اہم حکومتی عہدوں کے معاملے پر پاکستان ، قطر اور ایران ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سلیم صافی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا اور پورے افغانستان پر تالبان کے قبضے کے بعد صورتِ حال یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔ امریکہ کا امتحان ختم اور تالبان کا شروع ہوچکا ہے۔ گزرےکل تک افغانستان میں استحکام لانا، عوام کے جان و مال کا تحفظ

اور شہریوں کے لئے روٹی، کپڑے ،مکان، تعلیم اور صحت کا انتظام کرنا امریکہ یا اشرف غنی حکومت کی ذمہ داری تھی جبکہ عدم استحکام پیدا کرنے کی نسبتاًآسان ذمہ داری تالبان اور ان سے ہمدردی رکھنے والے ملکوں کی تھی۔ موجودہ تبدیل شدہ حالات میں سیاسی استحکام قائم کرنا، ملک میں امن و امان بحال کرنا اور شہریوں کے لئے روٹی، کپڑے، مکان، صحت اور تعلیم کا انتظام کرنے کا مشکل کام تالبان اور ان کے ہمدرد ممالک کی ذمہ داری بن گئی ہے۔ تالبان ڈسپلن اور قربانی کے جذبے کی وجہ سے اشرف غنی حکومت سے بہت آگے ہیں۔ان کی صفوں میں اتنی بدعنوانی نہیں جتنی سابق حکومت کے دوران ہورہی تھی۔ اس حوالے سے تالبان کا پلڑا بہت بھاری ہے لیکن انہیں اب بھی ایسے چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ان کے 20سال لڑائی میں گزرے ہیں جبکہ حکمرانی کے لئے ابھی ان کی کوئی تیاری نہیں تھی۔ ظاہر ہے لڑائی اور حکمرانی دو الگ الگ کام ہیں۔تالبان کے سامنے پہلا چیلنج تو حکومت سازی کا ہے اوراس ضمن میں انہیں پہلی فرصت میں داخلی اختلافات پر قابو پانا ہوگا، جن کے باعث حکومت سازی میں تاخیر ہورہی ہے۔ یوں تو سب تالبان ملا ہیبت اللہ کی قیادت پر متفق ہیں لیکن ایک غیرمرئی تقسیم سیاسی اور نظامی (عسکری) موجود ہے۔ بعض تالبان رہنما سیاسی محاذ پر بہت اہم ہیں لیکن لڑائی کے میدان میں ان کی حیثیت قابلِ ذکر نہیں جبکہ بعض لوگ لڑائی محاذ پر کلیدی حیثیت کے حامل تھے لیکن سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ان کے نام زیادہ نمایاں نہیں۔

چنانچہ ایک بڑا چیلنج ان دو قسم کے چہروں کو ایک ہی حکومت میں سمونا اور مطمئن کرنا ہے۔ اسی طرح ایک چیلنج یہ درپیش ہے کہ افغانستان کے جنوب، مشرق اور شمال کے درمیان توازن کیسے لایا جائے۔ تالبان کی زیادہ تر قیادت کا تعلق قندھار (جسے پشتو میں لوئے قندھار کہتے ہیں جس سے مراد صرف قندھار صوبہ نہیں بلکہ اس سے متصل جنوب مشرق کے تمام صوبے ہیں) سے ہے۔ دوسری طرف سراج الدین حقانی اور ان کے نیٹ ورک کا مزاحمت میں کلیدی کردار رہا اور وہ بڑے پکتیا (جسے پشتو میں لویا پکتیا کہتے ہیں اور اس سے مراد پکتیا اور اس سے متصل مشرقی صوبے ہیں) کی قیادت کررہے ہیں۔کابل شہر کا کنٹرول بھی ابتدا میں سراج الدین حقانی کی بدری فورس (بدری فورس لڑائی میں جان کی قربانی دینے والے ان کے بھائی بدرالدین حقانی کے نام سے منسوب ہے)نے سنبھالا۔ چنانچہ ایک بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ پکتیا اور قندھار کے درمیان توازن کیسے لایا جائے۔ حکومت سازی کے معاملے میں ایک اور بڑا چیلنج یہ درپیش ہے کہ صرف مغرب نہیں بلکہ پاکستان، ایران، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس کا بھی مطالبہ یہ ہے کہ انکلوسیو (سب پر مشتمل جامع) حکومت بنائی جائے جس میں تاجک، ازبک، ہزارہ، خواتین اور سابق حکومت کے اہم لوگوں کو بھی نمائندگی دی جائے لیکن تالبان کی صفوں میں موجود ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ ہم ان لوگوں کو اپنے ساتھ حکومت میں کیوں بٹھائیں جن سے 20سال لڑے ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ بھی ہے کہ حامد کرزئی، گلبدین حکمتیار اور عبداللّٰہ عبداللّٰہ جیسے لوگ اب چھوٹے عہدے نہیں لےسکتے

جبکہ بڑے عہدے ان کو تالبان دے نہیں سکتے ۔ ایک اور مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اب تالبان کی صفوں میں ایران کے اپنے فیورٹس ہیں، پاکستان کے اپنے فیورٹس ہیں، روس کے اپنے، تاجکستان کے اپنے، قطر کے اپنے جبکہ بعض کو تو امریکیوں نے بھی اپنے قریب کر لیا ہے۔ ایک کے فیورٹ کو اہم عہدہ ملتا ہے تو دوسرے ملک کو اعتراض ہوتا ہے اور دوسرے کو ملتا ہے تو پہلے کو اعتراض ہے ۔ جبکہ اس مرحلے پر کسی بھی پڑوسی ملک کو ناراض کرنا تالبان کے لئے خطرے سے خالی نہیں۔ایک اور چیلنج یہ درپیش ہے کہ تالبان کے کئی رہنما جن میں عبدالقیوم ذاکر اور سراج الدین حقانی جیسے لوگ شامل ہیں، اب بھی امریکہ اور اقوامِ متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔ تالبان کے یہ درجنوں رہنما امریکہ کی ایما کے بغیر بلیک لسٹ سے نہیں نکل سکتے۔ امریکہ نے ابھی سے افغانستان کے 9ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کردیے ہیں۔ اب تالبان اگر امریکہ کے مطالبات تسلیم کرتے ہیں تو ان کے لڑاکا لوگوں کے لئے وہ قابلِ قبول نہیں جبکہ ان کے بعض مطالبات چین، روس، ایران اور شاید پاکستان کے مفادات کے بھی خلاف ہوں گے لیکن اگر نہیں کرتے تو ان کی حکومت کو اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اقتصادی حوالے سے کسی حد تک امریکہ کے متبادل چین، روس، ایران اور پاکستان ہو سکتے ہیں لیکن یہ سب ممالک بھی غیرمشروط طور پر تالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے اور اس کا معاشی بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں۔ چین کا مطالبہ ہے کہ تالبان پہلی فرصت میں ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کا صفایا کرے۔

صورت حال اب یہ ہے کہ تالبان نہ تو پاکستان کو نظرانداز کرسکتے ہیں، نہ ایران کو ، نہ چین کو اور نہ روس یا وسط ایشیائی ریاستوں کو لیکن دوسری طرف مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف اس مرحلے پر طاقت کا استعمال کیسے کریں جو اس 20سالہ لڑائی میں ان کے شانہ بشانہ لڑتے رہے۔ایک اور چیلنج یہ درپیش ہے کہ گزشتہ 20برسوں میں افغان سوسائٹی کافی بدل گئی ہے۔ امریکی اپنے ساتھ جو کھربوں ڈالر لائے تھے، اس میں سے زیادہ حصہ لڑائی پر خرچ ہوا یا بدعنوانی کی نذر ہوا لیکن اس کے باوجود عام آدمی تک وہ پیسہ کسی نہ کسی شکل میں منتقل ہوا۔ افغانستان کے شہروں میں اقتصادی سرگرمیاں بڑھ گئی تھیں۔ ہر ملٹی نیشنل فوڈ چین کی برانچ کابل میں موجود تھی۔ جیسے بھی تھے لیکن افغان شہری اور بالخصوص بڑے شہروں کےباسی معاشی لحاظ سے خوشحال زندگی کے عادی ہو گئے تھے۔ دوسری طرف موبائل فون، ٹی وی چینلز اور مغربی دنیا کے ساتھ ربط ضبط کی وجہ سے نئی افغان نسل معاشرتی حوالوں سے بھی یکسر بدل گئی ہے۔ تالبان اس نئی نسل کو اپنے معاشرتی ڈھانچے میں شامل کرتے ہیں تو وہ ملک سے بھاگیں گے یا پھر کسی نہ کسی مرحلے پر بغاوت کا راستہ اپنائیں گے لیکن اگر اپنی پالیسیوں کو ان کے اور عالمی برادری کے سانچے میں ڈھالتے ہیں تو ان کی صفوں میں بغاوت کا خطرہ ہے۔ چنانچہ ان دو انتہائوں کے درمیان توازن قائم کرنا اور دونوں فریقوں کو مطمئن کرنا بھی تالبان کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

Comments are closed.