اہم شرعی مسئلہ

اگر شوہر چاہتا ہو کہ اپنی بیوی سے تعلق قائم کرے اور بیوی انکاری ہو ایسی حالت میں کہ انکار کی کوئی خاص دلیل بھی نہ ہو جیسے بیماری۔ وجہ صرف یہ ہو کہ اسکا دل نہ چاہتا ہو۔ لیکن شوہر اس سے تعلق قائم کرنا چاہتا کرتا ہو۔ شرعی نگاہ سے کیا یہ درست عمل ہے؟

کیا اسلام اسے بداخلاقی کہتا ہے ؟جواب: میاں بیوی کے درمیان فطری تعلق ی بہت ضروری ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتلایا ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے نہایت مہربانی اور پیار کے ساتھ پیش آئے اور صحبت سے پہلے اسے پیار و محبت سے جاذب کرے۔ اور کبھی بھی اس کے ساتھ سختی نہ کرے۔ اگر بیوی شوہر کے ساتھ مخصوص تعلق سے انکاری ہے تو ہو سکتا ہے کہ بیوی کو کوئی عذر لاحق ہو۔ شوہر کو چاہیئے کہ اپنی بیوی کی حالت سے خوب باخبر رہے۔ بیوی کو اس پر مجبور کرنا کہ اس سے پیار کرے، اسلامی طریقہ اور حل نہیں ہے۔ اسکے بجائے میاں بیوی کو متقابل تفاہم ہونا چاہیئے۔مشہور اسلامک سکالر زینب مصطفیٰ اس بارے میں لکھتی ہے کہ:میاں بیوی کے درمیان ملاپ تعلقات متقابل سطح پر استوار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ اپنی بیویوں کے بارے میں مہربان تھے۔ اور آپ ﷺ نے کبھی بھی انکو مجبور نہیں کیا ہے۔ بلکہ ان لوگوں کو منع فرمایا ہے جو اپنی بیویوں کے ساتھ پیار و محبت سے پہلے تعلق قائم کرتے ہیں (جیسے پیار و محبت کی باتیں) جو بیوی اور شوہر کے درمیان ایک جیسے سطح کا باعث بنے۔اسلیئے شوہر کو جاننا چاہیئے کہ نزدیکی تعلقات صرف تسکین کو نہیں کہتے بلکہ دونوں کے درمیان اچھے تعلقات کی مضبوطی ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.