ایاز امیر دل کی بات زبان پر لے آئے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پنجاب کی آب وہوا ایسی ہے یا کوئی اور وجہ ہے، حکمران یہاں کے کمزور دل ثابت ہوئے ہیں۔ کوتاہ اندیش اور کمزور دل۔ آج کل کی حالت بھی دیکھ لیں۔ جو گورنر صاحب ہمارے نصیب میں آئے ہیں‘

اُن کی سوچ ملاحظہ ہو، فرمان جاری کرتے ہیں کہ بی اے اور ایم اے کی سند لینے کیلئے ناظرہ کی صلاحیت ضروری ہوگی۔ اِن سے کوئی پوچھے کہ یہاں پنجاب میں دینی تعلیم یا تعلیمات کی کوئی کمی ہے کہ آپ کو یہ فکر لاحق ہو گئی ہے۔ لیکن جیسی سوچ ہو ویسا ہی انسان کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ کی بات ہی نہ کریں۔ خدا معاف کرے کہ ہم خواہ مخواہ کی غیبت میں پڑیں لیکن اُن کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ کرسی بڑی ہے اور قد چھوٹا۔ شاید اِن افواہوں میں مبالغہ ہو لیکن ہم سنتے ہیں کہ اپنا بہت کچھ کررہے ہیں۔ حضور ضرور کیجئے لیکن ہم گناہگاروں کا بھی کچھ سوچ لیجئے۔ ہمت اور سوچ ہوتی تو بہت کچھ کرسکتے تھے لیکن جہاں فقدانِ ہمت و عقل ہو وہاں بڑے سے بڑا ہتھیار ہاتھوں میں تھما دیا جائے آپ کچھ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کی ترقی کو روکے ہوئے کوئی بہت پیچیدہ مسائل نہیں۔ یہ عام فہم کی باتیں ہیں۔ تھوڑی سی ہمت ہو پاکستان کے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں‘ لیکن بیکار کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ بہرحال زیادہ کیا رونا پیٹنا۔ یہ امید ہی لگا سکتے ہیں کہ کبھی تو یہ چھوٹے چھوٹے مسائل حل ہو جائیں گے۔ زندگیاں آسان ہو جائیں گی۔ ظاہر و باطن میں فرق تھوڑا کم ہو جائے گا۔ کچھ نہ بھی ہو‘ پھر بھی معاشرہ ہمارا چل ہی رہا ہے۔ روتے ہیں کُڑھتے ہیں قائداعظم کی تصویر کا استعمال چھوٹے بڑے کاموں میں کرنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی کام چل ہی رہا ہے۔ایرانی تہذیب و تمدن کی ہم قدر کرتے ہیں لیکن مجھ جیسا شخص ایران میں کبھی رہنا نہ چاہے۔ وہاں جس قسم کی سختیاں روا ہیں ہم سے برداشت نہ ہوں۔تالبان کے افغانستان سے ہم گزرنا چاہیں گے۔ جیسے عرض کیا حالات وہاں سنبھلیں تو شاید وسطی ایشیا کے راستے آسان ہو جائیں لیکن تالبان کے افغانستان میں کبھی رہنا نہ چاہیں گے۔ بہت سے پاکستانی تلاشِ معاش کے سلسلے میں سعودی عرب میں رہتے ہیں لیکن ہمارے جیسا درست راستوں سے ہٹا ہوا وہاں مستقل قیام کا سوچ نہیں سکتا۔ ہمارے لئے اپنے تمام مسائل کے ساتھ یہی معاشرہ سب سے افضل ہے۔ سنا ہے بہت دبئی اور بنکاک کے بارے میں۔ کبھی جانا بھی ہوا ہے لیکن تین چار روز بعد دل اُکتا جاتا تھا اور پھر اِسی دھرتی کی یاد ستانے لگتی تھی۔

Comments are closed.