اہم مقدمے کا فیصلہ اسحاق ڈار کے حق میں آگیا

لندن (ویب ڈیسک) پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے نیو وژن ٹیلی وژن (این وی ٹی وی) کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ لندن ہائی کورٹ میں جیت لیا۔ ٹی وی پر وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر اور رپورٹرز پروگرام کے چوہدری غلام حسین اور صابر شاکر

نے اسحاق ڈار پربدعنوانی ، منی لانڈرگ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کئے تھے، ان افراد کی طرف سے لگائے گئے الزامات میں کہا گیا تھا کہ اسحاق ڈار بدعنوانی اور منی لانڈرنگ میں ملوث تھے اور وہ پاکستان کے کئی بلین روپیہ لوٹ چکے ہیں، جنہیں غیر ملکی خفیہ اکائونٹ میں رکھا گیا ہے۔ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کا کنٹرول حاصل کیا اور اپنی بدعنوانی کو چھپانے کیلئے حکومتی عہدیدار کوسنگین وارننگز دیں۔ ہائی کورٹ میں معافی مانگتے ہوئے این وی ٹی وی نے قبول کیا ہے کہ اسحاق ڈار کیخلاف الزامات جھوٹے، من گھڑٹ اور بے بنیاد تھے، ٹی وی چینل نے اسحاق ڈار کو پہنچنے والی شرمندگی، تکلیف اور ہتک پر ہرجانہ اور قانونی اخراجات ادا کرنے پر اتفاق بھی کیا ہے۔ این وی ٹی وی نے پیر کی شام برطانیہ میں اپنے چینل پر اسحاق ڈار کی تصویر دکھاتے ہوئے معافی نشر کی، جس میں کہا گیا کہ 8؍جولائی 2019ء کو نشر ہونے والے رپورٹرز پروگرام میں چوہدری غلام حسین اور صابر شاکر نے دعویٰ کیا کہ اسحاق ڈار حکومت پاکستان کی چوری کی گئی رقم پاکستان واپسی کی اجازت ملنے پر واپس کرنے کیلئے تیار ہیں، یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان کے بینک اکائونٹ کا سراغ لگا لیا گیا ہے، جس میں ایک بلین ڈالر کے قریب مسروقہ رقم موجود ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اسحاق ڈار نے کسی شخص کو زندگی کے حوالے سے سنگین وارننگ دی ہے تاکہ اس کی ملک چھوڑنے کے حوالے سے حوصلہ افزائی ہو۔ ’’مسٹر اسحاق ڈار نے ہمیں مطلع کیا ہے

اور ہم یہ قبول کرنے کیلئے تیار ہیں، پہلے کہ انہوں نے پاکستان حکومت کا کوئی پیسہ چوری نہیں کیا، دوسرا یہ کہ مسٹر اسحاق کا کوئی بینک اکائونٹ نہیں ملا تھا، اس لئے مسروقہ رقم سامنے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تیسرا یہ کہ مسٹر ڈار پاکستان واپسی کیلئے پیسہ واپس کرنے کو تیار ہیں، یہ دعویٰ بھی جھوٹا اور من گھڑت تھا اور چوتھا یہ کہ مسٹر ڈار نے کسی کو وارننگز نہیں دی ہیں۔ شہزاد اکبر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے حوالے سے این وی ٹی وی نے معافی مانگی ہے اور کہا کہ 8؍اگست 2019ء کو نیو وژن ٹیلی وژن پر پاور پلے پروگرام نشر ہوا، اس پروگرام کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا کہ اس دور میں اسحاق ڈار فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے پاکستان میں ذمہ دار تھے، انہوں نے نامناسب طریقے سے یونٹ کے کام میں رکاوٹ ڈالی، اہم اداروں کے سسٹم تک رسائی سے روکا، جو اس کے کام میں معاونت کرسکتے تھے۔ یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسحاق ڈار نے یہ اقدامات ان افراد کو بچانے کیلئے کئے جو چوہدری شوگر ملز، منی لانڈرنگ کیس میں ملوث تھے۔ ’’مسٹر اسحاق نے ہمیں مطلع کیا ہے اور ہم ماننے کیلئے تیار ہیں کہ انہوں نے کبھی فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کا کام نہیں دیکھا، یونٹ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء کے تحت قائم کیا گیا تھا اور وہ براہ راست اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے تحت کام کرتا ہے، جس کے سبب اسحاق ڈار نے کبھی یونٹ کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالی اور نہ ہی انہوں نے مبینہ چوہدری شوگر ملز کیس سمیت کسی بھی صورت میں کسی کی حفاظت کیلئے کچھ کیا۔

معافی کے آخر میں کہا گیا کہ ہم اپنی نشریات کے سبب اسحاق ڈار کو پہنچنے والی تکلیف، شرمندگی اور پریشانی پر ان سے غیر مشروط طور پر معافی مانگتے ہیں اور ہرجانے کے علاو قانونی اخراجات بھی ادا کئے جائیں گے۔ شہزاد اکبر نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ عالمی سطح پر فنانشل انٹیلی جنس یونٹ ہے جو منی لانڈنگ کا پتہ لگانے کیلئے بنایا گیا اور یہ بہترین نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوانین کے مطابق یہ 2007ء سے موجود تھا لیکن گزشتہ پانچ برسوں میں ایک شخص نے اس ادارے کو کام نہیں کرنے دیا اور وہ شخص (سابق وزیرخزانہ) اسحاق ڈار تھے، جنہوں نے اس ادارے کو مفلوج کردیا۔ جب اسحاق ڈار گئے تو ایف ایم یو نے کچھ کام کرنا شروع کیا اور اسے کسی حد تک زندہ کردیا گیا، عالمی اداروں نے سافٹ ویئر کی مد میں فنڈز دیئے جو ایف ایم یو کو سپورٹ کرنے جا رہا تھا لیکن اسحاق ڈار نے انہیں رسائی حاصل نہیں کرنے دی، اب جب کہ وہ مفرور ہیں تو ادارے نے کام شروع کردیا ہے اور تمام لین دین سامنے آرہا ہے۔ لندن ہائی کورٹ میں کیس شروع ہوا تو اسحاق ڈار نے دعوی کیا کہ ٹی وی کے دو پروگراموں میں لگائے گئے الزامات کا مطلب یہ سمجھا گیا کہ انہوں نے حکومت پاکستان کے پیسے چوری کئے ہیں اور اگر انہیں وطن واپسی کی اجازت ملتی ہے تو وہ رقم واپس کرنے کو تیار ہیں، ان کے بینک اکائونٹس کا سراغ لگا لیا گیا ہے،

جس میں ایک بلین ڈالر تک کی بڑی رقم موجود ہے، انہوں نے کسی کو وارننگز نہیں دیں اور وہ فنانشل مانیٹرنگ یونٹ اور دیگر اہم اداروں کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کے ذمہ دار ہیں، بشمول چوہدری شوگر ملز منی لانڈرنگ کیس میں ملوث افراد کی حفاظت میں بھی ملوث تھے۔ مسٹر ڈار نے دعویٰ کیا کہ جو الزامات لگائے گئے وہ انتہائی سنگین اور ہتک آمیز تھے، جن میں انہیں مجرم قرار دیا گیا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان سے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا اور انہیں شرمندگی، تکلیف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسحاق ڈار نے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے اسے سیاسی مخالفین کو اذیت دینے کا حربہ قرار دیا اور ہرجانے کے علاوہ غیر مشروط معافی اور تمام الزامات سے دست برداری کا کہا۔ کیس کے نتیجہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ الحمداللہ مجھے برطانیہ کی ہائی کورٹ سے انصاف ملا ہے، مجھ پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی تھے، میں کبھی بدعنوانی یا غیر قانونی کام میں ملوث نہیں رہا اور کبھی کسی ادارے کیخلاف اپنا اثرورسوخ استعمال نہیں کیا، حکومت کے حامی میڈیا ہائوس اور شہزاد اکبر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا مقصد میری ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا لیکن اللہ سبحان و تعالیٰ بہت مہربان رہا ہے۔ ٹی وی چینل نے عدالتی عمل میں قبول کیا کہ الزامات جھوٹے، من گھڑت اور غلط تھے، ٹی وی چینل نے قبول کیا کہ مجھے بدنام کیا گیا اور میری طرف سے کوئی غلط کام نہیں کیا گیا، میں آزاد عدالتی عمل سے ملنے والی اس فتح پر اللہ کا انتہائی شکرگزار ہوں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے قائد محمد نوازشریف اور ان کے ساتھیوں کو سیاسی انجینئرنگ اور جھوٹ پر مبنی مہم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا لیکن خدا اپنی لامحدود رحمت سے ہماری ساکھ کو بچانے اور انٹرنیشنل کورٹس سے ہماری بے گناہی ثابت کرنے میں مدد کرتا رہا ہے۔ اسحاق ڈار نے ان تمام جمہوری رہنمائوں اور کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے کبھی ان الزامات پر یقین نہیں کیا اور وہ ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے رہے۔

Comments are closed.