اہم حکومتی شخصیت نے جاوید چوہدری کو اندر کی خبر دے دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔مسلم لیگ (ن) محمد زبیر کو پنجاب سے سینیٹ کا ٹکٹ دینا چاہتی تھی‘ یہ مریم نواز کی ٹیم میں شامل ہیں‘ ان کے قریب بھی ہیں لیکن پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں ان پر اعتراض کیا گیا اور یوں یہ ٹکٹ سے محروم ہو گئے‘

پارٹی کا دوسرا بڑا حیران کن فیصلہ راجہ ظفرالحق ہیں‘ راجہ ظفر الحق پیدائشی مسلم لیگی ہیں‘ 1993 سے ن لیگ میں ہیں‘ 86 برس کے سمجھ دار اور بردبار انسان ہیں‘ پانچ مرتبہ سینیٹر منتخب ہوئے اور اس لحاظ سے سینئر ترین پارلیمنٹیرین ہیں۔یہ اس بار بھی ٹکٹ کے امیدوار تھے لیکن میاں نواز شریف نے انھیں ٹکٹ نہیں دیا‘ کیوں؟ اس کے بارے میں خبر گردش کر رہی ہے‘ مشاہد اللہ خان زیادہ علیل ہیں‘ یہ ٹکٹ کے طلب گار تھے اور میاں نواز شریف علالت میں انھیں مایوس نہیں کرنا چاہتے تھے‘ یہ پرویز رشید کو بھی ہر صورت سینیٹ میں دیکھنا چاہتے تھے اور بیرسٹر اعظم نذیر تارڑ کے احسانات بھی فراموش نہیں کرنا چاہتے تھے چناں چہ راجہ ظفر الحق کی گنجائش نہیں نکل رہی تھی‘ یہ بہرحال راجہ صاحب جیسے سینئر سیاست دان کے ساتھ ظلم ہے‘ میاں نواز شریف کو چاہیے تھا یہ راجہ صاحب کو بلا کر انھیں اپنی مجبوری بتاتے تاکہ یہ ٹکٹ کی درخواست ہی نہ کرتے اور سیاست سے باعزت رخصت لے لیتے لیکن ان سے درخواست لے کر انکار کرنا یہ ان کے ساتھ ظلم ہے اور میاں نواز شریف کو اس چیز کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا یوسف رضاگیلانی کو اسلام آباد سے سینیٹ کے میدان میںاتارنا بڑا معنی خیز ہے‘ گیلانی صاحب سمجھ دار اور ہر قسم کے موسم سے گزرے ہوئے سیاست دان ہیں‘ یہ کبھی گیلی زمین پر قدم نہیں رکھتے‘یہ پارٹی کا اثاثہ بھی ہیں‘ پارٹی کا فیس ہیں‘ ان کی ہار پارٹی کی ہار ہو گی اور پارٹی اور گیلانی صاحب دونوں یہ نہیں چاہیں گے چناں چہ ان کو

وفاق سے الیکشن لڑانا ایک بڑی سیاسی چال ہے اور یہ چال صرف آصف علی زرداری ہی چل سکتے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ ن ‘ مولانا فضل الرحمن اور پی ڈی ایم کی دوسری جماعتیں یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیں گی لیکن انھیں اس کے باوجود مزید12 سے 15 ووٹ درکار ہوں گے اور یہ ووٹ کہاں سے آئیں گے؟یہ ایک ارب روپے کا سوال ہے‘ پاکستان تحریک انصاف کا خیال ہے پیپلز پارٹی ہمارے ووٹ چوری کرے گی‘یوسف رضاگیلانی کا مقابلہ حفیظ شیخ کے ساتھ ہے‘ آپ وقت کا ستم دیکھیے‘ حفیظ شیخ 18 مارچ 2010 سے 19 جون 2012 تک یوسف رضا گیلانی کے ماتحت رہے ہیں‘ گیلانی صاحب وزیراعظم تھے اور حفیظ شیخ ان کی کابینہ میں وزیرخزانہ لیکن آج یہ دونوں گلیڈی ایٹر بن کر ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے ہیں‘ اگر حفیظ شیخ یہ یدھ ہار جاتے ہیں تو پھر حکومت شدید بحران کا شکار ہو جائے گی‘ اس کا وزیر خزانہ بھی اُڑ جائے گا اور یہ عملاً وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد بھی ہو گا‘ عمران خان کو پھر وزیراعظم نہیں رہنا چاہیے‘ مجھے کل حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار بتا رہے تھے یوسف رضا گیلانی انڈراسٹینڈنگ کے ساتھ اسلام آباد سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ فیصلہ ساز قوتیں گیلانی صاحب کو موقع دے کر صادق سنجرانی کی تحریک عدم اعتماد میں 14 سینیٹرز کی چوری کا کفارہ ادا کرنا چاہتی ہیں‘ یہ قومی اسمبلی کے ساتھ سینیٹ بھی حکومت کے ہاتھ میں نہیں دینا چاہتیں‘ سینیٹ آنے والے دنوں میں ایک اہم کارڈ ہو گا اور یہ لوگ اس کارڈ کو اپنے ہاتھ میں رکھیں گے‘ یوسف رضا گیلانی آنے والے دنوں میں یہ کارڈ ثابت ہوں گے‘ یہ چیئرمین سینیٹ بن کر طاقت کے ترازو کو بیلنس رکھیں گے لہٰذاسینیٹ کے الیکشن ایک اہم سنگ میل ہیں‘ یہ سنگ میل مستقبل کی سیاست کا رنگ اور ڈھنگ طے کرے گا‘ پی ڈی ایم کا مستقبل کیا ہو گا اور حکومت کے آنے والے دن کیسے ہوں گے؟ یہ فیصلہ تین مارچ کی رات ہو جائے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *