ایاز امیر نے اصل حقائق بیان کردیے

لاہور (ویب ڈیسک) سربراہانِ پنجاب اور بھی بہت آئے ہیں، لمبی ان کی فہرست ہے، لیکن جو حال آج کل پنجاب کی حکمرانی کا بنا ہوا ہے اسے سامانِ مذاق ہی کہنا پڑے گا۔ پولیس افسر اِن سے تعینات ہو نہیں رہے انہوں نے اور کیا کارنامے سرانجام دینے ہیں۔ دو سال میں صوبے

کے چھ آئی جی تو لگ چکے ہیں۔ نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جو آیا بے عزت نہیں تو خراب ہوکے گیا۔ اس بار بھی ایک تماشا بنا ہوا ہے۔ شعیب دستگیر کو کیوں لایاگیا کسی کو نہیں معلوم۔ کیوں ہٹایا گیا کوئی نہیں جانتا۔ شہباز گل‘ جو پی ٹی آئی کے ایک نمایاں ترجمان ہیں‘ فرماتے ہیں کہ پانچ کیا پانچ سو آئی جی تبدیل کرنے ہوں تو کریں گے۔ یہ معیارِ حکمرانی کی ایک جھلک نہیں معیارِ عقل کی ہے۔ لاہور شہر کا پولیس سربراہ ایک ایسے شخص کو لگایا گیا‘ جو آتے ہی متنازع ہوگیا ہے۔ آتے ہی ان صاحب نے کہاکہ کچھ ہی دنوں میں عوام کو تبدیلی نظر آنے لگے گی۔ کچھ دنوں کی انہوں نے زیادہ ہی مہلت مانگی۔ دو دن میں ہی اس بدقسمت خاتون کے ساتھ ہونے والے واقعے کے حوالے سے انہوں نے صوبہ بھر میں اپنا ڈھنڈورا پٹوا لیا ہے۔ یہ بدقسمت خاتون لاہور سے گوجرانوالہ بذریعہ سیالکوٹ موٹروے رات دیر سے جارہی تھیں۔ راستے میں ان کی گاڑی کا پٹرول ختم ہوگیا اور پھر یہ دو جانور نما آدمیوں کے ہتھے چڑھ گئیں۔ لاہور کے پولیس سربراہ نے تبصرہ فرمایاکہ چلنے سے پہلے انہیں پٹرول چیک کرلینا چاہیے تھا اور ویسے بھی سیالکوٹ موٹروے کے بجائے انہیں جی ٹی روڈ سے سفر کرنا چاہیے تھا۔ سوال پھر بنتا ہے کہ پنجاب کی حکمرانی کرکون رہا ہے۔ غلطی کس کی ہے، موجودہ چیف منسٹر کی یا اُنہیں چننے والوں کی؟ چنا تو وزیراعلیٰ کو جناب عمران خان نے۔

کون سے جوہر دیکھے جن کی بنا پہ یہ چناؤ ہوا‘ یہ اب تک صیغۂ راز میں ہے۔ کہتے ہیں ہماری بائیس سالہ جدوجہد تھی۔ کوئی اِن سے پوچھے ان بائیس سالوں میں آپ نے کچھ سیکھا بھی یا نہیں۔ پتا نہیں کن کن لوگوں کو اہم عہدوں پہ فائز کیا ہوا ہے۔ مکمل معاونت اداروں کی بھی ہے۔ جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اہم عہدوں پہ تعیناتی کیلئے ادارے بھی صلاح مشوروں میں شریک ہوتے ہوں گے۔ یعنی نہلوں کے چناؤ میں سب برابر کے شریک ہیں۔ہم جو عوام ہیں ہم پہ بھی سوال بنتے ہیں۔ رونے دھونے کا یہاں فائدہ کیا ہے؟ چلیں ہم نے دل کی وقتی بھڑاس نکال لی کہ فلاں نہلا ہے فلاں پرلے درجے کا نکمّا۔ ایسی باتوں سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اسلامی مملکت کی ایک چال ڈھال بن چکی ہے اور ہر چیز اس کے مطابق ہوتی ہے۔ فیصلہ سازی اور حکمرانی کے معیار گر چکے ہیں۔ اب تو کوئی میرٹ کی بات کرے تو ہنسی آتی ہے۔ یہ کہناکہ صرف پی ٹی آئی والے نکمّے ہیں مناسب نہ ہوگا۔ قابلیت نام کی چیز شاذ ہی نظر آتی ہے۔ جسے انگریزی میں mediocrity کہتے ہیں ہر جگہ اُس کا رواج بن چکا ہے۔ اردو میں mediocrity کوکیا کہیں گے۔ ہم قابلیت کے فقدان کے عادی ہو چکے ہیں۔ قابلیت کی کمی کے ساتھ نہ صرف رہ رہے ہیں بلکہ اس میں خوش بھی ہیں۔ ایسے میں کون سے اچنبھے کی بات ہے کہ پچھلے دو سالوں میں پنجاب کا چھٹا آئی جی تعینات ہواہے۔ بس سب چلتاہے۔

یہ جو آئی جی کی تعیناتی پہ تنازع کھڑا ہوا تو پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کا باقاعدہ احتجاجی اجلاس سنٹرل پولیس آفس لاہور میں منعقد ہوا۔ وہاں بڑی باتیں ہوئیں۔ جانے والے آئی جی کے حق میں بہت کچھ کہا گیااور کئی افسران نے کہا‘ چونکہ وہ آنے والے آئی جی سے سینئر ہیں اس لئے ان کے ماتحت کام نہیں کرسکتے۔ ان پی ایس پی افسران سے کوئی پوچھے کہ پوسٹنگ اور پروموشن والے معاملات میں دوڑ کے اجلاس منعقد ہوجاتے ہیں‘ کبھی لاء اینڈ آرڈر کی بگڑتی صورتحال پہ بھی ایسے اجلاس بلائے گئے ہیں؟ پولیس کی صفوں میں رائج کرپشن کے بارے میں کبھی اجلاس ہوا ہے؟ ذاتی انا کے معاملات ہوں بڑے دلیر بن جاتے ہیں، کبھی سننے میں نہیں آیاکہ عوامی مفاد میں بھی پولیس افسران نے کوئی احتجاج کیا ہو۔ اصولی طور پہ ہم کہتے ہیں کہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد دفتری تبدیلیاں اچھی نہیں ہوتیں لیکن دیکھا جائے تو پنجاب کے ایک عام آدمی کو کیا فرق پڑتا ہے کہ افسروں کی ترقی یا تنزلی کیسے ہورہی ہے۔ عام آدمی کا پالا تو تھانے سے پڑتاہے یا سڑک پہ کھڑے ہوئے کسی پولیس اہلکار سے۔ جنہیں ہم تگڑے آدمی کہہ سکتے ہیں انہیں پولیس کا خوف نہیں ہوتا لیکن بے وسیلہ لوگ پولیس والوں سے دوررہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔پچھلے دنوں میں ایک ہوٹل کے ہیلتھ سپا گیا ہوا تھا۔ وہاں سے فارغ ہوا تو گاڑی میں بیٹھے اپنی سرائے کی طرف جارہا تھا جہاں میرا اکثر لاہور میں قیام رہتاہے۔

گاڑی پنجاب اسمبلی کے پاس سے گزر رہی تھی کہ دو موٹرسائیکلوں پہ وردی میں ملبوس پنجاب پولیس کے چار نوجوان گاڑی کے ساتھ ہو لیے اور ہمیں رکنے کا کہا۔ ایک نوجوان موٹرسائیکل سے اُترا اور کہا: گاڑی کی تلاشی دو۔ میں نے اُسے اشارہ کیاکہ نزدیک آؤ‘ اور پھر اُس کی وہ کلاس لینا شروع کی کہ پیچھے والا موٹرسائیکل سوار وہاں سے فوراً بھا گا اور جس نے تلاشی کا کہا تھا وہ معافیوں پہ اُتر آیا۔ اس کے ساتھ والا اہلکار کہنے لگا کہ چھوٹے بچے ہیں جانے دیں جی۔ میں نے کہا: چھوٹے بچے پہلے یاد نہ آئے تھے جب تلاشی کا کہہ رہے تھے‘ لیکن وہ دونوں تقریباً ہاتھ جوڑنے پہ آگئے۔ میں نے پوچھا: کون سے تھانے سے ہو‘ تو پہلے والے نے کہا: تھانہ قلعہ گجر سنگھ۔ میرے ڈرائیور نے پیچھے سے کہاکہ کافی ہوگئی ہے ان کے ساتھ، جانے دیں۔ وہ کیوں آئے تھے میرے پیچھے؟ ہوٹل میں پرمٹ روم ہے اور جو پرمٹ یافتہ لوگ ہیں وہ ضروری سامان لے کے آتے ہیں۔ پورے لاہور میں تین چار ہی ایسے ہوٹل ہیں جن میں پرمٹ روم ہیں اوران کے گرد پولیس والے اس تاک میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کوئی ہاتھ آئے اور دیہاڑی بن جائے۔ اس واقعے سے ہرگز یہ تاثر نہ لیا جائے کہ ہمارا شمار معاشرے کے تگڑے لوگوں میں ہوتا ہے۔ بس یہ ایک مثال دی کہ جب پولیس والے دیدہ دلیری پہ آئیں تو کیا کچھ کر گزرتے ہیں اور جب ترلوں پہ آئیں تو بھی انتہا کی کردیتے ہیں بدعنوانی اور جرائم ہر جگہ ہوتے ہیں۔ بڑے بڑے ممالک ان چیزوں سے مبرّا نہیں‘ لیکن وہاں اور چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ قانون کی حکمرانی نعرے کے بجائے ایک حقیقت کا روپ رکھتی ہے۔ اگر معاشروں میں بگاڑ ہوتا ہے تواچھی روایات بھی بہت ہوتی ہیں۔ ہمیں تو یہ دیکھنا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں اتنا بگاڑ کیوں اورکیسے پیدا ہوگیاہے؟ اچھی روایات کہاں گئیں؟ قانون کی حکمرانی ایک تمسخر بن کے کیوں رہ گئی ہے؟ یہاں تو یہ لگتاہے کہ اپنی اوقات کے مطابق ہر آدمی پیسے بنانے میں لگا ہوا ہے، جائز طریقوں سے کم اور ناجائز طریقوں سے زیادہ۔البتہ یہ نہیں کہ حکمرانی سے فرق نہیں پڑتا۔ اچھے لوگ اہم عہدوں پہ تعینات ہوں تو فرق پڑتاہے‘ لیکن یہ جو موجودہ حکومت کرنے والے ہیں انہیں دیکھ کے تو واقعی گمان ہوتاہے کہ عقل اور سوچ نام کی چیزیں ان کے قریب سے بھی نہیں گزریں۔ اقتدار پر بٹھائے گئے تھے بڑی امیدوں کے ساتھ لیکن ایک مذاق بن کے رہ گئے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.