ایاز امیر نے اہم سوالات اٹھا دیے ، قوم کے لیے لمحہ فکریہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔غور سے اپنے آپ کو ہم دیکھیں، کوئی رمق زندگی یا شرارت کی ہم میں نظر آتی ہے؟ پوچھا جاتا ہے اولمپِک کھیلوں میں ہم میڈل کیوں نہیں جیت سکتے؟ زندہ لوگ میڈل جیتتے ہیں۔ یہاں جو حال قوم کا کیا ہوا ہے،

جن فرسودہ خیالات سے ذہنوں کو بھرا ہوا ہے اس سے وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے جس سے کوئی نمایاں کارکردگی دکھائی جا سکےپوری قوم کو لگا دیا ہے پلاٹوں کے کاروبار پہ۔ پلاٹوں کی کوئی اولمپک کھیلیں ہوں تو ہم سارے میڈل جیت جائیں۔ جو ہنرمند اِس کاروبار میں پڑے ہوئے ہیں ایسے ایسے کرتب دکھائیں کہ سب میڈل جیتنے کے ساتھ دنیا کو حیران کردیں۔ نہ سکولوں کا نصاب یہاں پہ ٹھیک سے مرتب ہو پاتا ہے نہ کالجوں اور جامعات میں وہ ذہنی آزادی ہے جس سے کوئی نئی سوچ پیدا ہو۔ پھر قوم کی پسماندگی کا ہم رونا روتے ہیں۔ہم تو چھوٹی موٹی چوریوں اور فراڈ کے ماہر ہیں۔ برطانیہ، روس اور انگلستان کے چور اچکے اپنے اپنے میدان میں ہمارے چور اچکوں سے کہیں آگے ہیں۔ ہمارے بدمعاش‘ اُن کا ذوق بھی اِتنا ہوتا ہے امریکہ میں مستند گروپس کے لوگ ایسی حرکتیں کرتے ہیں ؟ کہنے کا مطلب یہ کہ وہ قومیں جرائم کی دنیا میں بھی ہم سے آگے بالکل اِسی طرح جیسا کہ باقی چیزوں میں وہ ہم سے آگے ہیں۔ بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ گھٹن زدہ معاشرے نہیں ہیں۔ ذہن آزاد ہیں اور آزاد ذہن ہی نئی چیزوں کی تخلیق کے قابل ہوتے ہیں۔ یعنی ذہن آزاد ہوں تو آپ جرائم کی دنیا میں creative اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں بھی آگے۔ گھٹن کے شکار ذہن پست ہوتے ہیں۔ وہ کسی کری ایٹِو چیز کے قابل نہیں رہتے۔اپنی حالت تو ہم دیکھیں کہ خوش ہو رہے ہیں امریکہ کی افغانستان میں شکست پر۔

امریکہ نے ویتنام میں بھی شکست کھائی تھی۔ وہ عراق میں بھی کامیاب نہیں ہوا۔ ناکامی کا احساس ہوا تو ہاتھ مل کے بہت سال پہلے ویتنام سے نکلے اور حالیہ دور میں عراق سے فارغ ہوئے اور اب افغانستان سے بھی چلے گئے‘ لیکن اِن امریکی شکستوں کے بعد کیا ہم ایک بڑی طاقت بن گئے ہیں؟ امریکی ناکامی کے بعد ہم وہی فقیر کے فقیر۔ وہی ہمارا کشکول اور اُس کے استعمال میں وہی ہماری ہنرمندی۔ ترقی مغربی دنیا کر رہی ہے یا چین اور جاپان۔ اِس وقت نیا مقابلہ بن رہا ہے امریکہ اور چین کے درمیان۔ اِن مقابلوں میں ہمارا کوئی ذکر ہے؟امریکہ اب بھی دنیا کا طاقت ور ترین ملک ہے۔ افغانستان میں اُنہوں نے جھک ماری۔ وہ اُن کا میدان ہی نہیں تھا جیسا کہ ویتنام اُن کا میدان نہیں تھا۔ بڑے جب چھوٹوں سے فضول کی باتوں پہ لڑنے بیٹھ جاتے ہیں تو نقصان بڑوں کا ہوتا ہے۔ یہی حال امریکہ کا ہوا ہے۔ یہی حال اورنگزیب عالمگیر کا ہوا تھا جب اپنے آخری پچیس سال زندگی اور حکمرانی کے دکن میں گزار دیئے۔ مغل ایمپائر عروج پہ پہنچ چکی تھی اور اورنگزیب نے فضول کی جنگوں میں پڑ کر مغلیہ سلطنت کو تھکا دیا۔ اورنگزیب کی وفات کے بتیس سال بعد نادر شاہ ایران کی طرف سے چڑھ دوڑا ہوا تو اُسے کوئی روکنے والا نہیں تھا۔امریکہ کو ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔ رسوائی بھی ہوئی ہے لیکن ویتنام کی شکست کے بعد بھی اُس کی بھرپور رسوائی ہوئی تھی۔ امریکہ کی طاقت ختم نہیں ہوئی۔ 1978ء میں چین نے بھی ایک جھَک ماری تھی جب اُس نے ویتنام پہ دھاوا بولا ۔ ویتنام کے اندر تو گھس آئے لیکن ویتنامیوں نے لڑائی کا مزہ خوب چکھایا۔ چینی عقل مند تھے جلدی واپس چلے گئے۔ 1839ء کی پہلی افغان لڑائی میں برطانیہ نے تھوڑا نقصان اٹھایا تھا؟ سوائے ایک آدمی کے جو زندہ بچ کے آ سکا‘ برطانیہ کی ساری فوج ختم ہو گئی تھی‘ لیکن اِس شکست سے برطانوی ایمپائر ختم تو نہیں ہوئی تھی۔ ایک سو سال بعد تک بھی انگریز ہندوستان پہ حکمرانی کرتے رہے‘ لہٰذا امریکہ بھی اپنی شکست پر صبر کر لے گا ۔ پر ہم کہاں کھڑے ہیں، ہمارا کیا مستقبل ہے، ہمیں زیادہ فکر اس کی ہونی چاہئے۔

Comments are closed.