یروشلم کو فلسطینی اپنی مجوزہ ریاست کا دائمی دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔ اسرائیل نے 1967ء کی لڑائی کے دوران اس پر قبضہ کیا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ اقتدار میں آنے کے بعد سے اسرائیل کی بھرپور حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں امریکی ثالثی میں متحدہ عرب امارات نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ متحدہ عرب امارات اسرائیل کو تسلیم کرنے والا پہلا خلیجی ملک تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.